Breaking News
Home / اہم ترین / ٹی وی چینلز کی مودی پرستی، میڈیا موڈیا بن گیا ہے۔ تحریر: رشید انصاری

ٹی وی چینلز کی مودی پرستی، میڈیا موڈیا بن گیا ہے۔ تحریر: رشید انصاری

ملک کا الکٹرانک (برق) میڈیا (ٹی وی چینلز) کا رویہ روز بروز انتہائی ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ میڈیا جو ایوان جمہوریت کا چوتھا یا اہم ستون مانا جاتا ہے وہ اپنی افادیت کھوچکا ہے اور عوام کو غیر جانبدارانہ انداز میں صحیح خبریں پہنچانے ان کی رہبری کرنے کی جگہ ایک مخصوصی حلقے یا مکتب فکر کا ترجمان ہی نہیں پبلی سٹی ایجنٹ بن کر رہ گیا ہے اور اس کی ساکھ ختم ہورہی ہے۔ سنگھ پریوار، مودی حکومت اور کٹر فرقہ پرست مسلم دشمن عناصر کا ترجمان ہی نیں بلکہ ان کا علمبردار بن کر منفی قوم پرستی اور پڑوسی ممالک کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے ملک کا ماحول نہ صرف مسموم کررہا ہے بلکہ جنگی جنون کو فروغ دے کر اللہ جانے ملک کو کس راہ پر لگانا چاہتا ہے؟موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تقریباً تمام ٹی وی چینلز پر سنگھ پریوار کا اثر ہے۔ بیشتر ٹی وی چینلز سنگھ کے سرپرست اور مودی حکومت کے مراعات یافتہ سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں اور زیادہ تر چینلز منہ مانگی قیمت لے کر پریوار اور مودی حکومت کے زر خرید بن چکے ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل مودی کے خاص وزیر ارون جیٹلی کا یہ لطیفہ نہ سہی مضحکہ خیز خیال سن لیں کہ موصوف کو یہ شکایت ہے کہ میڈیا نوٹ بدلی کے فوائد اور مقاصد کی تشہیر کی جگہ اس ”قانونی غارت گری“ منظم لو ٹ اور ہمالیائی بد انتظامی“ (بقول ڈاکٹر منموہن سنگھ) کے نتیجہ میں عوام پر پڑی بپتا کی تشہیر زیادہ کررہ اہے اس کو اہمیت زیادہ دے رہا ہے جو لوگ ارون جیٹلی کو معقول اور با شعور بندہ مانتے تھے ان کو بھی جیٹلی کی اس ناقابل فہم و عجیب و غریب شکایت پر شدید مایوسی ہوئی ہوگی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی چینلز قطاریں بتانے کے بہانے قطاروں میں کھڑے لوگوں کی مودی جی کی مداح سرائی بتاتا ہے۔ علانیہ ظاہر ہوتا ہے کہ قطار والوں سے کسی نہ وجہ سے یہ غیر حقیقی مدح سرائی کروائی جارہی ہے یہ ویڈیو میں تبدیلی کرنے اور اصلی مکالموں کی جگہ نقلی مکالمے داخل کرنے کی نئی ٹیکنک سے بھر پور فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔

میڈیا پر قبضہ مودی کے برسراقتدار آنے سے قبل ہی کرلیا گیا تھا بلکہ مودی کو برسراقتدار لانے کیلئے مودی کی حمایت وتائید میں پروپیگنڈہ اور کانگریس کی ہجو کے علاوہ منموہن سنگھ کی حکمت کو بدنام کرنے کے تمام حربے میڈیا 2014ء سے تین چار سال قبل ہی استعمال کرتا رہا ہے۔ خبریں ہوں یا مباحثے یا خصوصی رپورٹس ان میں دو ہی چیزیں ہر موقع پر بہ کثرت نمایاں رہی ہیں۔ ایک تو کانگریس کو بدنام کرنا دہشت گردی کے بہانے مسلمانوں کو بدنام کرنا اور ان کے خلاف نفرت پیدا کرنے نفسیاتی حربوں سے خوب مسلسل کام لینا اور ملک میں جنگی ماحول پیدا کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹاکر بی جے پی کی کامیابی کی راہ میڈیا نہ ہموار کرتا تو بی جے پی ناکام ہوجاتی۔ 2014ء میں جو کچھ ہوا وہ میڈیا کی شایان شان یوں نہ تھا کہ بیشتر ٹی وی چینلز ایک طرح سے تجارتی تشہیر کے ادارے بن گئے تھے۔ انتخابات کے بعد کسی اصلاح اور بہتری کی جگہ بیشتر ٹی وی چینلز نے عملاً خود کو سنگھ پریوار بی جے پی اور مودی کا غلام بنالیا کیونکہ مودی راج میں انتہاء پسند فرق پرستی میں حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس لئے مسلم دشمنی میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ایک ٹی وی چینل (سدرشن) تو ایسا ہے کہ جو اپنی نشریات کا زیادہ وقت مسلمانوں اور مسلم قائدین اور جماعتوں اور ملکوں کے خلاف نفرت کے پرچار میں گذارتا ہے۔ ”زی“ ٹی وی گروپ کے کئی چینلز ہیں اور سب مودی اور مودی حکومت کے پروپیگنڈے اور اندھی تائید زور شور سے کرتے ہیں۔ اس گروپ کے مالک بی جے پی رکن پارلیمان ہیں اور مسلم دشمنی کے علمبردار ہیں۔ انتہائی ڈھکے چھپے انداز میں اور کارگر نفسیاتی حربے استعمال کرکے یا مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا نفرت کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں۔ زی ٹی وی کے بعض اینکرس یا ایڈیٹر مثلاً سدھیر چودھری، روہت سردانا، روپیکا لیاقت اس سلسلے میں نمایاں ہیں اور بھی چینلز اور اینکرس (میزبان ہیں جنہوں نے مسلم دشمنی سے اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان کا ذکر کچھ دیر بعد کریں گے۔

نوٹ بدلی کے بہانے مودی نے ایک اچھے کام کو جس بد انتظامی اور لاپرواہی سے انجام دیا ہے اور جس طرح (125) کروڑ عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے وہ ناقابل بیان ہے اور ناقابل معافی ہے لیکن بیشتر ٹی وی چینلز اب بھی عوام کی تکالیف سے زیادہ مودی حکومت کے نام نہاد ”کارنامہ“کو اہمیت دینے اور اجاگر کرنے میں مصروف ہیں اور مودی کے سبب آئی مصیبت اور اذیت کے باوجود مودی کی مدح سرائی بلکہ قصیدہ گوئی کا موقع نکال لیتے ہیں۔ پاکستانی دہشت گردوں اور کشمیری عسکریت پسندوں کے حملوں کی خبروں اور تبصروں میں حملہ آوروں کی مذمت تو بلاشبہ ضروری ہے لیکن اس ضمن میں اپنی کمزوری کا ذکر نہیں کرکے مودی حکومت اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کی مدد کی جاتی ہے ان سے یہ سوال کوئی نہیں کرتا ہے کہ اہم فوجی مراکز وہ بھی اندرون کشمیر دہشت گردوں کو اپنی مذموم کارروائیوں کا موقع کیسے اور کس طرح ملتا ہے؟ اور یہ سب کچھ منوہر پاریکر کے دور میں کیوں ہورہا ہے؟ برہان وانی شہید کو دہشت گرد قرار دے کر مصنوعی و جعلی ویڈیو بناکر ثبوت فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتے ہیں۔ برہان وانی کو مارکر کشمیر تحریک آزادی کے مردہ جسم میں جان ڈالنے کی حماقت کیوں کی گئی؟ اور ہماری انٹلیجنس برہان وانی کی عوامی مقبولیت اور اس کی ہلاکت کے نتیجہ میں شدید رد عمل کے سامنے آنے اور نقص امن کے ساتھ تشدد بھڑک اٹھنے کے اندیشوں کا اندازہ لگانے میں کیوں بری طرح ناکام رہی اور اس کی ذمہ داری آخر کس پر ہے؟ لیکن مودی کو برقی میڈیا ہر قسم کے اعتراضات اور تنقیدوں سے بالاتر سمجھتا ہے۔ بلکہ میڈیا حکومت کی غلطیوں کو غلطیاں مانتا ہی نہیں ہے۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کو یاد کرتے ہوئے بی جے پی کے بزرگ قائد لال کرشن اڈوانی نے لکھا تھا کہ ”ایمرجنسی نافذ کرکے اندرا گاندھی نے میڈیا کو گھٹنے ٹیک دینے کا حکم دیا تھا تو میڈیا سجدے میں گر گیا تھا“۔ ایمرجنسی کا زمانہ ہم کو یاد ہے اندرا کے خوف سے زیادہ سرکاری اشتہارات نہ ملنے کے خوف سے اندرا کی ایمرجنسی میں اخبارات اندرا گاندھی کے بلکہ سنجے گاندھی کے فرمان بردار بن گئے تھے۔ لیکن مودی کے دور میں ٹی وی چینلز امداد اوراشتہارات کی ضرورت سے آزاد ہیں کہ سرکار نہ سہی سرکار کے دوستوں نے ہی میڈیا کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کرلیا ہے گویا زیادہ تر میڈیا ایک طرح سے سرکاری ہوگیا ہے۔ جبکہ ایمرجنسی میں اخبارات کو جبر کے ذریعہ اپنا ہم نوا بنایا گیا تھا لیکن آج ٹی وی چیلز حکومت کا ایک شعبہ بن گئے ہیں۔ اگر نہیں بھی ہیں تو ظاہر یہی کرتے ہیں۔

میڈیا کی جانبداری بلکہ مسلم دشمنی کی ایک مثال جے این یو دہلی کی ہے۔ کنہیا کمار اور خالد عمر کے ساتھ ارباب اقتدار نے جائز اور ضروری بتانے کیلئے رائی کے پربت بناڈالے۔ زی نیوز ٹی وی نے جعلی ویڈیو بھی بتادئیے۔ لیکن اب جے این یو کے ہی طالب علم نجیب احمد کی گمشدگی (بلکہ غالباً اغوا) اور نجیب کے ساتھ پریوار کی طلباء یونین اے بی وی پی کا ظالمانہ تشدد اور حکومت سے ڈرے ہوئے بلکہ دباؤ کا شکار ارباب جے این یو کی بے حسی و سردمہری بلکہ مجرمانہ تغافل کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ میڈیا کا یہ امتیاز بلکہ قابل مذمت تعصب کی وجہ سے برقی میڈیا کی ساکھ بری طرح بلکہ ٹی وی ناظرین اب ہنوز چینلز کی جگہ دے کر تفریحی چینلز دیکھنے لگے ہیں۔ ٹی وی چینلز کے رپورٹس، ایڈیٹرس اور میزبانوں (اینکرس) کے ہجوم میں روش کمار اور کسی حدتک برکھادت اور راج دیپ دیسائی نے حق گوئی، بے باکی اور غیر جانبداری کی شمع روشن کررکھی ہے اور روش کمار تو برقی میڈیا کی آبرو نظر آتے ہیں لیکن مودی بھکت ان کے پیچھے بڑے ہیں۔

یو ں تو عوام طور پر ذرائع ابلاغ نے خود کو رجحان سازی کی ذمہ داری سے آزاد کرکے رجحان پرستی اختیار کرلی ہے۔ یوں تو آزادی کے بعد سے پاکستان کی جاوبیجا مخالفت و مذمت ہمارے اخبارات کا وتیرہ رہا ہے لیکن چین اور پاکستان سے دشمنی اور نفرت کے اظہار میں برقی میڈیا نے تمام حدیں پار کرلی ہیں جبکہ چین اور پاکستان سے باوجود شدید کشیدگی کے دونوں ملکوں سے ہمارے سفارتی تجارتی ہی نہیں بلکہ سماجی تعلقات ہیں تاہم میڈیا کا بس چلے تو ہندوستانی افواج کو چین نہ سہی پاکستان پر حملے کا حکم دیدے۔ چینلز کے پروگراموں میں چینلز کے ایڈیٹرس اینکرس کا ہی نہیں بلکہ مباحثوں و پروگراموں کے مہمان خاص طور پر ریٹائرڈ فوجی جنرل جیسے جنرل بخشی اور جنرل پرشاد پاکستا پر حملے کی وکالت کرتے ہیں جبکہ یہ ہمارے ملک کی امن پسندی کی بنیادی حکمت عملی کے خلاف ہے۔ بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی اور فرقہ پرستی کے ماحول میں پاکستان دشمنی آگ پر تیل کا کام کرتی ہے اور یہی رجحان ہے جبکہ سب کو پتہ ہے کہ جنگ مسئلے حل نہیں کرتی ہے بلکہ مسئلے پیدا کرتی ہے اور ہمارے حالات کسی بھی حالت میں جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں لیکن میڈیا کو اپنی مقبولیت سے غرض ہے اسی طرح امرتسر کی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان کو نہ آنے دینے کی بات ٹی وی چینلز نے زور شور سے کی شائد وہ سمجھتے ہیں کہ ناظرین کو پتہ نہیں ہے کہ بین الاقوامی طور پر اس کے کیا نتائج ہوتے؟ بلکہ ملک کی کس قدر بدنامی ہوتی!

ٹی وی چینلز کے مباحثے ان کی مزید بدنامی کا سامان کررہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مودی اور مودی حکومت ہی نہیں بلکہ سنگھ پریوار اور بی جے پی کے زبردست پروپیگنڈے کیلئے یہ مباحثے ہوتے ہیں۔ آداب گفتگو سے عاری سنگھ پریوار کے ترجمان راکیش سنہا وشواہند و پریشد کے بنسل اور دوسرے اور بی جے پی کے سودھانشوترویدی، سمبت پاترا، سریکانت شرما اور پریم شکلاوغیرہ کو تقریباً ٹی وی چینلز کے میزبان اینکرس کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ وقت ہی نہیں بار بار بولنے اور دوسرے شرکاء کو بولنے ہی نہ دینے کی اجازت مستقلاً دے رکھی ہے۔ ان مباحثوں میں بعض اینکرس مثلاً روبیکا لیاقت اور روہت (زی ٹی وی) انجنا (آج تک) وغیرہ بی جے پی اور حکومت کے نمائندے بن کر مباحث میں حصہ لیتے ہیں مختصر یہ کہ ان مباحث کا مقصد پریوار اور بی جے پی اور مودی کی تائید و حمایت ہے اور اس مقصد کے لئے ان کے پاس مخصوص مگر محدود اصحاب کا ایک گروپ ہے۔ ہر مباحثہ میں یہی لوگ زیادہ تر نظر آتے ہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں دہلی کے دو مولوی اور ایک مسلمان اردو صحافی بھی شامل ہیں جو مسلمانوں سے زیادہ ٹی وی چینلز کے مقاصد کے ترجمان نظر آتے ہیں۔ مختصر یہ کہ سنگھ پریوار اور مودی پرستی کی وجہ سے برقی میڈیا سے معیار کے ساکھ غیر جانبداری اور حق گوئی رخصت ہوچکی ہے اور ٹی وی چینلز میڈیا نہیں بلکہ ”موڈیا“ بن کر رہ گئے ہیں۔۔ نوٹ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں بشکریہ ،اردو ڈاٹ اسٹار نیوزٹودے 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/etRgT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے