Breaking News
Home / اہم ترین / کہاں ہیں انکاونٹر اسپیشلسٹ ؟- راحت علی صدیقی قاسمی

کہاں ہیں انکاونٹر اسپیشلسٹ ؟- راحت علی صدیقی قاسمی

1980 میں ہندوستانی سرزمین پر ایک فتنہ نے سر ابھارا اور ملک کے سینہ پر ایک اور زخم لگانے کی کوشش کی،یہ تحریک خالصتان لبریشن تحریک تھی، جس کے افراد کا منشاء و مقصد سکھوں کی آبادی کو ہندوستان سے جدا کرکے ایک الگ ملک قائم کرنا تھا، امرتسر پنجاب کا وہ علاقہ ہے جہاں سکھوں کی اکثریت ہے،اس لئے وہ چاہتے تھے ،کہ ان مقامات کو زیر نگیں کیا جائے ،ان پر اپنی سلطنت و حکومت قائم کی جائے اور امرتسر کو اس خطہ کہ راجدھانی بنایا جائے،اسی منشاء و مقصد کے تحت دنیا بھر کے سکھ متحد ہوئے ۔کناڈا اور دیگر مما لک جہاں سکھ رہتے اور بستے ہیں، وہاں سے مدد آنی شروع ہوئی اور یہ ہتھیار سے لیس ہو کر حوصلوں ،امنگوں ،آرزوؤں اور جذبات کے ساتھ اپنی تدبیر کو بروئے کار لانے کے لئے برسر پیکار ہوئے ،مگر حکومت نے معاملہ کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے سخت اقدامات کئے اور اس تحریک کو سختی سے کچل ڈالا۔3 جون 1984 سے لے کر 8؍جون تک ایک آپریشن میں اس تحریک کو پوری طرح نیست و نابود کردیا گیااور ہندوستان پر آنے والی مشکل کو جوانوں نے اپنے سینہ پر روک لیا،136 فوجی شہید ہوئے ،ان کے خون سے امرتسر میں ترنگا لہراتا رہا اور خالصہ لبریشن تحریک دم توڑ گئی ،200 سے زائد افراد قتل ہوئے اور پنجاب کی آزادی کا خواب ان کے ساتھ ہی دفن ہوگیا،تب سے ہرمندر سنگھ (منٹو)جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا ،جو اس تحریک کا رہنما ہے،تاریخ کے صفحات پر اس تحریک کے ٹوٹنے اور ناکام ہونے کے بعد کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا ،جس نے منٹو کو آزاد کرنے کی کوشش کی ہو ،اس لئے چودھویں کے چاند کی مانند واضح ہوگیا تھا کہ خالصتان تحریک دم توڑ چکی ہے، زندگی کی رمق بھی اب اس میں موجود نہیں ہے،بغاوت کا یہ شوشہ اب ختم ہو چکا ،مگر اب جس طرز پر ان قیدیوں کو آزاد کرایا گیا اس سے واضح ہوگیا کہ خالصہ تحریک زندہ ہے اور اس کی نبض حیات ابھی تھمی نہیں چل رہی ہے اگر چہ دھیمی ہی کیوں نہ ہو ،اس کے حوصلے سرد تو ہوئے مگر ٹوٹے نہیں ہیں،ان کا کمانڈر اب رہا ہوا جو بہت ہی خطرناک اور شاطر ہے،اس سے خالصہ تحریک کا حوصلہ بلند ہوگا ،جس خیال کے افراد کو ہم نے چن چن کر قتل ڈالا یا سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور کردیا آج اس تحریک کے افراد کا جیل سے اس طرح فرار ہونا بہت خطرناک ہے،ان کا یہ عمل ان کے منصوبوں کا پتہ دیتا ہے،ہمارے پولیس اہلکار بھی یہ پہچاننے میں ناکام رہے پولیس ہے یا دہشت گرد اس سے ان کی ذہانت کا بھی اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے۔ہرمندر سنگھ کی رہائی کا معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اسے الفاظ کا لباس نہیں پہنایا جاسکتا ،یہی وہ شخص ہے جس نے سکھوں میں آزادی کی خواہش اور تمنا پیداکردی تھی ،آج پھر وہ اس چنگاری کو بھڑکا سکتا ہے،ملک کے خلاف پھر سے اپنی جماعت کو کھڑا کر سکتا ہے ،یا عرصہ سے جیل کی چکی پیسوانے کا بدلہ لے سکتا ہے ،اس ضمن میں کوئی خطرناک واردات سامنے آسکتی ہے،جو ملک کے لئے نقصان کا باعث ہو،جس کے مدنظر پنجاب حکومت کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور کچھ سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے ،جیساکہ کچھ اقدامات انہوں نے کئے بھی ہیں،مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہمارے ذمہ دار افسر کیا کر رہے تھے ،جب 10 لوگ جیل میں گھسے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود خطرناک دہشت گردوں کو بھگا کر لے گئے،کہاں دھرا رہ گیا حفاظتی انتظامات کی پختگی کا دعویٰ ؟کیا ان کے ہتھیاروں میں مجرموں پر چلنے کی صلاحیت نہیں تھی ؟ وقت پر انہوں نے اس خونخوار جماعت سے مقابلہ آرائی کیوں نہیں کی ؟کیا بندوق کی نوک پر ان کو روکنا جرم تھا؟چلئے مشکل تسلیم کرلیتے ہیں تو کیا ہمارے ملک کی جیلوں کے حفاظتی انتظامات کا عالم یہ ہے کہ دس ہتھیار بند افراد جیل میں گھس جائیں تو وہ مقابلہ کی کوشش نہیں کرتی؟اگر صورت حال ایسی ہے تو بہت افسوس کی بات ہے اور ناقابل فہم صورت حال ہے، ایک طرف ہماری پولیس کے ساتھ بہت سے انکاؤنٹر کے قصہ جڑے ہیں ،جہان وہ اپنی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بہت سے ملزمان کو فنا کے گھاٹ اتاردیتے ہیں ،مقابلہ آرائی بھی ہوتی ہے، کبھی کبھی سپاہی داروغہ کو بھی شہادت کا جام نوش کرنا پڑتا ہے،مگر تمام صعوبتوں کو جھیلنے کے باوجود بہادر سپاہی کسی صورت میں بھی ملزم یا مجرم کو راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیتے اور اپنی جان کی بازی لگا کر اس کے بڑھتے قدموں کو ہمیشہ کے لئے روک لیتے ہیں اور یہ عمل ہمیشہ جیل سے دور انجام دیا جاتا ہے۔تعداد10 سے زائد بھی ہوتی ،ایسے واقعات بھی موجود ہیں جہاں بیس یا تیس لوگوں تک کا انکاونٹر کرکے موت کی نیند سلادیا گیا اور سپاہیوں کی چھاتی کو میڈل نے مزید چوڑا کردیا۔ ماضی قریب میں ہوئے بھوپال انکاؤنٹر میں 8ملزمین نے جیل کا تالا لکڑی کی چابی سے کھولا ،ہنسئے مت ہماری پولیس یہی کہتی ہے،پھر رات بھر میں وہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا اور سپاہی بھی شہید ہوگیا۔اب سوال پیدا ہونا یقینی ہے،آٹھ ملزموں کو پولیس جن کے پاس پولیس کے بیان کے مطابق پانچ کٹے تھے ،انکاونٹر کردیتی ہے،دوسری طرف دس افراد اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے جیل سے 6 دہشت گردوں کو لے جاتے ہیں ،انکاونٹر تو دور کی بات ایک دہشت گردزخمی تک نہیں ہوپاتا، بس ایک معصوم لڑکی شہید ہوتی ہے ،تو پولیس کی بہادری کا کیا مفہوم ہے؟جو ایک نہیں کئی مرتبہ سن چکے ہیںیہ کہہ سکتے ہیں یہاں آٹھ تھے ،پر ہاشم پورہ میں یہ تعداد زیادہ تھی اور بھی بہت سے انکاونٹر کے واقعات ہیں جہاں کثیر ہتھیاروں سے لیس افراد کو پولس نے مارگرایا اور جان پر کھیل کر ملک کی خدمت کی طویل داستان ہے جو اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے نابھا جیل میں ہوئے طرز عمل نے چونکا دیا ہے، سوچنے پر مجبور کردیا ،ذہن میں سوالات کا سمندر موجزن ہے اور اس میں طغیانی ہے، ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے آپ بھی اپنا ذہن ٹٹول کردیکھ لیجئے اور پوچھئے صبح تک دہلی اور شاملی میں دو لوگ گرفتار ہوچکے ہیں جن کے پاس کثیر مقدار میں ہتھیار تھے،کیا یہ تباہی کا پیش خیمہ نہیں ہے اگر ان میں سے ایک بھی سلامتی کے ساتھ اپنے مقصد تک پہونچنے میں کامیاب رہاتو ملک کے لئے کتنے خسارے کی بات ہوگی؟ کہاں سوئے ہوئے تھے ہمارے بہادر ؟کہاں تھے انکاونٹر کے ماہرین؟ ان کی بندوقیں متحرک کیوں نہ ہوسکیں؟تحقیقات کرائی جائے اور حقائق کو طشت از بام کیا جائے،جب کہ ایک معصوم کی جان تو گئی مگر کوئی مجرم زخمی نہیں ہوپایا۔ بڑا سوال ہے اوریہ بھی ایک گتھی ہے جس کا سلجھنا ضروری ہے۔
 یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے
The short URL of the present article is: http://harpal.in/vft7I

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے