Breaking News
Home / اہم ترین / پاکستانی بحریہ کے پانچ افسران کو سزائے موت، بحری فوج کے ایک ٹریبونل نےسنائی سزا

پاکستانی بحریہ کے پانچ افسران کو سزائے موت، بحری فوج کے ایک ٹریبونل نےسنائی سزا

اسلام آباد،25مئی(ہرپل نیوزpakistan1/آئی این ایس انڈیا)پاک بحری فوج کے ایک ٹریبونل نے اپنے پانچ افسران کو کراچی میں نیول ڈاکیارڈ پرحملے کے الزام میں سزائے موت دے دی ہے۔ سزا یافتہ افسران پر بغاوت، سازش، داعش سے تعلقات رکھنے اور ہتھیار لے کر ڈاکیارڈ میں داخل ہونے کا الزام تھا۔ڈاکیارڈ پر یہ حملہ ستمبر 2014میں کیا گیا تھا۔ اس وقت ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ آور پی این ایس ذوالفقار نامی جنگی جہاز کو ہائی جیک کر کے ایندھن بھرنے والے ایک امریکی جہاز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ تاہم نیوی حکام نے اس حملے کو ناکام بنا کر دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا اور چار کو گرفتارکرلیا گیا تھا۔ہلاک ہونے والا ایک دہشت گرد سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کا بیٹا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھے۔ ٹی ٹی پی اور القاعدہ برصغیر نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔میجر ریٹائرڈ سعید نے کہا، میرے بیٹے کو ستمبر دو ہزار چودہ میں حراست میں لیا گیا تھا اور مجھے اس سزا کا علم حال ہی میں ہوا۔ میں اپنے بیٹے سب لیفٹینیٹ حماد احمد اور اس کے چار ساتھیوں عرفان اللہ، محمد حماد، ارسلان نذیر اور ہاشم نصیرسے کراچی سینڑل جیل میں حال ہی ملا۔میرے بیٹے نے بتایا کہ اسے اور اس کے چار ساتھیوں کو نیوی ٹریبونل نے خٖفیہ سماعت کے بعد سزائے موت دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید نے کہا، میں نے نیوی کے ایڈووکیٹ جنرل کو پندرہ اگست دو ہزار پندرہ میں ایک خط لکھا تھا، جس میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ میرے بیٹے کو وکیل صفائی کی خدمات لینے کی اجازت دی جائے۔ مجھے اکیس ستمبر کو جواب دیا گیا کہ مقدمے کے وقت اجازت دی جائے گی۔ میں مقدمے کے شروع ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ کسی نے مجھے حال ہی میں بتایا کہ میرے بیٹے کو کراچی سینڑل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔سعید نے کہا کہ وہ سزا کے خلاف نیول کورٹ آف اپیل میں درخواست دائر کریں گے۔حماد احمد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، اس فیصلے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ آرمی ایکٹ میں بھی ڈیفنس کونسل کی اجازت ہے۔ ابھی تک نہ یہ پتہ ہے کہ ان کے خلاف کیا الزامات تھے اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ انہیں کس جرم میں سزا دی گئی ہے۔سعید کے بقول، ہمارے پاس ابھی تک عدالتی فیصلے کی کاپی بھی نہیں ہے اور نہ ہی انہوں (نیوی کورٹ) نے کوئی کاپی دی ہے۔ اب ہمارے پاس اپیل کے لیے ساٹھ دن ہیں۔ یہ ساٹھ دن فیصلے دیے جانے والے دن سے گنے جائیں گے۔ پہلے ہم نیوی کورٹ آف اپیل میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور اگر وہاں کامیاب نہیں ہوئے تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کٹھکھٹائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ہمارے پاس اب تک جو بھی معلومات ہیں وہ زبانی ہیں۔ حماد احمد کے والد اس سے جیل میں ملے تھے اور اس نے انہیں یہ بتایا ہے کہ اسے اور چار ساتھیوں کو سزا دی گئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سزا جنرل کورٹ مارشل نے دی ہے اور نیوی کے چیف نے اس کی توثیق بھی کردی ہے۔ اس کنفرمیشن کے بعد کوئی آفیسر جو بریگیڈئر یا میجر جنرل کے لیول کا ہوتا ہے ، اس سزا کے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتا ہے۔
انعام الرحیم نے کہا یہ تو اچھا ہوا کہ حماد کے والد کو پتہ چل گیا ورنہ ان کی اپیل کا وقت بھی گزر جاتا، اس طرح کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے، اسی لیے سپریم کورٹ نے کچھ پھانسیوں پر عمل درآمد روکا ہوا ہے۔
اسرائیل سے براہ راست بات چیت ممکن نہیں، فلسطینی وزیر اعظم
رملہ،25مئی(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)فلسطینی اتھارٹی کی حکومت نے اسرائیل کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے مشرق وسطی میں امن کے لئے براہ راست مذاکراتی عمل کو اہم قرار دیا تھا۔ فلسطینی وزیر اعظم کے مطابق اب بین الاقوامی برادری سے فرار ممکن نہیں۔فلسطینی وزیر اعظم رامی حمداللہ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب مانوئل والس سے ملاقات کے بعد کہا کہ اب وقت کم رہ گیا ہے اور نیتن یاہو وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اب بین الاقوامی برادری سے فرار حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔فرانسیسی وزیراعظم مانوئل والس دو روز قبل اتوار کو اسرائیل پہنچے تھے جہاں انہوں نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات میں امن مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا تھا۔ لیکن نیتن یاہو نے مذاکرات کے حوالے سے پیرس حکومت کی منصوبہ بندی کو رد کرتے ہوئے براہ راست بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔والس نے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ ان کی تجویز پر فرانسیسی صدرفرانسوا اولانڈ سے بات کریں گے تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فرانس امن مذاکرات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر سے منسلک رہے گا۔ مشرق وسطی میں قیام امن کے سلسلے میں پیرس حکومت 3جون کو وزرائے خارجہ کی سطح کے اجلاس کی میربانی کر رہی ہے۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔اس اجلاس کے بعد رواں برس موسمِ خزاں میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں اسرائیل اور فلسطین کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد امن مذاکرات کی بحالی ہے۔امریکا کی ثالثی کے نتیجے میں بحال ہونے والے اسرائیل فلسطین امن مذاکرات اپریل سن 2014 میں تعطلی کا شکار ہو گئے تھے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے فرانس کے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مسلسل اس کی مخالفت کر رہے ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ فلسطینی صدر سے ملاقات کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ فرانسیسی وزیر اعظم سے ملاقات میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فرانس کو پیرس میں فلسطین اور اسرائیل کی لیڈرشپ کے اجلاس کی میزبانی کرنی چاہیے۔ مانوئل والس نے اِس دورے میں خود کو اسرائیل کا دوست اور اسرائیلی سلامتی کو بھی اہم قرار دیا۔
بڑے امدادی ادارے دفتری دلدلیں ہیں:یورپی یونین
استنبول،25مئی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ سرگرم اور فعال بڑے امدادی اداروں میں بیوروکریٹک مراحل انتہائی زیادہ ہیں۔ یورپی یونین کی ایک کمیشنر کا خیال ہے کہ یہ ادارے دفتری نظام کو آسان بنا کر امدادی کاموں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔ترک شہر استنبول میں منعقدہ ورلڈ ہیومینٹیرین سمٹ میں ایک پیش کردہ تجویز کو فعال بنانے کے حوالے سے یہ تصور پیش کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے امدادی اداروں کو قائل کیا جائے کہ وہ دفتری امور کے لیے مقرر عملے کی تدوین کرتے ہوئے اُس میں کمی لائیں تاکہ امدادی عمل کو تقویت حاصل ہو سکے۔ مبصرین کے مطابق اِس تجویز پر عمل کر کے بین الاقوامی امدادی ادارے ہنگامی امداد کے سلسلے میں زیادہ جلدی فیصلے کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔یورپی یونین کی کمیشنر برائے بجٹ اور ہیومن ریسورسز کرسٹیلینا جیورجیوا نے یہ تجویز استنبول منعقدہ سمٹ میں پیش کی ہے۔ اُن کے مطابق جتنی بڑی امدادی تنظیم ہے، اتنا ہی بڑا اُس کا بیوروکریٹک سیٹ اپ ہے اور یہ فیصلہ سازی میں تاخیر کا باعث بننے کے علاوہ مالی بوجھ کی بھی وجہ ہے۔ جیورجیوا کے مطابق بیوروکریٹک عملے میں کمی آج کے وقت کی ضرورت ہے اور ایسے اداروں کو دفتری دلدل سے نکلنا ہو گا۔ انہوں نے تجویز کیا ہے کہ ڈونرز اور امدادی اداروں کو افہام و تفہیم کے ساتھ عملے کا انتخاب ضرورت کے مطابق کرنا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ دنیا کے متاثرہ افراد کو اٹھائیس بلین ڈالر کی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور کئی ادارے زیادہ سرمایہ اکھٹا کرنے کی جدوجہد میں بھی مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ملازمین پر زیادہ بجٹ صرف کرنے کے عمل میں بسا اوقات کئی مقامات پر اضافی ملازمین رکھ لیے جاتے ہیں اور مسابقت کے اِس دور میں یہ ایک سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے لہذا اِس پر توجہ دینا اشد ضروری ہے۔ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کمیشنر کے مطابق بیوروکریٹک سیٹ اپ میں اضافے کی وجہ امداد دینے والے بھی ہیں کیونکہ وہ اپنے عطیات کے استعمال کے لیے افراد کا تعین پہلے جاننے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔
یورپی یونین کی کمیشنر نے کہا کہ اگر یہ تمام بڑے امدادی ادارے کسی ایک ملک کی شکل اختیار کر لیں تو وہ دنیا کا دسواں بڑا ملک بن سکتے ہیں کیونکہ اِس کی آبادی 130 ملین نفوس پر مشتمل ہو گی۔ کرسٹیلینا جیورجیوا کی مراد تمام بڑے اداروں کے دنیا بھر میں قائم دفاتر میں کام کرنے والے عملے کی تعداد کی جانب ہے۔ انہوں نے اپنی تجویز کو گرینڈ بارگین کا نام دیا ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ یہ عمل حقیقت میں باہمی احتساب کے مساوی ہو سکتا ہے کیونکہ بیوروکریٹک سیٹ اپ کی تطہیر سے اِن اداروں کا سرمایہ زیادہ افراد کی بھلائی کا باعث ہو گا۔
مہاجرین کے اسمگلروں کے خلاف یورپی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع
برسلز،25مئی(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ وہ لوگوں کو غیرقانونی طور پر یورپ پہنچانے والے اسمگلروں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو وسعت دیں گے اور ایسے راستوں کو بند کیا جائے گا۔برسلز میں یورپی وزارئے خارجہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بحیرہء روم میں مہاجرین کی اسمگلنگ کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے گشت میں اضافے کے ساتھ ساتھ لیبیا کے کوسٹ گارڈ دستوں کو تربیت بھی دی جائے گی۔شمالی افریقی ملک لیبیا اس وقت غیرقانونی طور پر یورپی یونین پہنچنے والے افراد کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس ملک میں کوئی فعال حکومتی ڈھانچہ موجود نہیں اور مختلف عسکریت پسند گروہ سرمایہ لے کر انسانوں کے اسمگلروں کو مہاجرین کی اسمگلنگ کی کارروائیاں کرنے دیتے ہیں۔سن 2011ء میں لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا خانہ جنگی اور داخلی انتشار کا شکار ہے جب کہ وہاں مسلح گروہ اس صورت حال کا مکمل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔گزشتہ برس یورپی یونین نے صوفیہ کے نام سے بحیرہء روم میں ایک سمندری گشتی مشن شروع کیا تھا، جس کے تحت مہاجرین کی کشتیوں کو روکنا اور ان میں موجود اسمگلروں کو حراست میں لینے کا کام شروع کیا گیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ اس مشن کے تحت اب تک 14 ہزار مہاجرین کو ریسکیو کیا گیا ہے، تاہم اس مشن کے پاس لیبیا کی سمندری حدود میں کارروائیوں کی اجازت نہیں جب کہ زیادہ تر اسمگلر لیبیا ہی کی حدود میں متحرک ہیں۔گزشتہ روز ہی اطالوی اور آئرش بحریہ کے جہازوں نے بحیرہ روم میں 15 ریسکیو آپریشن کیے اور 15 شکستہ حال کشتیوں کو بے رحم موجوں کا نشانہ بننے سے بچایا۔ ان کشتیوں پر سوار قریب دو ہزار افراد کی منزل اٹلی تھی۔یورپی یونین کی جانب سے لیبیا کی حکومت سے باقاعدہ طور پر درخواست کی گئی ہے کہ یورپی سمندری گشت کے دائرہ کو لیبیا کے پانیوں میں کارروائیوں کی اجازت دی جائے۔ یورپی حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لیبیا میں قائم ہونے والی نئی یونٹی حکومت جلد ہی اس درخواست کو منظور کر لے گی۔
شام میں روسی ایئر بیس کو عسکریت پسندوں کے حملے میں شدید نقصان
دمشق،25مئی(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)سیٹلائٹس تصاویر سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے حملے میں شام میں واقع روسی ہوائی مرکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ بیس بڑی فوجی گاڑیاں اور چار ہیلی کاپٹر حملے کے بعد لگنے والی آگ میں تباہ ہو کر رہ گئے تھے۔ یہ معلومات امریکی انٹیلیجنس کمپنی اسٹراٹفور نے بیان کی ہیں۔ روسی ہوائی مرکز کا نام التیاس ہے اور فوجی رابطوں میں اِسے ٹی فور (T-4) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ اڈہ وسطی شام میں پالمیرا اور حمص کے درمیان واقع ہے۔ ابھی تک روس کی جانب سے اِس اڈے پر ہونے والی تباہی پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Xrje2

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے