Breaking News
Home / تازہ ترین / واٹر ٹینکر خرید گھپلہ میں کپل مشرا نے اے سی بی میں بیان درج کرایا

واٹر ٹینکر خرید گھپلہ میں کپل مشرا نے اے سی بی میں بیان درج کرایا

نئی دہلی(ہرپل نیوز)11 مئی۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر بدعنوانی کا الزام لگانے والے عام آدمی پارٹی (آپ) سے برطرف کراول نگر سے ممبر اسمبلی کپل مشرا نے آج انسداد بدعنوانی شاخ (اے سی بی) میں اپنا بیان درج کرایا۔ دہلی میں پانی کے سابق وزیر مسٹر مشرا نے 400 کروڑ روپئے کے واٹر ٹینکر گھپلے میں مسٹر کیجریوال کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنی رہائش گاہ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے مسٹر مشرا 12 بجے اے سی بی کے دفتر پہنچے اور تقریباً آدھا گھنٹہ وہاں رہے اور اپنا بیان درج کرایا۔ بیان درج کرانے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں مسٹر مشرا نے کہا ’اے سی بی کے سامنے میں نے تمام معلومات دے کر اپنا بیان درج کرایا ہے اور پیر 15 مئی کو یہاں پھر آؤں گا۔‘ مسٹر مشرا نے مسٹر کیجریوال پر الزام لگایا کہ وزیر اعلی نے ان کے سامنے توانائی کے وزیر ستیندر جین سے دو کروڑ روپے لیے۔ وہ آپ کے پانچ بڑے رہنماؤں کے غیر ملکی دوروں کو عام کرنے کی مانگ کو لے کل سے اپنی رہائش گاہ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے مسٹر مشرا کے ساتھ کل انکت بھاردواج نام کے ایک نوجوان نے ہاتھا پائی کی تھی۔ آپ اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا کارکن بتا رہی ہے جبکہ سابق وزیر کا کہنا ہے کہ حملہ آور آپ کا کارکن ہے۔ سابق وزیر کچھ دنوں پہلے ہی اے سی بی کے دفتر آئے تھے اور شیلا دیکشت کی مدت کے دوران ہوئے واٹر ٹینکر گھوٹالے کے سلسلے میں کاغذات سونپے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ بار بار کہنے کے باوجود اس گھوٹالے کی جانچ مسٹر کیجریوال نے نہیں کی۔ ان کا الزام ہے کہ وہ اپنے کچھ لوگوں کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ دہلی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما بجیندر گپتا بھی اس ٹینکر گھوٹالے کی جانچ کا کئی بار مطالبہ کر چکے ہیں۔ یہ گھوٹالہ دہلی جل بورڈ کی طرف سے 385 اسٹیل ٹینکروں کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں سے منسلک ہے۔ دہلی حکومت نے جون 2015 میں اس گھوٹالے کی حقیقت کا پتہ لگانے کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل بھی کی تھی جس نے گزشتہ سال جون میں اپنی رپورٹ سونپی تھی۔ کمیٹی رپورٹ کی بنیاد پر سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے ایک ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی۔ اس معاملے میں اے سی بی حکام نے گزشتہ سال محترمہ دکشت سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/u4S4g

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے