Breaking News
Home / اہم ترین / ہزاروں مسلمانوں کا قرآن کی بے حرمتی کرنے والے گورنر کی گرفتاری کے مطالبہ کو لے کر احتجاج

ہزاروں مسلمانوں کا قرآن کی بے حرمتی کرنے والے گورنر کی گرفتاری کے مطالبہ کو لے کر احتجاج

جکارتہ۔( ایجنسی) 2ڈسمبر: آج ہزاروں سفید پوش مسلمان جوق درجوق وسطی جکارتہ پارک کی طرف جارہے ہیں ۔ جہاں راجدھانی کے گورنر کی گرفتاری کی مانگ کرنے کے لئے ایک لاکھ سے زیادہ انڈونیشیائیوں کےجمع ہونے کی توقع ہے۔ عیسائی گورنر پر قرآن کی بے حرمتی کرنے کا الزام ہے ۔ ہجوم پر کنٹرول کے لئے 22 ہزار پولیس والے تعینات کئے گئے ہیں تاکہ پچھلے ماہ کی طرح تشدد نہ ہو جب پولیس کے ساتھ ٹکراؤ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مسلم تنظیمیں عیسائی گورنر باسو کی جہاجہ پورناما پر قرآن کی توہین کا الزام لگائے ہیں تاہم انہوں عہد کیا ہے کہ آج کا مظاہرہ پرامن ہوگا ۔ مظاہرین نے نماز فجر یعنی صبح 5 بجے کے بعد سے استقلال مسجد سے قومی یادگار کی طرف مارچ کرنا شروع کردیا تھا۔

جکارتہ پولیس کے ترجمان آرگو یووہ نو نے کہا ’’ہمیں ایک لاکھ لوگوں کے اکٹھا ہونے کی توقع ہے ہم نے کافی حفاظتی بندوبست کئے ہیں۔ امید ہے کہ یہ سب پرامن رہے گا جیسا کہ مظاہرین کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا ہے۔ انڈونیشیا دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے مگر یہاں چھ مذاہب کو تسلیم کیا جاتا ہے اور یہاں درجنوں نسلی فرقے بھی آباد ہیں جو بیشتر روایتی عقائد پر عمل کرتے ہیں ۔ پورناما چینی نسل کے عیسائی ہیں ان کے بیان کے خلاف تحقیقات چل رہی ہے جس میں انہوں نے سیاسی پرچار میں قرآن کے حوالے استعمال کرنے کے لئے اپنے مخالفین پر طنز کیا تھا۔انہوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے کوئی قابل اعتراض بات کہی تھی تاہم معافی مانگ لی تھی۔

قرآّن کی توہین کرنے کے لئے ان کے خلاف مقدمہ شروع ہوسکتا ہے۔ پچھلے ماہ مذہبی اور نسلی کشیدگی بھڑکنے کے اندیشہ سے صدر جو کو ویڈوڈو نے اعلیٰ فوجی۔ سیاسی اور مذہبی شخصیات کے ساتھ میٹنگ کرکے اتحاد ظاہر کیا تھا کیونکہ ان کی حکومت کے استحکام کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ پچھلے ہفتہ پولیس کے ہیلی کوپٹروں سے پرچے گرائے گئے تھے جن میں باشندوں کوخبردار کیا گیا تھا کہ اگر ریلی پر تشدد ہوئی تو بہت سخت سزا ہوگی۔ دوسری طرف قومی اتحاد کے لئے بھی پچھلے ہفتہ کئی شہروں میں جلوس نکالے گئے تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CP42x

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے