افغانستان میں ہلاکتیں

ادھر پڑوسی ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل اور شمالی اور وسطی صوبوں میں گذشتہ تین روز سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور برفانی تودے گرنے اور سڑک حادثات میں ایک سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔افغان صوبے نورستان کے صرف ایک گاؤں میں تودے گرنے سے کم سے کم پچاس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ صوبے کا ایک اور گاؤں بھی تودے گرنے سے دب چکا ہے اور وہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔افغانستان کے شمالی ،وسطی اور شمال مشرقی صوبوں میں تودے گرنے سے چوّن افراد مارے گئے ہیں۔ان صوبوں کے میدانی علاقوں اور شاہراہوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ رکھی ہے جس کی وجہ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے اور بڑی شاہراہیں برف سے ڈھک جانے سے آمد ورفت کے لیے بند ہوچکی ہیں۔افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں گذشتہ دو روز میں تودے گرنے، چھتیں منہدم ہونے اور سڑک حادثات میں انیس افراد جاں بحق اور سترہ زخمی ہوگئے ہیں۔صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ بدخشاں کے بارہ اضلاع ملک کے دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے ہیں اور ان تک رسائی کی کوشش کی جارہی ہے۔کابل سے قندھار جانے والی شاہراہ بھی برف باری سے بری طرح متاثر ہوئی ہے اور پولیس اور فوج نے وہاں پھنسی ہوئی ڈھائی سو کاروں اور بسوں کو نکالا ہے۔ صوبہ غزنی کی حکومت کے ترجمان جاوید سالانگی کے مطابق بعض علاقوں میں دو میٹر تک برف پڑ چکی ہے۔افغان پولیس کے ایک جنرل رجب سالانگی کے مطابق کابل کے شمال میں واقع درہ سالانگ بھی شدید برف باری کی وجہ سے بند ہوچکا ہے اور وہاں ڈھائی میٹر تک برف پڑ چکی ہے۔انھوں نے بتایا کہ "جب تک برف کو وہاں سے ہٹا نہیں دیا جاتا ،اس وقت تک یہ درّہ بند رہے گا"۔