Breaking News
Home / اہم ترین / میں امن کا قاصد ہوں ، دہشت گردانہ حملے کے لیے کبھی کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کی : ڈاکٹر ذاکرنائیک

میں امن کا قاصد ہوں ، دہشت گردانہ حملے کے لیے کبھی کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کی : ڈاکٹر ذاکرنائیک

Zakir-Naik-1نئی دہلی، 15؍جولائی (ہرپل ونیوز/آئی این ایس انڈیا )عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ممبئی میں اسکائپ کے ذریعے پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس شروع ہوتے ہی ذاکرنائیک نے فرانس حملے کی مذمت کی۔ذاکرنائیک نے اس کے بعدہندوستانی میڈیا کے متعصبانہ رویے کی تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ بنگلہ دیش کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ہندوستانی میڈیانے میراٹرائل شروع کر دیا جوکہ غلط ہے۔ڈاکٹرذاکرنائیک نے کہاکہ میری تقریروں سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی ہے ۔بلکہ یہ میڈیا ٹرائل ہے جو میرے خلاف چل رہا ہے۔ڈاکٹر نائیک نے کہا کہ انہیں اس وقت جھٹکا لگا جب انہوں نے دیکھا کہ کئی شو میں پینلسٹ ان کے بیانات کو لے کر بحث کر رہے ہیں، اور وہ ان کے ناقص اور نامکمل بیان تھے۔انہوں نے کہا کہ میں امن کاقاصدہوں۔ہر طرح کے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ذاکر نائیک نے ایک سوال
کے جواب میں کہا کہ اسلام میں خودکش حملہ حرام ہے۔معصوم لوگوں کی جان لینا غلط ہے ،لیکن ملک کے مفاد میں خود کش حملے جائز ہیں ۔نائیک نے کہا کہ جان بچانے کے لیے شراب پینا بھی جائز ہے۔ڈاکٹرنائیک نے کہا کہ گزشتہ 7-8دنوں میں ان سے کسی بھی افسر نے رابطہ نہیں کیاہے۔کسی سرکاری افسر نے ابھی تک ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا ۔انہیں ہندوستانی حکومت یا ممبئی پولیس سے کوئی دقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقات میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے ذاکرنائیک سے پوچھا کہ وہ ملک کے مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟۔ ملک میں کتنے تعلیم یافتہ مسلمان ہیں یا کتنے مسلمان سرکاری ملازمت میں ہیں، تو ذاکر نائیک نے اس سے لاعلمی کااظہار کیا ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/VLgw0

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے