Breaking News
Home / اہم ترین / نئے سال پرپی ایم مودی کا تحفہ،گھر بنانے اورمرمت کے لئے قرض پرسود میں چھوٹ

نئے سال پرپی ایم مودی کا تحفہ،گھر بنانے اورمرمت کے لئے قرض پرسود میں چھوٹ

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجسنی) ڈسمبر:وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے سال کے موقع پر ملک کے باشندوں کے لئے تحفوں کی بارش کرتے ہوئے آج کئی نئی اسکیمیں شروع کرنے اور کئی پرانی اسکیموں کا دائرہ بڑھانے کا اعلان کیا۔ ان میں وزیر اعظم کی ’آواس یوجنا‘ کے تحت گھروں کی تعمیر اور خریف اور ربیع کی بوائی کے لئے کسانوں کو قرض پر سود میں چھوٹ، چھوٹے کاروباریوں اور تاجروں کے لئے کریڈٹ گارنٹی بڑھانے اور حاملہ خواتین اور معمر شہریوں کے لئے خصوصی اسکیمیں شامل ہیں۔  مودی نے نوٹ بندي کے بعد پہلی بار قوم کے نام تقریباً 45 منٹ کے اپنے خطاب میں کہا کہ بینکوں میں اتنی مقدار میں پیسہ آ چکا ہے جتنا اب تک کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے بینکوں سے اس کا استعمال غریبوں، کمزور اور متوسط طبقہ کے لوگوں پر توجہ مرکوز کرکے اسکیمیں بنانےکی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ’آواس یوجنا‘ کے تحت شہروں میں گھروں کی تعمیر کے لئے نو لاکھ روپے تک کے قرض پر سود میں چار فیصد اور 12 لاکھ روپے تک کے قرض پر تین فیصد کی چھوٹ دی جائے گی۔ دیہی علاقوں میں اس اسکیم کے تحت گھروں کی تعمیر کا ہدف 33 فیصد اضافہ کے ساتھ نئے سال میں نئے گھر کی تعمیر یا پرانے گھروں کی توسیع کے لئے دو لاکھ روپے تک کے قرض پر حکومت سود میں تین فیصد کی چھوٹ دے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کے مسائل کے حل اور ان کی خرید و فروخت کی سہولت بڑھانے کیلئے کسان کریڈٹ کارڈ کو روپے کارڈ میں تبدیل کرنے اور کوآپریٹیو بینکوں اور کوآپریٹیو کمیٹیوں سے زرعی قرض لینے والوں کسانوں کے دو ماہ کا سود حکومت کی طرف سے ادا کئے جانے کا آج اعلان کیا ہے۔ مسٹر مودی نے نئے سال کی شام پر قوم کے نام خطاب میں نوٹ بندي کے بعد ملک کو ہوئے فوائد کا شمار کراتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی خرید و فروخت کی سہولت کے لئے اگلے تین ماہ کے اندر تین کروڑ کسان کریڈٹ کارڈ کو روپے کارڈ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ خریف اور ربیع کی بوائی کے لئے کسانوں کی طرف سے ضلع کوآپریٹیو سنٹرل بینکوں (ڈی سی سی بی) سے لئے گئے قرض پر 60 دن کا سود حکومت ادا کرے گی۔ یہ رقم سیدھا ان کے کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ساتھ ہی اگلے تین ماہ میں تین کروڑ کسان کریڈٹ کارڈوں کو روپے کارڈ میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ کسان ہر قسم کا لین دین اور اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے میں بھی ان کا استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے لئے کریڈٹ گارنٹی کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر دو کروڑ روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کریڈٹ گارنٹی کے تحت کاروباریوں کی طرف سے لئے گئے قرض پر طےحد تک حکومت ضمانت دیتی ہے جس سے اس پر سود کی شرح کم ہو جاتی ہے۔غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سی) سے لئے قرض پر بھی حکومت کریڈٹ گارنٹی دے گی۔ چھوٹے کاروباریوں کے لئے کیش کریڈٹ کی حد بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر ورکنگ کیپٹل قرض کی حد 20 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کی جائے گی۔ چھوٹے تاجروں کو بڑی راحت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے لئے ٹیکس کا حساب اب ان کے کاروبار کے آٹھ فیصد کے بجائے چھ فیصد پر کیا جائے گا۔

پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی بندی کے باوجود اپنی حکومت کو ملنے والے بے پناہ تعاون پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ملک بھر میں بینکنگ سسٹم کو معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 8 نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد سے ملک کو دوسری مرتبہ خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بینکنگ نظام سے متعلق صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے بینکوں میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے اپنی توجہ مرکوز کررہی ہے۔ نئے سال میں صورت حال بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔ ملک کے شہریوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان کے روشن مستقبل کے لئے لوگوں کو نوٹ بندی کی وجہ سے بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ قبل ازیں جب حکومت کی طرف سے کوئی نیا اعلا ن ہوتا تھا تو سرکار اور عوام ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجاتے تھے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب حکومت اور عوام مل کر لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 125کروڑ لوگوں نے ثابت کردیا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ہونے والی پریشانیوں کے باوجود ان کے لئے سچائی اور ایمانداری سب سے اہم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں حاملہ خواتین کی شرح اموات کم کرنے اور انہیں متناسب غذا فراہم کرنے کے مقصد سے چھ ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کرنے کا آج اعلان کیا ہے۔ مسٹر مودی نے نئے سال کی شام پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاملہ خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں یہ رقم براہ راست جمع کی جائے گی، جس سے وہ متناسب غذا لے سکیں گی اور اس سے حاملہ خواتین میں شرح اموات کم ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے حاملہ خواتین کو اس طرح کی مدد دینے کی ایک پائلٹ پراجیکٹ چلائی جا رہی تھی، جس کے تحت انہیں صرف چار ہزار روپے دیے جاتے تھے اور یہ پائلٹ پراجیکٹ صرف 53 اضلاع میں چل رہی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ نئی اسکیم کے تحت ملک کے 650 سے زائد اضلاع کو شامل کیا جائے گا اور حاملہ خواتین کو ہسپتالوں میں رجسٹریشن، زچگی کی سہولت اور ویکسینیشن کا کام ہو سکے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/30StF

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے