Breaking News
Home / اہم ترین / ٹمکور،منگلور،شیموگہ،ہبلی دھارواڑبنیں گے سمارٹ سٹی

ٹمکور،منگلور،شیموگہ،ہبلی دھارواڑبنیں گے سمارٹ سٹی

نئی دہلی، 20 ستمبر (ہرپل نیوز/یو این آئی) مرکزی حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اہم منصوبے 'اسمارٹ سٹی' کے تحت 66 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بنارس، آگرہ، اجمیر، اجین اور تروپتی سمیت 27 شہروں کو اسمارٹ سٹی کی شکل میں تیار کرنے کا اعلان کیا ہے ۔مرکزی شہری ترقیات کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج یہاں پریس کانفرنس میں نو ریاستوں کے ان 27 شہروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طور پر تیار کرنے کا جوش دکھائی دے رہا ہے ۔ اسمارٹ سٹی کی تیسری فہرست جاری کرنے کیلئے کئے گئے سروے میں 33 شہروں نے حصہ لیا تھا جس میں 27 شہروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان شہروں کی ترقی کے لئے 66 ہزار 883 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز کی گئی ہے ۔ مرکزی حکومت نے اب تک 60 شہروں کواسمارٹ سٹی کی شکل میں تیار کرنے کے لئے منظوری دی ہے ۔ پہلی فہرست میں 20 اور دوسری فہرست میں 13 شہروں کو منتخب کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 60 شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طورپر تیار کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ آئندہ سال جنوری تک اسمارٹ سٹی کا ڈھانچہ نظر آنے لگے گا۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ 27 شہروں میں اتر پردیش کے آگرہ، کانپور اور بنارس، راجستھان کے اجمیر اور کوٹہ، پنجاب کے امرتسر اور جالندھر، مہاراشٹر کے اورنگ آباد، کلیان ڈومبیولی، ناگپور، تھانے اور ناسک، مدھیہ پردیش کے گوالیار اور اجین، کرناٹک کے ہبلی۔ دھارواڈ، منگلور، شیموگا اورٹمکور، ناگالینڈ کے کوھما، تمل ناڈو کے مدورئی، سیلم، تنجاور اور ویلور، آندھرا پردیش کے تروپتی، سکم کے نامچی، اڈیشہ کا راورکیلا اور گجرات کا بڑودہ شامل ہے ۔انھوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی کلب میں ابھی تک اتراکھنڈ، جموں و کشمیر، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، اروناچل پردیش، پڈوچیری، لکش دیپ، دمن و دیپ اور دادرو ناگر حویلی شامل نہیں ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اسمارٹ سٹی پروگرام میں شامل ہونے کے لئے شہروں کے درمیان صحت کا مقابلہ ہے اور مرکز یا ریاستی حکومت کی اس میں کوئی مداخلت نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت مقامی شہر ی انتظامیہ کو مقابلہ میں آنے کے لئے مدد کرتی ہے لیکن اس کے لئے شہر کی انتظامیہ کو معیار پورے کرنے پڑتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اسمارٹ سٹی کی نئی فہرست جنوری 2017 میں جاری کی جائے گی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KiPjl

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے