Breaking News
Home / اہم ترین / نجی علاقے کے اسپتالوں میں صحت طبی میدان کی بڑھتی ہوئی تجارت تشویشناک ہے‘اسے روکنے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو حکومت سے تعاون کرنا ہوگا۔رمیش

نجی علاقے کے اسپتالوں میں صحت طبی میدان کی بڑھتی ہوئی تجارت تشویشناک ہے‘اسے روکنے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو حکومت سے تعاون کرنا ہوگا۔رمیش

بیدر۔(ہرپل نیوز،محمدامین نواز)21؍مارچ۔نجی علاقے کے اسپتالوں میں صحت طبی میدان کی بڑھتی ہوئی تجارت تشویشناک ہے‘اسے روکنے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو حکومت سے تعاون کرنا ہوگا۔ صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر مسٹر کے آر رمیش کمار نے یہ بات کہی۔قانون ساز کونسل میں سوال کے دوران کانگریس کے سرینواس مانے کے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ Treatment سے منع کرنے والے کسی بھی اسپتال کو بخشا نہیں جائے گا۔صحت طبی میدان میں ایک منظم مافیا چل رہا ہے۔اس مافیا خود کو حکومت سے زیادہ طاقتور سمجھتا ہے ‘لیکن حکومت اس کے آگے نہیں جھکے گی اور Treatment کے نام پر مال کی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔انھو ں نے کہا کہ حکومت یشسونی‘ واجپائی شری بشمول مُختلف طبی منصوبوں کے تحت Treatment کیلئے نجی شعبے کے اسپتالوں کو600کروڑ روپیے سے زیادہ رقم ادا کی ہے۔اب صرف30کروڑ روپیے ادا ئیگی باقی ہے۔اس رقم کی ادائیگی نہ کرنے تک نجی شعبے کے کچھ اسپتالوں نے سرکاری منصوبوں کے تحت مریضوں کو Treatment نہ دینے کی دھمکی دی ہے‘ لیکن حکومت نجی اسپتالوں کی من مانی کے سامنے نہیں جھکے گی۔ جو اسپتال علاج سے انکار کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر مسٹرکے ایس ایشور پا نے کہا کہ کئی نجی اسپتال سرکاری اسپتالوں سے بھی بہتر سروس دے رہے ہیں۔نجی شعبے کے تمام اسپتالوں کو مسترد کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر وزیر موصوف نے کہا کہ بلا شبہ نجی شعبے کے کچھ اسپتالوں سماجی دلچسپی کو دھیان میں رکھتے ہوئے بہترین خدمات دے رہے ہیں۔ ایسے اسپتالوں کو حکومت مبارکباد دیتی ہے‘ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کارپوریٹ اسٹائل کے کچھ اسپتال میں غیر ضروری ٹسٹ کرانے اور زیادہ فیس وصول کی دوڑ لگی ہے۔اس پر لگام لگایا جانا چاہئے۔بی جے پی کے رکن رامچندر گوڑا نے وزیر موصوف کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبوں کی اس من مانی روکنے کیلئے سخت اقدامات کرنا چاہئے ۔ اور ایسے سخت فیصلوں کا اپوزیشن کو حمایت کرنی ہے چاہئے ۔کانگریس کے رکن کے سوال کے جواب میں وزیر رمیش کمار نے کہا کہ آبادی کے تناسب میں کئی اضلاع میں بنیادی طبی مراکز کی تعداد کم ہے ۔ رائچور ضلع میں55بنیادی صحت مراکز ہیں ابھی ان میں سے49طبی مراکز میں ڈاکٹروں کی تقرری کی گئی ہے ۔باقی کے6طبی مراکز میں ڈاکٹرس کے تقررات کے عمل کو اس ہفتے مکمل ہوجائیں گے ۔ضلع کے4تحصیل طبی مراکز میں45خاص ڈاکٹروں میں سے 22عہدے مخلوعہ ہیں ۔ان خطوط کیلئے رائچور‘ بیدر‘ کوپل جیسے مراکز میں سروس سے انکار کررہے ہیں ۔ڈاکٹروں کو ماہانہ1لاکھ ر25ہزار کی تنخواہ بلا معاوضہ رہائش جیسی خصوصیات کی یقین دہانی دینے کے باوجود ڈاکٹر اپنی مرضی کے اضلاع میں ہی کام کرنا چاہتے ہیں ۔کانگریس رکن پرسن کمار کے سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ بچوں میں جان لیوا خسرہ اور روبیلا کی روک تھام کیلئے ریاستی ریاستی سطح پر ٹیکہ اندازی مہم کو لے کر کئی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں ۔اس کے باوجود اس مہم کو بے حد کامیابی ملی ہے۔اگر ریاست کے کچھ اضلاع میں بچوں کو ویکسن کا کام باقی ہے تو اس کی ٹائم لائنز کا اطلاق بڑھایا جائے گا۔ سال2015-16کے پہلے مرحلے میں مہم کے تحت 10, 70,771اور سال20116-17ء کے دوسرے مرحلے میں اب تک 9لاکھ62ہزار 800بچوں کو ویکسن دیا گیا ہے۔ان بیماریوں سے ریاست میں سال2014میں 13اور2016میں3بعوں کی موت ہوئی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/HsBMy

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے