Breaking News
Home / اہم ترین / ٹی ایم سی پر پتھراؤ اکا معاملہ : 15گرفتار شدگان میں 11ضمانت پر رہا ۔ لیڈران میں گووند نائک اور کرشنا نائک کو نہیں ملی ضمانت

ٹی ایم سی پر پتھراؤ اکا معاملہ : 15گرفتار شدگان میں 11ضمانت پر رہا ۔ لیڈران میں گووند نائک اور کرشنا نائک کو نہیں ملی ضمانت

بھٹکل (ہرپل نیوز)21ستمبر:بھٹکل ٹی ایم سی عمارت  پر پتھراؤ اور توڑپھوڑ معاملے میں پولس نے کارروائی کرتے ہوے شری رام سینا کے شنکر نائک اور شدت پسند تنظیم کے ممبرمنڈلی کے دیویندرا نائک کو گرفتارکیا ہے جس کے ساتھ گرفتار شدگان کی تعداد 15  ہو گئی ہے  ۔بھٹکل ڈی وائی ایس پی نے بتایا کہ ان دونوں ملزمین  کو مینگلور سے گرفتار کرکے آج بھٹکل عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے دونوںکو کاروار جیل بھیج دیاگیا ہے۔دوسری جانب یہ بھی خبر موصول ہوئی ہے کہ15گرفتار شدگان میں ملزم گوند نائک اور کرشنا نائک کے علاوہ بقیہ گیارہ ملزمین کو بھٹکل کی عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا ہے ۔ شبہ جتایا جارہاہے کہ معاملے کو لے کر مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

پو لیس نے اپنا کام کیا:بھٹکل میونسپالٹی عمارت پر پتھراؤ ، توڑپھوڑ اور پولس عملہ پر حملہ  سے متعلق  پولس نے ایک بڑی کاروائی کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر گوند نائک کوگرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولس  ہبلی کے ایک مکان سے گوند نائک سمیت کل تین لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ سنگھ  کے  ایک کارکن کوکاروار میں گرفتار کیا گیا ہے۔ذرائع  کے مطابق گوندا نائک، کرشنا نائک اور منجوناتھ نائک جالی کو ہبلی کے ایک مکان سے اور ہندو جاگرن ویدیکے کے لیڈر آنند نائک کو کاروار میں اُس وقت گرفتار کیا گیا  جب وہ جیل میں بند دیگر ساتھیوں سے ملاقات کے لئے پہنچا تھا۔

شوبھا کی دھمکیاں نظر انداز : خیال رہے کہ  بی جے پی لیڈر شوبھا کرندلاجے نے بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے پولس اور انتظامیہ کو مزید گرفتاری کرنے پر غلط نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے خودبھٹکل آکر دھرنے پر بیٹھے کی دھمکی دی تھی ،مگر پولس نے ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گرفتاریوں کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھا ہے بلکہ لیڈروں کو بھی گرفتار کرکے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ امن و امان کی فضا بگاڑنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔

ٹی ایم سی کے ممبران کا اہم اجلاس :  بھٹکل میونسپلٹی میں کاونسلرس کی ایک اہم میٹنگ میں کاونسلرس کی جانب سے  رام چندرا کی ہلاکت پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا۔ کاونسلرس نے  ٹی ایم سی پر ہوئے پتھراؤ اور  دیگر مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے  پتھراؤ  کے واقعہ  کی بھی   شدید  مذمت کی گئی ۔ دوسری جانب  دوروز قبل سنگھ پریوار  کے ایک لیڈر کی جانب سے  میونسپلٹی کو تنظیم  کی کٹھ پتلی قرار دئیے جانے کی بھی تمام کونسلرس نے مذمت کرتے ہوئے اسے ہندو مسلم میں دوریاں پیدا کرنے والا بیان قرار دیا ۔  میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مٹا صادق نے  ٹی ایم سی پرمسلمانوں  کے راج کرنے کی تمام باتوں کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹی ایم سی میں مختلف مذاہب  کے لوگ محبت کے ساتھ رہتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں  تمام کو نسلرس مل کر فیصلہ لیتے ہیں۔

ٹی ایم سی کا واقعہ اختصار کے ساتھ : کچھ روز قبل ضلعی انتظامیہ نے ٹی ایم سی کی دکانوں کو تحویل میں لینے کی کوشش کی جس کے دوران ایک دکاندار نے خود سوزی کی ۔ جس کے بعد دکانداروں کی حمایت میں بی جے پی لیڈران نے ٹی ایم سی کے باہر جمع ہو کر دکانداروں کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا ۔ اس دوران وہاں موجود بھیڑ میں سے کچھ افراد نے ٹی ایم سی کی عمارت پر پتھراو کرتے ہوئے اسے شدید نقصان پہنچایا ۔ جس کے بعد پولیس نے پتھراو کے معاملہ میں بی جے پی کے لیڈران کو حراست میں لیا ۔ اس بیچ بی جے پی ایم پی شوبھا کرندلاجے نے بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور اس کے بعد ایک پریس میٹ میں انہوں نے ریاستی سرکارکو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے بھٹکل پولیس سے تمام کیس واپس لینے اور کسی کو گرفتار نہ کرنے کا بھی حکم دیا ۔ اس کے باوجود پولیس اوتر انتظامیہ نے سرکاری پراپرٹی کو نقصان پنچانے اور امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کے بعد کئی لیڈران کو حراست میںلیا ہے جس کے بعد حالات معمول پر بنے ہو ئے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رام چندرا نامی نوجوان کی خود سوزی کے بعد دکانوں کو تحویل میں لینے کا رکا ہوا پروسس کب زروع ہوگا اور کب دکانیں نئے کرایہ داروں کو فراہم کی جائیں گی ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Hvx2p

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے