Breaking News
Home / اہم ترین / نظریات میں پائی جانے والی شدت کے خاتمہ کے بعد ہی باہمی اتحاد ممکن ۔سالیڈرایٹی یوتھ مومنٹ کے اجلاس میں انجینئر ممتاز منصوری کا بیان

نظریات میں پائی جانے والی شدت کے خاتمہ کے بعد ہی باہمی اتحاد ممکن ۔سالیڈرایٹی یوتھ مومنٹ کے اجلاس میں انجینئر ممتاز منصوری کا بیان

شیموگہ(:ہرپل نیوز)27فروری۔ جب تک نظریات میں شدت رہے گی اُس وقت تک امت میں اتحاد آنا ناممکن ہے ۔ اس لئے ہمیں اپنے نظریاتی شدت کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کااظہار جماعت اسلامی کے یوتھ ونگ کے سابق رکن انجینئر ممتاز منصوری نے کیا ہے ۔ انہوں نے آج شہر کے سالیڈرایٹی یوتھ مومنٹ کے خود اعتمادی انصاف کیلئے نوجوانوں کی پیش قدمی کے عنوان سے ریاست گیر سطح پر چلائی جارہی مہم میں مہمان خصوصی کے طو رپر بات کرتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے،آج اُمت میں سے خود اعتمادی غائب ہوگئی ہے ، خود اعتمادی کی ضرورت اتنی ایک فرد کو اس سے زیادہ ایک قوم کو ہے۔ خود اعتمادی کی قوت حاصل کرنے کیلئے سب سے پہلے خدا اعتمادی حاصل کرنا چاہیے،جب بندے کا اعتماد اپنے خدا پر مضبوط ہوجاتا ہے تو وہ خوبخود وہ با اعتماد ہوجاتا ہے۔آج اُمت میں کئی طرح کے مسائل ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان انصاف اوراتحاد کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ہمارے اپنے اختلافات کو عام کر رہے ہیں،جس کی وجہ سے دشمن ہماری کمزوریوں کو بھانپ کر ہمیں تباہ کررہا ہے ۔ جب بھی ہم اتحا دکی بات کرتے ہیں تو اس وقت ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے اور کمیٹی بنانے تک سب متحد رہتے ہیں،جب کام کے اہداف طئے کئے جاتے ہیں اس وقت انہیں انجام دینے کیلئے مختلف رائے و مشورے سامنے آتے ہیں جسے قبول کرنے کیلئے ہم تیارنہیں ہوتے اور یہیں سے انتشار پھیلتا ہے۔دین اسلام کے نزدیک اتحاد، عدل و انصاف اور مساوات کادرجہ بہت اونچا ہے، مگر ہم ان باتوں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ آج ہمیں صحیح افراد کی تشکیل دینے کی ضرورت ہے،جب افراد صحیح بننے لگیں تو سماج بھی صحیح بن جائیگا۔ جب تک اُمت میں اپنے مسلک یا نظریات کی شدت باقی رہے گی اس وقت تک اتحاد قائم کرنا مشکل ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کیلئے اتحاد قائم کریں۔اس موقع پر مزید ایک مہمان خصوصی روز نامہ آج کاانقلاب کے ایڈیٹر مدثر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے مذہبی حضرات اور دانشوروں کے سینوں میں ملت کیلئے تڑپ اور کچھ کر گذر جانے کاجذبہ پیدا ہوگا اس دن ہماری کامیابی یقینی ہوگی۔غور سے دیکھیں تو مسلکوں کے ٹھیکدار جو ہمیں شدت پسندی اور مسلکی منافرت میں ڈبا رہے ہیں،وہ پس پردہ اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے کام کر رہے ہیں۔اگر واقعی میں یہ لوگ مسلک و مذہب میں شدت لانا چاہتے تو وہ مسلمانوں کی صفوں میں درار نہیں بلکہ اتحاد پیدا کرتے۔قرآن و حدیث کی آڑ میں کچھ لوگ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے پر آمادہ ہیں ، اگر واقعی میں انہیں قرآن وحدیث کا درس یاد ہوتا تو وہ یقیناً واعتصِمُوا بِحَبُلِ اُللَّہ،جمیعا ولا تفرقُو ’یعنی کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کی تھام لو اور تفریقہ مت ڈالو‘‘ ۔اور اللہ کے نبی ﷺ کے تعلیمات کوعام کرتے۔ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ آج ہم نے اپنے آپ کو مسلمان بنانے کے بجائے ماڈرن مسلمان بنا لیا ہے ، جس کے نتیجہ میں داعش جیسی تنظیمیں وجودمیں آرہی ہیں۔آج ہر کوئی اتحاد کی بات کرتا ہے مگر ہر مسلک اپنی شرطوں کی بنیا دپر اتحاد چاہتا ہے جو ناممکن بات ہے۔ہم اپنے مسائل کو حل کروانے کیلئے غیروں کے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں،آپسی لڑائی اس قدر تیز ہونے لگی ہے کہ ہمارے معاملات کو پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار حل کرنے لگے ہیں۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں مذہبی اتحا دکے بجائے معاشی،سیاسی اور معاشرتی اتحاد کیلئے پہل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کام نوجوان طبقہ کرسکتا ہے کیونکہ دنیا میں اب تک جتنے بھی انقلابات آئے ہیں اس میں نوجوانوں کو ہی اہم رول رہا ہے۔اگر نوجوان چاہیں تو قوموں کی تقدیر تدبیر کے ذریعے سے بدل سکتے ہیں اور اگر نوجوان چاہیں تو انتشار کے زہر کو اتحاد کی محبت سے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہمارے نوجوانوں کو شدت پسندی اور منافرت پھیلانے والے عناصر سے دور رہنے کی ضرورت ہے،جو تعلیمات قرآن وحدیث میں دی گئی ہیں ان پر عمل کیا جائے تو یقیناًاتحاد کا پرچم پھر ایک مرتبہ بلند ہوسکتا ہے ۔اسٹیج پر جماعت اسلامی ہند کے امیرمقامی مولانا عامر عمری موجود رہے۔جلسے کا آغاز سالیڈاریٹی یوتھ مومنٹ شیموگہ کے رکن محمد ذبیح اللہ کی قرأت پاک سے ہوا ، افتتاحی کلمات اور ادارے کے اغراض و مقاصد حبیب اللہ نے پیش کئے جبکہ شکریہ کے کلمات سالیڈاریٹی یوتھ مومنٹ کے صدر محمدندیم نے اداکئے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KCUof

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے