Breaking News
Home / اہم ترین / نئے سال کی تقریبات کے موقع پربنگلورومیں چھیڑخانی معاملہ پرابو عاصم اعظمی کا بھی متنازعہ بیان

نئے سال کی تقریبات کے موقع پربنگلورومیں چھیڑخانی معاملہ پرابو عاصم اعظمی کا بھی متنازعہ بیان

بنگلورو(ہرپل نیوز) 3/جنوری: ملک کے بڑے شہروں میں شامل بنگلورو کے پاش علاقے میں 31 دسمبر کی رات نئے سال کی پارٹی کرنا خواتین کو بھاری پڑگیا کیونکہ ایسی خواتین بھلے ہی اکیلی تھیں یا خاندان کے ساتھ، زیادہ تر کو چھیڑ خانی اور فحش تبصرے کا سامنا کرنا پڑا۔ 31 دسمبر کو 1500 پولیس والوں کی موجودگی میں خواتین سے بدسلوکی ہوئی تھی۔ اس معاملے نے ایک نیا موڑ اس وقت لے لیا جب ایس پی لیڈر ابو عاصم اعظمی نے اس کے لئے عورتوں کے پہناوے کو قصوروار قرار دے دیا۔ابو اعظمی سے پہلے کرناٹک کے وزیر داخلہ بھی اس طرح کے واقعات کے لئے خواتین کو ہی مجرم ٹھہرا چکے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ریاست کے وزیر داخلہ نے اس پورے واقعے کے لئے نوجوانوں کے رہن سہن کے مغربی طور طریقوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ابو اعظمی نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ جو عورت برہنہ گھومتی ہے اسے زیادہ ماڈرن اور فیشن ایبل کہا جاتا ہے۔یہ حالات ایسے وقت میں پیش آئے جب علاقے میں بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات تھی۔ قومی خواتین کمیشن کی صدر للتا كمارمنگلم نے پولیس کی سخت تنقید کی اور وزیر داخلہ جی پرمیشور کے تبصرے کے لئے ان کی تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، شہر کے ایم جی روڈ اور بریگیڈ روڈ پر ہزاروں مردوں کی بھیڑ نے خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور فحش حرکتیں کیں۔ یہ سب پولیس کے سامنے ہوتا رہا۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے اے این آئی سے کہا، 'نئے سال کے پہلے دن ایسے واقعے ہوتے رہتے ہیں۔ ہم احتیاط برت رہے ہیں۔ ' قومی خواتین کمیشن اور کرناٹک ریاستی خواتین کمیشن نے بھی واقعات کو لے کر پولیس اور انتظامیہ سے الگ الگ رپورٹ مانگی ہے۔پولیس نے کہا کہ وہ ہفتہ کی رات بریگیڈ روڈ اور ایم جی روڈ کے جنکشن پر ہوئے مبینہ واقعات میں شامل ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔ نئے سال کی پارٹی کے لئے یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر کی رات بھیڑ کنٹرول کرنے کے لئے 1500 پولیس اہلکار تعینات تھے، اس کے باوجود سماج دشمن عناصر نے خواتین کے ساتھ چھیڑخانی کی اور ان پر گندے اور فحش تبصرے کئے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اکیلے آئیں خواتین کو وہاں موجود خواتین پولیس اہلکاروں کی مدد لینی پڑی اور مردوں کو اپنے ساتھ آئی خواتین کو محفوظ لے جانے کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/j6abf

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے