Breaking News
Home / اہم ترین / میڈیا دور حاضر کا سب سے موثر ہتھیار

میڈیا دور حاضر کا سب سے موثر ہتھیار

از:۔مدثراحمد:۔ایڈیٹرروزنامہ آج کا انقلاب،شیموگہ۔کرناٹک:۔9986437327

دوسری جنگ عظیم کے بعد ہٹلر نے خودکشی کرنے سے قبل جو خط دنیا کے نام لکھا تھااس میں اس نے کہا تھا کہ میں یہودی قوم صرف میری قوم کی دشمن نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی ہر قوم کی دشمن ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے انکی 50؍ فی صد قوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور 50؍ فی صد قوم کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا تاکہ دنیا دیکھے کہ آخر ہٹلر نے انکا صفایا کیوں کیا تھا اور اگر دنیا میں تیسری جنگ عظیم ہو گی تو وہ یہودیوں کی وجہ سے ہی ہوگی اور آج جو حالات ہمارے سامنے ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ تیسری جنگ عظیم عنقریب ہے ، لیکن یہ جنگ ہتھیاروں ، نیوکلیئر بموں اور ٹینکروں سے نہیں ہونے والی ہے بلکہ یہ جنگ سائیکالوجیکل وار یعنی نفسیاتی جنگ ہوگی ۔یہ جنگ میڈیا کے ذریعے سے انسانوں کے اندر ایک دوسرے کے تئیں اتنی نفرت پھیلا ئیگی کہ ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن ہوگا اور ذہنی تناؤ و ذہنی استحصال ہی تیسری جنگ کی بنیادیں ہونگی ۔ فی الوقت دنیا کے جو حالا ت ہیں وہ تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں ان حالات میں مسلمانوں سب سے زیادہ مظلوم ہیں چاہے وہ فلسطین کے معاملات ہو ں یا پھر شام کے مسلمانوں کے حالات ، عراق ، مصر ، پاکستان ، برما، بنگلہ دیش یہاں تک کہ ہندوستانی مسلمان بھی ظلم کے شکارہیں ۔مگر ترقی یافتہ ممالک میں مسلمانوں کو ہی ظالم ، دہشت گرد اور خونی قوم کا درجہ دیا گیا ہے ، بھلے ہی یہ حقیقت سے دور کی بات ہے اور سچائی جانی جائے تو مسلمانوں کو ایک امن پسند قوم کہا جاسکتاہے اور حقیقی مسلمان ہی امن پسند مسلمان ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی اس بات کو دنیا کے سامنے لانے والا کو ن ہے یہ سوال سب سے بڑاہے ۔ آج دنیا کے حالات کو جاننا ہے تو میڈیا کا استعمال ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو حقیقتوں سے آشنا کردے لیکن فی الوقت ہمارے اور آپ کے ہاتھوں میں اخبارات ہیں وہ حقیقت و سچائی کے برحق ہیں ، جن ٹی وی چینلوں پر ہم نیوز کے نام پروگرامس دیکھتے ہیں اس میں 90 فیصد خبریں یا تو مسلمانوں کے خلاف ہوتے ہیں یا پھر مسلمانوں کے عکس کو برعکس کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں کے پاس اگر ذرائع ابلاغ کے وسائل ہیں تو وہ صرف چند ایک اردو اخبارات اور کہیں پر گنے چنے میگزین سے جو غیروں کی پہنچ سے باہر ہیں ان سے ہماری تعریف ، ہماری سچائی ، ہمارا کردار ہم مسلمانوں تک ہی محدود رہتاہے اسکی مثال ایسی ہے کہ ہم خود اپنی پیٹھ تھپ تھپا رہے ہیں اورغیروں کے سامنے ہم پیٹھ پھیر کر کھڑے ہیں ۔ اگر ہم مسلمانو ں کو موجودہ حالات سے نپٹنے کے لئے کچھ کرنا ہے تو اسکے لئے دوہی راستے ہیں۔ ایک ہماری آنے والی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانا اور دوسرا کام مسلم میڈیا ہاؤز قائم کرنا جہاں پر سچی خبروں کی اشاعت و ترسیل ہو۔ میڈیا کتنا پاؤر فل ہتھیار ہے اس کا اندازہ ہم صرف اس صرف ایک چھوٹی سی مثال کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں کہ پچھلے دنوں دادری میں گاؤ کشی کے معاملے میں ایک بے قصور مسلمان کا قتل ہوا ، اس قتل کی واردات کو میڈیا نے جس طر ح سے فوکس کیا اسے ذرار دیکھیں ’’ گا ئے کا گوشت کھانے پر ایک ملزم کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ‘‘ پھر دوسری خبر ایسی تھی کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے ہندو بھڑک گئے اور مسلمان کا ہوا قتل ‘‘ یہاں ایک انسان کی جان سے بڑھ کر گائے کا گوشت مدعہ تھا آج میڈیانے بھرپور ہائی لائیٹ کیا ، اگر ان چینلوں کی نمائندگی مسلمان کرتے تو ہو اپنی خبر کو یوں لکھتے کہ ’’ ہندو شدت پسندوں نے مسلمان کو اتارا موت کے گھاٹ ، گاؤ کشی کا تھا الزام ‘‘ یا پھر یہ کہتے کہ انسان کی جگہ گائے نے لی ، ذبح کے بدلے ذبح ہوا انسان ۔لیکن ہمارے پاس ایسا کو ئی میڈیا نہیں ہے ۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ہمیں دنیا داری سے کیا مطلب ہم مسلمان تو اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز کا بدلہ دینے والا ہے ، اب میڈیا مسلمانوں کو بدنام کرے تو اسکا جواب بھی اللہ ہی دیگا ۔ یقیناًہر چیز کا خالق اللہ ہے اور ہر چیز پر جزاء و سزااللہ ہی دینے والاہے ۔لیکن قرآن میں اللہ نے اس بات کی بھی تذکرہ ہے کیا ہے کہ ’’ اللہ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت بدلے ‘‘۔ اب یہاں میڈیا کے تعلق سے بھی وہی بات آتی ہے کہ اگر مسلمان خود اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کے لئے وسائل نہیں بناتے ہیں تو اللہ کی جانب سے تو کوئی وسیلہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اسکے لئے الگ مخلوق کی آمد ہوگی ۔ اصل میں مسلمانوں نے اسلام کے چند محدود تعلیمات کو ہی اپنا کر اسلام کو محدود کردیا ہے ۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی چند احادیث پر عمل کرنا ہی مسلمانوں نے اپنا فریضہ سمجھ لیا ہے ، جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آئیگی کہ جرنلزم یعنی صحافت اسلام کا ہی ایک جز ہے ، آپ ﷺ کے زمانے میں اسلام کی تبلیغ کے لئے جو خطوط لکھے جاتے تھے وہ ایک طرح سے اخبارات ہی ہیں،جو عوام کے درمیا ن پڑھ کر سنائے جاتے تھے ، اسکے بعد خلفائے راشدین نے اس طریقے کو اپنا یا اور دین کی اشاعت کی، اسلام کے حریفوں کو خطوط کے ذریعے جواب دیا لیکن آج اس طرز کو ہم نے یہودی و سنگھیوں کا رواج سمجھ رکھا ہے ۔ اسلام میں کسی حق بیانی کو ظاہر کرنے سے کبھی منع نہیں کیا ہے حالانکہ اس وقت وسائل و طریقے الگ تھے اور اب کے وسائل و طریقے الگ ہیں لیکن ہم ان باتوں کوسمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں اور دین کو آڑ بنا کر ہمت نہیں کرپا رہے ہیں ۔ دنیا کے 98؍ فی صد میڈیا پر یہودیوں نے قبضہ کرلیا ہے ، ہندوستان کے 98فی صد حصہ پر سنگھیوں کا قبضہ ہے اور 99؍ فی صد مسلمان میڈیا سے دور ہیں ۔ اس ملک کے 17؍ کروڑ مسلمان اگر چاہتے تو ہر ایک کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک میڈیا ہاؤز کا قیام کرسکتے تھے لیکن ہمارے پاس ثواب جاریہ و ثواب الدارین کے لئے ہی منصوبے ہیں ۔ بقائے مسلمین اور فلاح مسلمین کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے ، آج مسلمانوں کی بقاء و فلا ح ممکن ہے تو صرف میڈیا کو ہی ہتھیار بنانے سے ہے ورنہ ہم پر فسطائی سنگھی و فسطائی طاقتوں کا شکار ہوتے رہینگے ۔ ایسی بات بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کے پاس اپنے ٹی وی چینلس نہیں ہیں ہمارے پاس بھی ٹی و ی چینلس موجود ہیں جن میں پیس ٹی وی ، آئی پلس ٹی وی ، کیو ٹی وی ، مدنی ٹی وی ، اے آر وائی مسلمانوں کے ہی چینلس میں شمار ہوتے ہیں لیکن یہاں سے صرف دین کی اشاعت کا کام کیا جارہاہے ، کچھ چینلس کے ذریعے سے نعت خوانی ، قرآن خوانی ، قوالیاں اور اسلامی روایتوں پر بحث و مباحثے ہوتے ہیں ، کچھ چنیلوں کو مسلمانوں کی اصلاح کے نام پر تشکیل دی گئی ہے تو کچھ چینلس اسلامی تبلیغ کے لئے منظر عام پر لایا گیاہے لیکن بتائیں کہ پورے ہندوستان میں کیا کوئی نیوز چینل بھی ہے جو داردی کے معاملے کی حقیقت کو پیش کرسکے ؟۔ مظفر نگر کی خون ریزی کی تصویر پیش کرسکے ۔ کشمیر میں ہورہے خونی کھیل کا عکس دنیا کے سامنے لاسکے ، مسلمان آئی اے ایس ٹاپر کا انٹرویو لوگوں کو دکھا سکے ، مسلم نوجوانوں کی کاگردگی کو لوگوں میں متعارف کراسکے ۔ ملک کے دیہاتوں و شہر وں کی حالت کو ملک کی حکومت کے سامنے رکھ سکے ۔ نہیں ، ایسا ایک بھی ٹی وی چینل مسلمانوں کے پاس نہیں ہے اور جو دوسروں کے پاس ٹی وی چینل موجود ہیں وہ مسلمانوں کو دہشت گرد بتاتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کو داعش کے نمائندے بتاتے ہیں ، مسلم اگر تین شادیاں کرتاہے تو اسے حوس کا پجاری کہتے ہیں ، مسلم شوہر اگر اپنی بیوی کو طلاق دیتاہے تو اسے عورتوں پر ظلم دینے والے مذہب کا پیرو کار کہتے ہیں ۔ مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کے لئے میڈیا میں گھنٹوں تبصرے و تبادلہ خیال کیا جاتاہے غرض کہ مسلمانوں اور اسلام کا جتنا کھٹاّ نکالنا ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ کام ان ٹی وی چینلوں پر ہورہاہے اور ہم اتنا کہہ کر خاموشی اختیار کررہے کہ بھائی میڈیا مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ میڈیا مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے لیکن کو ئی اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی زحمت گنوارہ کیوں نہیں کررہاہے ۔ ویسے مسلمان بدلہ لینے والی قوم ہے ، جب ایک مسجد کی کمیٹی میں اختلافات آتے ہیں تو ایک ہی گلی میں دوسری مسجد تعمیر ہوتی ہے ، ایک مدرسے میں اختلافات ہوتے ہیں تو اسی گلی میں دوسرا مدرسہ بھی مسلمان بنالیتے ہیں ، ایک مکتب میں انکی بات نہیں مانی جاتی ہے تو دوسرے مکتب میں کود پڑتے ہیں لیکن جب ایک میڈیا مسلمانوں کے خلاف بات کررہاہے تو اسکے مقابلے میں کیوں کوئی میڈیا قائم نہیں کررہاہے ، ہم مسلمانوں کو جہاں مقابلہ آرائی کے لئے اترناہے وہاں کام نہیں ہورہاہے اور جہاں اجتناب کرنا چاہئے وہاں پر آستین چڑھائے کھڑے ہوئے ہیں ۔ ہندوستان کے مختلف ریاستوں میں لگ بھگ 109؍ ٹی وی چینلس موجود ہیں جن میں اکثریت برہمن وادوں کے میڈیا ہاؤز ہیںیا پھر دوسری ذاتوں کے میڈیا ہاؤز پر برہمن و دوسری اونچی ذاتوں کے لوگوں کی گرفت ہے ۔ ایسے میں سوچنے کا مقام ہے کہ کیوں مسلمان اس سمت میں پہل نہیں کررہے ہیں ۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جو میڈیا اب تک سیکولر کہا جاتاتھا اسے بھی سنگھیوں نے خریدنا شروع کردیاہے اور یہاں تک کہ مسلمانوں کے درمیان پہنچنے کے لئے اردو میڈیا کے قیام کے لئے آگے آناشروع کیا ہے ، ممبئی کا انقلاب اخبار جو کبھی آزادی کی تحریک کا علمبردار تھا، مسلمانوں کی آواز تھا، مظلومین کی پکار کا کام کرتا تھا اسے آج سنگھ پریوار نے خرید لیا ہے تو دوسری جانب آر یس یس کی شا خ مسلم راشٹریہ منچ نے پیغام نامی اخبار کو جاری کیاہے وہیں ای ٹی وی اردو اور ذی سلام بھی صرف اردو زبا ن کی ترجمانی کررہے ہیں نہ کہ مسلمانوں کی ترجمانی کے لئے انکے پاس کوئی ایجنڈہ ہے ۔ جب ہر قوم میڈیا کی اہمیت کو جاننے کی کوشش کرتے ہوئے میڈیا کا قیام کررہی ہے تو مسلمان میڈیا کا شکار ہوکر بھی اسکے مقابلے کے لئے میڈیا ہاؤز کو قائم کرنے سے گریز کیوں کررہی ہے ۔ اس تعلق سے مسلمانوں کو سوچنے کی نہیں عمل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے آزادی کے بعد سے اب تک صرف سوچنے کا کام کیاہے اور سوچتے سوچتے کئی نسلیں ختم ہوگئی لیکن کام اب تک نہیں ہواہے ۔ اب ہماری سوچ کو ایک قدم آگے لانے کی ضرورت ہے ، جس طرح سے ہم زکوٰۃ کی رقم کو مدرسوں کے لئے استعمال کرنے کے لئے ضروری قرار دیا ہے اسی طرح سے میڈیامیں بھی سرمایہ لگانے کے لئے کچھ اصطلاحات لاکر ثواب کا طریقہ بناسکتے ہیں ۔ سوچیں غور کریں ،جس طرح سے وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اسی طرح سے میڈیا کے بغیرہمارا وجود نہیں ہے ۔ اہل علم حضرات ان باتوں کو سمجھ کر بھی سمجھانے سے قاصر ہیں اسلئے کہ ان با توں کو عام لوگوں تک پہنچانے سے انکا نقصان ہے اسلئے عام خود ان باتوں کو سمجھیں اور اپنے دماغ پر زور دیں ۔ یقینامسلما ن ہر ناممکن کام کو ممکن کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارا ایمان ہی یقین ہے اور ہمیں یقین ہے کہ جلد ہی اس سلسلے میں پیش رفت ہوگی اور مسلمان اپنے میڈیا ہاؤز کے قیام کے لئے پہل کرینگے ۔ انشاء اللہ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Ubu0O

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے