Breaking News
Home / اہم ترین / ٹوجی الاٹمنٹ معاملے میں اے راجہ، کنی موجھی سمیت سبھی الزامات سے بری۔ منموہن سرکار بے داغ

ٹوجی الاٹمنٹ معاملے میں اے راجہ، کنی موجھی سمیت سبھی الزامات سے بری۔ منموہن سرکار بے داغ

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)22ڈسمبر۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی پٹیالہ ہاؤس واقع خصوصی عدالت نے آج 2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے میں سابق ٹیلی کمیونیکیشن وزیر اے راجہ اور دروڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے ) لیڈر کنی موجھی سمیت سبھی ملزمین کو بری کردیا ہے۔ عدالت نے 2010 کے اس معاملے پر اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ اپنا معاملہ ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔ اس معاملے میں راجہ اور کئی دیگر ملزمین تھے۔کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو 1،76،000کروڑ روپے کا بتایا گیا تھا۔ حالانکہ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں تقریبا  31ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا ذکر کیا تھا۔

ٹوجی الاٹمنٹ معاملے میں اے راجہ، کنی موجھی سمیت سبھی الزامات سے بری

ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے تحت 2010 سے پہلے ’’پہلے آؤ پہلے پائو‘‘ کے تحت الاٹمنٹ کیا جاتا تھا۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اس طریقے کار کو رد کرنے کے ساتھ ہی کئی الاٹمنٹ لائسنس مسترد کئےگئے تھے۔ بعد میں الاٹمنٹ نیلامی کے ذریعہ کیا جانے لگا تھا۔2014 میں عام انتخابات میں 2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ بڑا انتخابی موضوع بنا تھا۔ اس فیصلہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ کیگ کے سابق سربراہ ونود رائے معافی مانگیں۔

عدالتی فیصلہ نے ثابت کردیا یوپی اے حکومت کے خلاف ٹوجی گھوٹالہ کا پروپیگنڈہ بے بنیاد تھا : منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے آج کہا کہ 2 جی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس کے سلسلے میں ا ن کی حکومت کے خلاف جو بڑے پیمانے پر وپگنڈہ کیا تھا وہ بالکل بے بنیاد تھا۔ ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرنا چاہتا ۔ فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے۔‘ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ’عدالت کے حکم کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ یو پی اے کے خلاف پروپگنڈہ بے بنیاد تھا۔‘ خیال رہے کہ جس زمانے میں اسپیکٹر م الاٹمنٹ ہوا تھا اس وقت ڈاکٹر من موہن سنگھ وزیر اعظم تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/q67J2

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے