Breaking News
Home / اہم ترین / وویک تیواری قتل معاملہ: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یوپی پولیس کا سامنے آیا جھوٹ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، وویک کو لگی گولی کسی اونچی جگہ سے چلائی گئی تھی
بیوہ راکھی ملک کے ساتھ ملزم سپاہی پرشانت چودھری

وویک تیواری قتل معاملہ: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یوپی پولیس کا سامنے آیا جھوٹ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، وویک کو لگی گولی کسی اونچی جگہ سے چلائی گئی تھی

 لکھنؤ ( ہرپل نیوز۔ایجنسی)01 اکتوبر۔انتیس ستمبر کی رات دارالحکومت لکھنؤ میں ایپل کے ایریا سیلز مینیجر وویک تیواری کے قتل معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور واحد چشم دید کے بیان سے پولیس کی تھیوری پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، وویک کو لگی گولی کسی اونچی جگہ سے چلائی گئی تھی۔ وویک کے ساتھ موجود ثناء کا کہنا ہے کہ ملزم سپاہی نے ایک سے ڈیڑھ فٹ اونچے ڈیوائیڈر پر کھڑے ہو کر گولی ماری تھی۔دراصل، لکھنؤ شوٹ آوٹ کے بعد معاملے کو دبانے میں لگی پولیس کا دعوی تھا کہ وویک نے سپاہی کو کچلنے کی کوشش کی، جس پر اس نے اپنے دفاع میں فائر کیا اور گولی وویک کے چہرے پر لگی، جس سے ان کی موت ہو گئی۔ لیکن سابق ساتھی کے بیان اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے لکھنؤ پولیس کے حکام کے سفید جھوٹ کو سامنے لا دیا ہے۔

چشم دید ثنا کے بیان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی تصدیق کر رہی ہے۔ ثنا نے پیر کو دیے اپنے بیان میں کہا کہ جس سپاہی نے وویک پر فائر کیا تھا، وہ ڈیوائیڈر پر کھڑا تھا۔ اس نے سامنے سے آتی ہوئی کار پر گولی چلائی جبکہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کہتی ہے کہ وویک پر چلی گولی اوپر سے نیچے کی سمت میں ہے۔ یعنی گولی چلانے والا شخص اونچائی پر کھڑا تھا۔ اس نے سیدھے نشانہ نہیں سادھا بلکہ گولی چلاتے وقت اس کا ہاتھ نیچے کی طرف جھکا ہوا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولی وویک کی ٹھوڑھی پر لگی اور نیچے کی طرف جا کر گردن میں پھنس گئی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/iRuMo

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے