Breaking News
Home / اہم ترین / نئی نسل کا اسلام پراعتماد بحال کرنا اوراسلامی ثقافت سے جوڑنا بے حد ضروری:مہتمم جامعہ مولانا مقبول ندوی کا بیان

نئی نسل کا اسلام پراعتماد بحال کرنا اوراسلامی ثقافت سے جوڑنا بے حد ضروری:مہتمم جامعہ مولانا مقبول ندوی کا بیان

جامعہ میں دو روزہ بین الاضلاع مسابقتی پروگرام کا شاندار آغاز، پانچ سو سے زائد طلبہ کی شرکت

بھٹکل ( ہرپل نیوز ) 30:نومبر:جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں آج دو روزہ بین الاضلاع مختلف نوعیت کے مسابقوں کی دھوم دھام دیکھنے کو ملی ۔ جامعہ کے کانفرنس ہال میں ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس کے ذریعہ اس دوروزہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ افتتاحی تقریب میں مہتمم جامعہ مولانا مقبول ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں نئی نسل کا اسلام پر اعتماد بحال کرنا اور اسلامی ثقافت سے ان کو جوڑنا بے حد ضروری ہوگیا ہے ، مولانا نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل اس اعتماد کے ساتھ جیے کہ ہم جس دین کے ماننے والے ہیں وہی برحق ہے اور اسی پر چل کر فلاح ممکن ہے ، مولانا نے کہا کہ اس قسم کے مسابقوں سے طلبہ کو اسلامی شعائر اور اسلامی تہذیب سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس موقع پر نائب ناظم جامعہ مولانا عبد العلیم قاسمی نے ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہم پوری مذہبی شناخت کے ساتھ زندہ رہیں گے ۔ مولانا نے قاسمی نےپیغام دیا کہ حالات کتنے خراب کیوں نہ ہو لیکن ہم اپنی شریعت کے ساتھ پورے طور پر وابستہ رہیں گے ۔ ناظم جامعہ ماسٹر شفیع شاہ بندری نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اہل ایمان کو کسی سے گھبرانے کی قطعاًضرورت نہیں ہے ۔

پروگرام میں طلبہ کو دس زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ مشرف اللجنۃ العربیہ مولانا رحمت اللہ ندوی نے پروگرام کی تفصیلات دی۔مولانا رحمت اللہ ندوی نے کہا کہ ثانویہ اور عالیہ درجات کےلئے علحیدہ علحیدہ نظم کیا گیا ہے ۔ آج ہوئے پروگرام میں سیرت کوئز ، مسابقہ حمد و نعت ، ناظرہ حدر قرآن وغیرہ شامل ہیں ۔ کل جمعرات پروگرام کا دوسرا دن ہے جس میں عالیہ درجات کے طلبہ کے مابین اسلامی ترانوں کا مقابلہ بھی منعقد ہوگا ۔ دوروزہ تقریب کے لئے جامعہ میں بہترین انظامات کئے گئے ہیں ۔جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں طلبہ تنظیم اللجنۃ العربیہ کی جانب سےمنعقد اس پروگرام میں منگلور سے گوا تک کے اسکولوں اور مدارس کے طلبہ شریک ہیں جس سے جامعہ میں کافی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/cHiFp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے