Breaking News
Home / اہم ترین / اجتماعی عصمت دری کی شکار’’نربھیا‘‘ کو ملا انصاف۔چاروں گنہگاروں کی پھانسی کی سزابرقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ۔ فیصلہ پر نربھیا کے والدین کا تبصرہ۔ کہا لڑائی جاری رہے گی

اجتماعی عصمت دری کی شکار’’نربھیا‘‘ کو ملا انصاف۔چاروں گنہگاروں کی پھانسی کی سزابرقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ۔ فیصلہ پر نربھیا کے والدین کا تبصرہ۔ کہا لڑائی جاری رہے گی

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)5مئی: سپریم کورٹ نے دارالحکومت کے نربھیا اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں چاروں قصورواروں کی پھانسی کی سزا آج برقرار رکھی۔ جسٹس دیپک مشرا، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے چاروں مجرموں مکیش، پون، ونے اور اکشے کی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل ٹھكراتے ہوئے پھانسی کی سزا برقر رکھی۔ کورٹ نے نربھیا کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ حرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنگین جرم تھا اورريریسٹ آف دی رير(انتہائی شاذ و نادر) کے زمرے میں رکھا جانا مناسب ہے۔تینوں ججوں کا متفقانہ فیصلہ تھا لیکن جسٹس بھانومتی نے اس معاملے میں الگ سے اپنا حکم سنایا۔ وکلاء اور میڈیا سے بھری عدالت کے کمرے میں نربھیا کے والدین بھی موجود تھے۔ دارالحکومت کی ایک سریع الحرکت عدالت نے نربھیا کیس کے چاردں ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی، جسے دہلی ہائی کورٹ نے 14 مارچ 2014 کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے خلاف ان لوگوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ان چاروں کے علاوہ ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں ہی خود کشی کر لی تھی، جبکہ ایک دیگرنابالغ ملزم کو بچہ عدالت نےاصلاح گھر (بچہ جیل) بھیج دیا تھا۔ اس نے اصلاح گھر میں سزا کے اپنے تین سال پورے کر لئے ہیں۔ قصورواروں کی اپیل پر سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا پر روک لگا دی تھی۔ اس کے بعد تین ججوں کی بینچ کو یہ معاملہ بھیج دیا گیا تھا۔ کورٹ نے اپنی مدد کے لئے دو عدالت دوست مقرر کئے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ سے خوش ہیں نربھیا کے والدین ، لیکن کہا : لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی

نئی دہلی: نربھیا اجتماعی عصمت دری کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے قصورواروں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھے جانے پروالدین نے اسے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف ان کی بیٹی بلکہ پورے ملک کو انصاف ملا ہے ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد نربھیا کی ماں آشا دیوی اور والد بدری ناتھ سنگھ نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ آج پورے ملک کو انصاف ملا ہے اور اس سے مستقبل کے لئے یہ پیغام جائے گا کہ کوئی بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی کرے گا تو ایسی ہی سزا ملے گی۔ یہ مجرمانہ فطرت واے لوگوں کے لئے ایک سبق ہے ۔محترمہ آشا دیوں نے کہا کہ نابالغ کو سزا نہ ملنے کا انھیں دکھ رہیگا۔ انھوں نے کہا کہ قصورواروں کو پھانسی پر لٹكايے جانے تک وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گی اور آگے بھی لڑکیوں کے انصاف کے لئے کام کرتی رہیں گی۔نربھیا کے والد بی این سنگھ نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ عدالت نے ان کی آواز سنی اور انہیں اور ہر بیٹی کو انصاف ملا ہے۔ اس میں کچھ دیر ضرور لگی لیکن انہیں اب اس کی شکایت نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ قصورواروں کو جلد پھانسی دے دی جائے۔ سپریم کورٹ نے آج اپنے فیصلے میں کیس کے چاروں قصورواروں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی ہے۔

 نربھیا معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پرمختلف ردعمل کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نربھیا اجتماعی آبروریزی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر آج کہا کہ ہندوستان کی روح کو جھنجھوڑنے والے نربھیا معاملے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے یہاں ایک پیغام میں کہا، ’’میری ساری ہمدردی بہادر بیٹی کے بہادر اہل خانہ کے ساتھ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ کی جدوجہد ، جنسی تشدد کے خلاف جنگ لڑنے والی ہر عورت کی جدوجہد کی علامت بن گئی ہے۔اس سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں باقاعدہ بریفنگ میں کہا کہ کانگریس سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے اور ایسے معاشرے کی تشکیل کرنے کا اعلان کرتی ہے جس میں ایسے جرم نہ ہوں۔ چار سال کے بعد بھی معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے تناظر میں حالات نہیں بدلے ہیں۔ حکومت اور معاشرے کو ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جہاں خواتین کے خلاف تشدد نہ ہو۔ مسٹر سبل نے خواتین کے تئیں تشدد کے سلسلے میں قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا ذکر کیا اور کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد میں دہلی سب سے اوپر ہے۔ اس کی ذمہ داری طے کی جانی چاہئے۔ انہوں نے دیگر ریاستوں کا بھی ذکر کیا۔
نربھیا کو انصاف ملا : سونیاگاندھی ، پڑھیں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کس نے کیا کہا ؟

کانگریس کے ترجمان پرینکا چترویدی نے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’آخر میں انصاف ہوا‘‘۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ نربھیا دیگر عورتوں کا حق یقینی بنانے میں اور بھی بہتر بنانے کے لئے روشنی دکھائے گی۔ کانگریس لیڈر شرمشٹھا مکھرجی نے کہا کہ آخر کار نربھیا معاملے میں انصاف ہوا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی سوال کیا، ’’بالقیس بانو کیس کا کیا ہوا۔ ہمیں بلقیس بانو کے ساتھ آبروریزی کرکےاور اس کے خاندان کے افراد کا قتل کرنے والے درندوں کو سخت سے سخت سزا دلانے کے لئے جدوجہد کرنا چاہئے‘‘۔

خواتین اور بہبود اطفال کی وزیر مینکا گاندھی نے نربھیا اجتماعی عصمت دری معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خواتین کی سلامتی کی سمیت میں ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے میری خواہش ہے کہ جلد سے جلد اسے نافذ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے معاملکے کی سماعت کے بعد آج چاروں قصورواروں کو پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ خواتین کی سلامتی کی سمت میں بڑا قدم ہے اور ا سے سماج میں اعتماد بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو فیصلہ ہونے پر پانچ سال لگ گیا۔ یوں تو اس طرح کے معاملات میں کافی وقت لگتا ہے ۔ وزارت قانون اور ججوں کو اس سلسلے میں غور کرنا چاہئے کہ اس وقت کو کم کیسے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ملنے میں تاخیر ایک طرح سے انصاف نہ ملنا ہے۔فیصلہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خواتین کمیشن کی صدر للتا کمار منگلم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ واقعہ آئندہ کے لئے ایک نظیر بنے گا۔ نربھیا کیس کے بعد سے ہی لوگوں میں خواتین کے تئیں جرائم کو لے کر بیداری میں اضافہ ہوا اور قانون بھی بدلا ۔ادھر دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال نے کہا کہ یہ صرف نربھیا یا اس کے خاندان کی بات نہیں ہے ، بلکہ یہ سب کے لئے ہے۔ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ تمام ریپ کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/klhiP

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے