Breaking News
Home / اہم ترین / پولیس تھانوں کو عوام دوست بنانے کرناٹک کےوزیراعلیٰ کی اپیل

پولیس تھانوں کو عوام دوست بنانے کرناٹک کےوزیراعلیٰ کی اپیل

بنگلورو۔(ہرپل نیوز)5؍اپریل:وزیراعلیٰ سدرامیا نے پولیس تھانوں کو عوام دوست بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایاکہ تب کہیں جاکر پولیس پر عوام کااعتماد بحال ہوگا۔وائٹ فیلڈ میں نئے پولیس تھانہ اور اے سی پی دفتر کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے بتایاکہ محکمۂ پولیس کو گزشتہ چار سال کے عرصہ میں کئی طرح کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں ، ایسے میں حکومت کو بھی توقع ہے کہ محکمۂ پولیس کی کارکردگی میں بھی تبدیلی آئے۔ان کے مطابق محکمۂ پولیس کی وجہ سے ہی معاشرہ پرسکو ن ہے۔ پولیس کی ذمہ داری صرف اتنی نہیں ہے کہ مجرموں کو پکڑا جائے، بلکہ جرائم کی روک تھام بھی ان کے اہم فرائض میں شامل ہے۔مرکزی وزیر برائے اعداد وشمار ڈی وی سدانند گوڈا نے بتایاکہ پولیس انتظامیہ کو چاہئے کہ شفافیت کے ساتھ تحقیقات کو انجام دیں اور جدید تیکنالوجی کا سہارا لیں۔وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتایاکہ ریاست میں تقریباً1500پولیس تھانے موجود ہیں،اور محکمہ کو جدید تیکنالوجی سے آراستہ کرتے ہوئے تمام تھانوں کو کرائم کریمنل ٹراکنگ سسٹم سے جوڑا گیاہے۔ شہر بنگلور کو سب سے محفوظ شہر قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم ٹریفک اژدہام یہاں کااہم مسئلہ ہے ۔اس مسئلے کو دور کرنے اور شہر کی ہمہ جہت ترقی کیلئے رواں سال کے بجٹ میں سات ہزار کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔میٹرو پہلے مرحلے کی تکمیل سے پانچ لاکھ افراد کو فائدہ ہوا ہے۔ دوسرے مرحلے کی تکمیل سے 50لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا اور ٹریفک اژدہام کا مسئلہ دور ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں دیڑھ ہزار پولیس انسپکٹروں کاتقرر کیاگیا ہے۔پولیس کمشنر پروین سود نے بتایاکہ موجودہ ٹیکنالوجی کئی چیلنجوں کا جواب ہے۔ سٹی پولیس کے ای لاسٹ موبائل ایب کے ذریعہ گمشدہ اشیاء سے متعلق آن لائن شکایت درج کی جاسکتی ہے۔تقریباً دیڑھ لاکھ افراد اس سے استفادہ کررہے ہیں۔اسی طرح خواتین کے تحفظ کیلے سرکشا اور پولیس تھانے کی تفصیلات سے متعلق علیحدہ ایپ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔جس کے ذریعہ پندرہ منٹ میں پولیس اہل کار جائے وقوع پر پہنچیں گے۔اس موقع پر وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج ، وزیر داخلہ کے مشیر کیمپیا ، ڈی جی پی آر کے دتہ، رکن پارلیمان پی سی موہن ، رکن اسمبلی بسوراج، اراکین کونسل رضوان ارشد اور نارائن سوامی کے علاوہ پرسٹیج گروپ کے چیرمین عرفان رزاق اور دیگر موجود تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/r8PWO

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے