Breaking News
Home / Uncategorized / نوٹ بندی کی برسی پراپوزیشن اور سرکار آمنے سامنے ۔لٹیرے منارہے ہیں اب 'لوٹ کا جشن': کانگریس کا رد عمل ۔ راہل نے بھی ٹھوک دیا شاعرانہ انجکشن۔ پڑھئیے کیا ہے خاص

نوٹ بندی کی برسی پراپوزیشن اور سرکار آمنے سامنے ۔لٹیرے منارہے ہیں اب 'لوٹ کا جشن': کانگریس کا رد عمل ۔ راہل نے بھی ٹھوک دیا شاعرانہ انجکشن۔ پڑھئیے کیا ہے خاص

نئی دہلی(ہرپل نیوز، ایجنسی)8نومبر۔ کانگریس نے نوٹ بندي کو ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ اور معیشت کی کمر توڑنے والا فیصلہ قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ 'لٹیروں ' کو اس کی برسی پر 'لوٹ کا جشن' منانے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ ان کے اس فیصلے سے ملک کو کیا حاصل ہوا؟ کانگریس کے میڈیا انچارج رنديپ سنگھ سورجےوالا، ویمن کانگریس صدر سشمیتا دیو، سیوادل کے سربراہ منوہر جوشی، یوتھ کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ اور ترجمان جے ویر شیر گل نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں نوٹ بندي کے ایک سال مکمل ہونے پر منعقد ہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک سال قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں نوٹ بندی کا جو فیصلہ کیا تھا ، اس سے ملک میں کاروباری تالا بندی، معاشی افراتفری اور منظم لوٹ ہوئی ، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو گھوٹالہ کرنے میں آسانی ہوئی ۔

انہوں نے الزام لگایا کہ نوٹ بندي کے فیصلے سے ٹھیک پہلے بی جے پی اور اس کے لیڈروں نے ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں کروڑ روپے کی زمین خریدی اور کروڑوں روپے اپنے اکاؤنٹس میں جمع کرائے۔ صرف ایک مہینہ پہلے، تین لاکھ کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپوزٹ کی گئی۔ کولکاتہ اور احمد آباد کے بینکوں میں پارٹی اور اس کے لیڈروں کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے جمع کرائے گئے۔ یہ ایک بڑی ' لوٹ ' تھی لیکن کانگریس کی طرف سے اس کی تحقیقات کے بار بار مطالبے کے باوجود اس کی تحقیقات نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا تھا ؟مسٹر سورجےوالا نے کہا کہ 'نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا' کی بات کرنے والے نوٹ بندي کے نام پر ملک کی معیشت اور لوگوں کا روزگار کھا گئے اور اب جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے آنسو پونچھنے کی بجائے نوٹ بندي کی برسی پر 'لٹیرے' اب 'لوٹ کا جشن' منا رہے ہیں۔ نوٹ بندي سے ملک کی معیشت کو تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچانے، منظم شعبے میں 15 لاکھ لوگوں اور غیر منظم شعبے میں 3.72 کروڑ لوگوں کی نوکریاں چھین لینے والے لوگ اپنے من مانے فیصلے پر غلطی ماننے اور افسوس کرنے کے بجائے جشن منا رہے ہیں۔کانگریس کے لیڈروں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور اس کی حکومت نے ایونٹ مینجمنٹ اور شہرت کے لئے ڈھونگ کرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ اسی رجحان کا نتیجہ ہے کہ نوٹ بندی کی برسی پر اس فیصلے کے منفی نتائج کا جائزہ لینے کی بجائے، اس کا جشن منایا جا رہا ہے اور اپنے غلط فیصلے کا بھی جشن منا کر اس کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بی جے پی آٹھ نومبر کی نوٹ بندی کو 'کالا دھن ورودھی دیوس' کے طورپر ، جبکہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس کو ' یوم سیاہ' کے طور پر منا رہی ہیں۔ اس موقع پر تمام کانگریسی لیڈروں نے اپنے ہاتھوں پر سیاہ بینڈ پہن کر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسٹر سورجے والا نے کہا کہ مسٹر مودی نے بغیر سوچے سمجھے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا یہ فیصلہ ملک کی معیشت پر کرارا جھٹکا تھا۔ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک کی جی ڈی پی کی شرح دو فیصد کم ہوئي ہے اور ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہوگئے ہيں ، روزگار کے مواقع ختم ہوگئے ہیں ، اور ملک کے لوگ مسلسل اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے نوٹ بندی کو اقتدار کی ہوس میں کیا گيا بے لگام فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں کسی ماہر سے مشورہ نہیں لیا گیا۔ایک آنسو بھی حکومت کیلئے خطرہ ہے ، تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا: راہل: نوٹ بندی کے ایک سال پورے ہونے پر کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر مودی حکومت پر تیکھا حملہ بولا ہے ۔ راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ نوٹ بندی سانحہ اور ہم ان لاکھوں ایماندار ہندوستانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، جو وزیر اعظم کے سوچے سمجھے بغیر اٹھائے گئے اس قدم سے پوری طرح تباہ ہوگئے ہیں ۔

راہل گاندھی نے ایک دوسرے ٹویٹ میں شاعرانہ انداز میں مودی حکومت پر نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک آنسو بھی حکومت کیلئے خطرہ ہے ، تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
 ۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال آج کے ہی دن نوٹ بندی کی گئی تھی ، جس کو جہاں ایک طرف بی جے پی کالا دھن مخالف دن کے طور پر منارہی ہے ، تو وہیں کانگریس یوم سیاہ کے طور پر منارہی ہے ۔

حکومت نوٹ بندی سے متعلق دستاویزات کو عام کرنے سے خوفزدہ : چدمبرم۔ سابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے نوٹ بندي کو معقول فیصلہ بتانے کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے بیان پر انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے آج کہا کہ اگر حکومت اپنے اس فیصلے پر اس قدر مطمئن ہے تو وہ اس سے متعلق ریزرو بینک کے دستاویزات کو عام کرنے سے کیوں ڈر رہی ہے؟ مسٹر چدمبرم نے نوٹ بندي کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر آج یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹ کر کے کہا کہ حکومت کو شفافیت لانے کے لئے آر بی آئی بورڈ کے ایجنڈے اور اس سے متعلق دستاویزات اور آر بی آئی کے سابق گورنر ڈاکٹر رگھو رام راجن کے نوٹ کو عام کرنا چاہئے۔ انہوں نے مسٹر جیٹلی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نوٹ بندي کے فیصلے پر مطمئن ہے تو وہ ان دستاویزات جاری کرنے سے کیوں کترارہی ہے؟سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے کالے دھن کا خاتمہ ہو گیا لیکن جس کالے دھن کے صفایا کی بات کہی جا رہی ہے وہ گجرات اسمبلی کے انتخابات کے دوران لو گوں کو صاف دکھائی دینے لگے گا۔ مودی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوٹ بندي کے بعد پرانے نوٹ تبدیل کر کے کالے دھن کو سفید کیا گیا۔ اگر ایسا ہو اہے تو یہ سہولت کس نے دی ؟ ظاہر ہے کہ اس حکومت نے ہی یہ سہولت دی ہے۔ نوٹ بندي کو اخلاقی فیصلہ بتانے کے لئے مسٹر جیٹلی پر تنقید کرتے ہوئے مسٹر چدمبرم نے سوال کیا کہ کیا ملک کے کروڑوں عوام خاص طور پر 15 کروڑ یومیہ مزدوروں پر قہر برپا کرنا اخلاقی قدم ہے؟ سورت، بھیونڈی، مرادآباد، آگرہ، لدھیانہ اور تریپور جیسے پھلتے -پھولتے صنعتی مراکز کو تباہ کرنا کیا اخلاقی قدم ہے؟انہوں نے کہا کہ کیا کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ نوٹ بندي کی وجہ سے معصوم لوگوں کی جانیں گئیں، چھوٹے کاروبار بند ہوئے اور لوگوں کے روزگار چھین لئے گئے۔سابق وزیر خزانہ نے بی بی سی کی اس خبر کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مودی کے نقدی کے داؤ نے ہندوستانی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا بی بی سی بھی کالا دھن اور بدعنوانی کی حامی ہے۔کچھ نے زندگی تو کچھ نے نوکری گنوائی:نئی دہلی: نوٹ بندی کے اعلان کے ایک سال مکمل ہونے پر حزب مخالف نے مودی حکومت پر حملہ شروع کردیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے آج کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے لاکھوں لوگ پریشان ہوئے ہیں اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں نے اپنی زندگی اور ملازمت کھو دی ۔نوٹ بندی کے فیصلے کے ایک سال بعد سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اس 'سیاہ دن' پر لوگوں کی حقیقی زندگی کی کہانی پڑھنی چاہئے اور اس کی وجہ سے پریشان ہونے والے لاکھوں کے لئے دعا کرنی چاہئے انہوں نے اپنے بہت سے ٹویٹ میں کہا، 'کیا کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ لوگوں کی جان گئی، چھوٹے کاروبار بند ہو گئے اور روزگار چھن گیا؟' چدمبرم نے دعوی کیا کہ عوام کے پاس 15 لاکھ کروڑ روپے نقد ہے یہ مقدار بڑھ کر نومبر 2016 میں 17 لاکھ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا "شفافیت کے مفادات میں حکومت کو آر بی آئی کے ریزرو بینک بورڈ کا ایجنڈا جاری کرنا چاہیئے۔پہلے کے تبصرے اور سابق گورنررگھو رام راجن کی رائے کے بارے میں بتانا چاہئے۔ اگر حکومت کو اپنے فیصلے پر اعتماد ہے تو وہ ان دستاویزات کو عام کرنے سے کیوں ڈر رہی ہے؟ 'ٹھیک ایک سال پہلے پی ایم مودی نے کالا دھن، کرپشن، جعلی نوٹ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف جنگ کی سمت میں ایک قدم اٹھاتے ہوئے 1،000 روپے اور 500 روپے کے موجودہ نوٹ چلن سے باہر کئے جانے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کتنا پیسہ فراہم کیا جاسکتا ہے یہ فیصلہ ریزرو بینک کی طرف سے کیا جانا چاہئے حکومت کی طرف سے نہیں۔کانگریس کے رہنما نے دعوی کیا ہے کہ کم مطالبہ اور کم ترقی کے سبب میں سے ایک چلن میں نقد مصنوعی کمی بھی ہے۔ چدمبرم نے کہا حکومت دعوی کرتی ہے کہ کالے دھن کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن جب گجرات انتخاب کی مہم شروع ہو گی تب آپ کو 'ختم ہوا' کالا دھن مل جائے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/W3oJG

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے