Breaking News
Home / اہم ترین / ٹی ٹوینٹی پرفارمنس کو لے کر نکتہ چینی پر پہلی بار بولے ایم ایس دھونی ایک بڑی بات کہی۔

ٹی ٹوینٹی پرفارمنس کو لے کر نکتہ چینی پر پہلی بار بولے ایم ایس دھونی ایک بڑی بات کہی۔

دوبئی(ایجنسی)13نومبر۔ مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ انہیں نکتہ چینی کرنے والوں کی کوئی پرواہ اور سب کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ ہندوستان ٹیم کے اسٹار وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی نے متحدہ عرب امارات میں اپنی پہلی گلوبل کرکٹ اکیڈمی شروع کرنے کے موقع پر پہلی مرتبہ اپنی نکتہ چینی پر کھل کر جواب دیا جس میں ان کا کول انداز صاف نظر آیا، انہوں نے کہا ’’سبھی کے اپنے اپنے خیالات ہوتے ہیں جس کی قدر کی جانی چاہئے۔‘‘دراصل اجیت اگرکر، وی وی ایس لکشمن نے دھونی کی ٹی۔ 20 میں ان کے مظاہرے پر سوال اٹھائے تھے، دھونی نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹی۔20 میچ میں 26 رن باؤنڈری کے ذریعہ صرف پانچ گیندوں میں ہی بنائے تھے، جس میں تین چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔ لیکن باقی 32 گیندوں میں وہ صرف 23 رن ہی بناپائے تھے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان کے سابق تیز گیند باز اجیت اگرکر کے علاوہ لکشمن نے بھی سوال اٹھاتے ہوئے ،ٹیم منیجمنٹ سے دوسرا متبادل تلاش کرنے پر زور دیا تھا۔ حالانکہ ٹیم انڈیا کے کپتان وارٹ کوہلی اور ٹیم کے کوچ روی شاستری نے کھل کر سامنے آتے ہوئے ان کا بچاؤ کیا تھا لیکن دھونی اس معاملے پر خاموش رہے تھے۔

دھونی سے جب اس مسئلہ پر سوال کیا گیا تو انہوںنے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ’’ہر شخص کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے اور ہمیں اس کے نظریہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ میں نکتہ چینی کرنے والے سے بے فکر ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ نتیجوں سے زیادہ کھیل ضروری ہے۔ میں نے کبھی نتیجے کے بارے میں نہیں سوچا، میں نے ہمیشہ صحیح کرنے کے بارے میں سوچا۔ چاہے بات دس رنوں کی ضرورت کی ہو، پانچ کی ہو یا پھر چودہ رنوں کی۔ہندوستان کو دو عالمی کپ جیتا چکے دھونی نے کہا کہ ’’ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہونا ہی میرے لئے سب سے بڑی بات ہے۔ایسے کئی کھلاڑی ہوئے ہیں جن میں پیدائشی کوئی صلاحیت نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ کافی آگے گئے۔ ایسا صرف جنون اور محنت کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا۔ ہر کرکٹر کو اپنے ملک کے لئے کھیلنا کا موقع نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایک سال ہی کرکٹ کھیل پاتے ہیں تو کچھ لوگوں کا کیریر بیس برسوں تک چلتا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’مان لیجئے آپ کی زندگی 70 برس کی ہے، اس طرح دس پندرہ برس اس کے آگے کچھ نہیں ہے لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ہمارے لئے سب سے بڑی فخر کی بات یہ ہے کہ ہم ہندوستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔‘‘

جب ان سے ہیلی کاپٹر شاٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ نوجوان کھلاڑی ایسے شاٹ کی کوشش کریں، کیونکہ اس سے ان کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ دھونی نے کہا کہ ’’یہ میں نے ٹینس بال سے کھیلتے ہوئے سیکھا ہے۔ یہ مشکل ہے۔ ٹینس بال سے اگر بلے کے نیچے والے حصے پر گیند لگے تو وہ دور تک جاتی ہے لیکن اصلی کرکٹ میں اس شاٹ کو بلے کے درمیانی حصے سے مارنا پڑتا ہے۔ میں نہیں چاہوں کہ نوجوان اسے کھیلیں، کیونکہ انہیں اس سے چوٹ لگ سکتی ہے۔‘‘دھونی کرکٹ اکیڈمی میں ہندوستان سے کوچ آکر بچوں کو ٹریننگ دیں گے۔ دھونی نے کھیل سیکھنے والے بچوں اور ان کے والدین کی موجودگی میں اسے لانچ کیا۔ کوچنگ اسٹاف کی قیادت ممبئی کے سابق گیند باز سشیل مہادک کریں گے۔دھونی نے اس موقع پر کہا کہ ’’اس کا حصہ بن کر میں بہت خوش ہوں اور اسے کامیاب بنانے میں اپنی جانب سے پوری کوشش کروں گا۔ کرکٹ کو اپنی خدمات مہیا کرنا میرا خواب رہا ہے اور یہ اس سمت میں پہلا قدم ہے۔‘‘

The short URL of the present article is: http://harpal.in/5dAGH

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے