Breaking News
Home / اہم ترین / پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ غیرقانونی، وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد اے ٹی ایم پر نظر آئیں لمبی لمبی قطاریں۔ فیصلے پر ملک بھر میں ملا جلا رد عمل

پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ غیرقانونی، وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد اے ٹی ایم پر نظر آئیں لمبی لمبی قطاریں۔ فیصلے پر ملک بھر میں ملا جلا رد عمل

نئی دہلی، 9 ؍نومبر(ہرپل نیوز/ایجنسی)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے 500 اور ایک ہزار روپے کے پرانے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا۔ مودی نے کہا کہ اب لوگوں کے پاس موجود پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ صرف کاغذ کے ایک ٹکڑے کی مانند رہ جائیں گے۔ 8 نومبر -9 نومبر کی آدھی رات سے 500 اور 1000 کے نوٹ بند ہو جائیں گے۔ آپ کے پاس 50 دنوں کا وقت ہے۔ آپ اپنے 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ 10 نومبر سے 30 دسمبر 2016 تک اپنے بینک یا پوسٹ آفس کے اکاؤنٹ میں جمع کروا سکتے ہیں۔مودی نے کہا کہ 500 اور 1000 کے نوٹوں کے علاوہ باقی تمام نوٹ اور سکے باقاعدہ ہیں اور ان سے لین دین ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ ایمانداری سے پیسے کمانے والے شہریوں کے مفادات کی پوری حفاظت کی جا سکے۔ آپ کی رقم آپ کی ہی رہے گی، آپ کو کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مودی نے کہا کہ کسی وجہ سے اگر آپ 30 دسمبر تک یہ نوٹ جمع نہیں کر پائے، تو آپ کو ایک آخری موقع بھی دیا جائے گا۔ ساتھ ہی 9 نومبر کو ملک کے تمام اے ٹی ایم بند رہیں گے۔ جبکہ 10 نومبر کو ملک کے کچھ اے ٹی ایم کام کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 11 نومبر کی رات 12 بجے تک شہریوں کے لئے کچھ خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ 11 نومبر کی رات 12 بجے تک تمام سرکاری اسپتالوں میں پرانے 500 کے نوٹ ادائیگی کے لئے قبول کئے جائیں گے۔ اسی طرح 72 گھنٹوں تک ریلوے کے ٹکٹ بکنگ کاؤنٹر، سرکاری بسوں کے ٹکٹ بکنگ کاؤنٹر اور ہوائی اڈوں پر بھی صرف ٹکٹ خریدنے کے لئے پرانے نوٹ قابل قبول ہوں گے۔وزیر اعظم  نے کہا کہ 1000 اور 500 روپے کے پرانے نوٹ ختم کرنے کے باوجود اگلے 72 گھنٹے یعنی 11 نومبر کی نصف شب تک سرکاری ہسپتالوں، کوآپریٹیو دکانوں، سرکاری بسوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، پٹرول پمپ اور ڈاکٹر کے نسخے پر کیمسٹ کی دکانوں پر قبول کئے جا ئیں گے۔ مسٹر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اسے کسی طرح کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں پرانے نوٹ قابل قبول ہوں گے تاکہ مریضوں کے علاج میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ آئے۔

پانچ سو اور 1000 روپے کے نوٹ بند ہونے سے لوگوں میں مچی افرا تفری ، اے ٹی ایم پر نظر آئیں لمبی لمبی قطاریں  

اچانک 500 روپے اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو آج آدھی رات سے کالعدم قراردیے جانے سے عام لوگوں میں افرا تفری مچ گئی. لوگ رات 12 بجے تک پرانے نوٹوں کو جمع کرانے یا کسی طرح ٹھکانے لگانے کے صورتیں ڈھونڈتے رہے ۔میٹرو مسافروں نے میٹرو اسٹیشنوں پر بھی کارڈ ریچارج کراکے بڑے نوٹ بھنانے کی کوشش کی۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں 500 اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں سے ریچارج کرائے. لیکن، کچھ دیر بعد ان کاؤنٹر پر بھی 50 اور 100 روپے کے نوٹ ختم ہو گئے ۔پٹیل چوک میٹرو اسٹیشن پر کسٹمر سروس سینٹر پر تعینات ملازم نے بتایا کہ ایک ہی شخص نے 10 مختلف کارڈوں پر ایک ایک ہزار کر کے 10 ہزار روپے کے ریچارج کرائے.دہلی کے جس کسی اے ٹی ایم پر کیش ڈیپازٹ مشین تھی وہاں لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں. ہر کوئی رات 12 بجے اے ٹی ایم بند ہونے سے پہلے اپنے پرانے 500 روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹ جمع کرا دینا چاہتا تھا. غیر رہائشی علاقے میں ریل بھون کے احاطے میں اسٹیٹ بینک کے اے ٹی ایم پر بھی رات 11 بجے سے کم 50 لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئے۔ پوچھے جانے پر ان لوگوں نے بتایا کہ"آج کے دن پیسے نکالنے کون آئے گا؟ یہ لائن پیسے جمع کرانے والوں کی ہے. "وزیر اعظم کے اس اعلان کے فورا بعد خوردہ دکاندار بھی 500 اور ایک ہزار کے نوٹ لینے سے انکار کرنے لگے. ہر شخص بڑے نوٹوں کو کسی طرح چھوٹے نوٹوں میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا نظر آیا۔

نوٹ بند کرنے کے اعلان پر کانگریس نے پی ایم مودی پر سادھا نشانہ ، عام لوگوں کیلئے بتایا مصیبت

 کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ کو بند کرنے کا اعلان کو عام لوگوں کے لئے مصیبت قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ بغیر تیاری کے نیا نظام نافذ کرنے کے وزیر اعظم کے اعلان نے عام آدمی کو بحران سے دوچار کردیا ہے جس کا حل حکومت کے پاس بھی نہیں ہے۔کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجےوالا نے صحافیوں سے کہا کہ حکومت اگر کالا دھن اور بدعنوانی روکنے کے لئے کارگر اور بامعنی قدم اٹھاتی ہے تو کانگریس اس کی تہہ دل سے حمایت کرے گی لیکن حکومت نے جس طرح سے بغیر تیاری کے یہ قدم اٹھایا ہے اس سے لوگوں کے سامنے اچانک بحران پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیوہار کے موسم اور شادی بیاہ کے دن سامنے ہیں۔حکومت کےاچانک 500 اور 1000 کے نوٹ کو بند کرنے کے اعلان سے تہوار منانے والوں اور اپنے بچوں کی شادی کی تیاری میں مصروف لوگوں پر ایسا بوجھ لاد دیا گیا ہے جو کبھی ٹھیک نہیں ہو گا۔اس سے لوگوں کے سامنے بحران پیدا ہو گیا ہے۔بینکوں سے لین دین کو محدود کر دیا گیا ہے اور لوگ اب کچھ ہی ہزار روپے نکال سکیں گے ۔ترجمان نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کی بات کرنے والے مسٹر مودی یہ وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور شاید اسی لئے وہ اس طرح کا قدم اٹھا رہے ہیں۔

پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کرنے کے فیصلہ پر ملک بھر میں ملا جلا ردعمل

 ملک میں کالے دھن پر قدغن لگانے کی غرض سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کے وزیراعظم نریندرمودی کے اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف مرکزی وزرا اور ریاستوں کے وزرائے اعلی نے کالےدھن اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اسے اٹھایا گیا جرات مندانہ قدم بتایا ہے مگر کئی لیڈروں نے اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ترنمول کانگریس نے اسے سخت گیر قدم بتایا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں احتیاط سےکام لیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایک ہزار کی جگہ دو ہزار کا نوٹ کیوں نکالاگیا ہے۔ اچانک سےبڑے نوٹ بند کرنے کے سرکار کے فیصلہ پر بھی اعتراض کیا ہے۔پارٹی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ کاروباریوں ، چھوٹے بیوپاریوں اور خواتین خانہ کے لئےبہت مسائل پیدا کرے گا۔ کانگریس کے مطابق پارٹی ہمیشہ کالے دھن کے معاملہ پر با معنی، واضح اور کارگر اقدام کی حمایت کرے گی لیکن یہ سوال بھی کیا کہ کیا مسٹر مودی غیر ممالک میں جمع 80 لاکھ کروڑ روپے کےکالے دھن کو ملک میں واپس لینے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ہی یہ منصوبہ لائے ہیں۔سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے مسٹر مودی کو جدید زمانہ کا تغلق بتایا ہے۔ ایک اور پارٹی لیڈر رندیپ سورجے والا نے  کہا کہ ایک ہزار کا نوٹ واپس لے کر 2 ہزار کا نوٹ جاری کرنا بڑی عجیب بات ہے۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر ستیا رام یچوری نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈھنگ سے سوچ سمجھ کر تیار نہیں کیا گیا۔ اس سے ان کروڑوں لوگوں کو بے حد پریشانی ہوگی جو بینک کے ذریعہ لین دین نہیں کرتے بلکہ نقد پیسہ میں ہی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ مسٹریچوری نے کہا ناجائز پیسہ لوگوں سے نکلوانے کے لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت بنکوں کا قرض ادا نہ کرنے والے چوٹی کے سونا دہندگان کے نام افشا کرے۔ ترنمول کی ممتابنرجی نے الزام لگایا کہ بنکوں میں 100 کے نوٹ دستیاب نہیں ہیں اور مطالبہ کیا کہ یہ سخت گیر فیصلہ فوراً واپس لیا جائے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Id6pN

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے