Breaking News
Home / اداریہ / پیغام رمضان از:محمد عبد اللہ جاوید 

پیغام رمضان از:محمد عبد اللہ جاوید 

تقوی اور تزکیہ نفس کے ایک انتہائی جامع اور موثرمنصوبہ کے ساتھ رمضان المبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔اس ماہ مبارک کے روزوں کے التزام سے خدا کی صحیح معنوں میں بندگی کی تربیت ملتی ہے۔خدا کی بندگی اس کی نعمتوں کے احساس کے بغیر ممکن نہیں۔ غذا اور پانی کی اہمیت سے سب واقف ہیں ‘لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھوک اور پیاس کیسی ہوتی ہے اس کا صحیح معنوں میں احساس ہونہیں پاتا۔ بھوک اور پیاس کا احساس ‘ڈھیر سارے لکچرز سے نہیں بلکہ عملاً بھوکے اور پیاسے رہ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔روزوں کے ذریعہ ‘ خدا کی نعمتوں کا صحیح شعور حاصل ہوتا ہے اورمنعم حقیقی کی بندگی ہی کو زندگی سمجھنا ممکن ہوجاتا ہے۔

اس دنیامیں سب سے صحیح اور سچی بات یہی ہے کہ جس نے دنیا میں بھیجا ہے صرف اسی کی پرستش کی جائے۔ جو مال و متاع میسر آئے وہ مزید خالق کے قریب لے جائے۔یہ نہ ہو کہ مال پاکر آدمی خدا ہی سے دور ہوجائے۔ یعنی اس دنیا میں بس یہی دوحقیقتیں ہیں۔ ایک حقیقی خالق کو پہچان کر اس کی بندگی بجالانا اور دوسرا دنیوی نعمتیں پاکر خدا سے قریب ترہوجانا۔ جب ان دونوں یا کسی ایک پہلو سے غفلت برتی جاتی ہے تو انسانی زندگی سے سکون چھن جاتا ہے اور نتیجتاًمعاشرہ امن و سلامتی خالی محسوس ہونے لگتا ہے۔ آج ہندوستان کی غربت دور کرنے کیلئے دولت کی نہیں ‘انسان کے فکر و عمل میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ کیا بات ہے کہ گوداموں میں اناج سڑجاتا ہے لیکن غریبوں تک نہیں پہنچ پاتا؟ آخر کیو ں ہمارے ملک میں عرب پتی اور کروڑ پتی کے رہتے ہوئے سطح غربت سے نیچے(below poverty line) زندگی گذرانے والے کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں؟ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہندوستان جیسی فلاحی ریاست (welfare state) کے حکمران خود اپنی ہی رعایا کی خیر خواہی کرتے کہ کوئی ایک فرد بھی رات خالی پیٹ نہ سوجائے اور نہ ہی کوئی لاوارث کی طرح سڑکوں اور چوراہوں پر اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجائے؟

یہ اور اس طرح کی کئی معاشرتی بیماریاں ہیں جن کا تعلق خدا کی عطا کردہ نعمتو ں کے عدم احساس یاغلط استعمال کی وجہ سے ہے۔ رہی بات سرے سے خالق کو بھلا بیٹھنے کی یا کسی اور کو معبود بنانے کی‘ اس کے سنگین نتائج نے انسانوں کو مجبور اور لاچار کردیا ہے۔ اس سے بڑھ کر لاچاری اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان‘ اپنے ہی جیسے انسان کو خدا سمجھے؟ یا اسے اپنی بگڑی بنانے والا کارساز سمجھے؟ جس انسان کے بارے میں ایسا غیر معمولی تصور کیا جارہا ہے اس کو ایسا کیا دیاگیا ہے جو دوسرے انسانوں کے پاس نہیں؟یہ ایک حقیقت ہے ہمارے ہندوستا نی معاشرہ کی‘ یہاں لوگ خدا کے وجود کا انکار نہیں کرتے بلکہ اپنے ہی جیسے انسانوں میں یا مادی اشیاء میں اس کو تلاش کرتے ہیں۔ان کی اسی جستجو نے تہذیب و تمدن کی الگ الگ صورتیں مختلف زمانوں میں پیش کی ہے۔اس حقیقت کا صحیح فہم وشعور اور اسکے مطابق انسانی زندگی سنوارنے کیلئے درکارجذبات ‘احساسات اور قوت عمل کا فروغ‘رمضان المبارک کی عبادات کے ذریعہ یقینی بن جاتا ہے۔

خالق کی بندگی:جب کوئی عمل خالص اللہ کیلئے کیا جائے وہ لازماً اسی کی طرف بندے کو آگے بڑھاتاہے۔ رمضان کے روزوں کے ذریعہ بندہ‘روز افزوں ‘اللہ سے قربت اختیار کرتا جاتاہے۔اس کے اندر بندگی کا یہی احساس اجاگر ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں آیا ہے‘ اورساری دنیا اسی کی خدمت میں لگی ہے‘ اس کو چاہئے کہ ہر حال میں اپنے خالق کی بندگی بجا لائے۔زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ انسانوں کے لئے مسخر کردیا گیا ہے۔ زمین سے کوئی اناج حاصل کرنا چاہے‘ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ جو بویا جائے گا وہی حاصل ہوگا۔ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ امیر اور غریب کے فرق سے پیداوار کی اصل میں بھی فرق واقع ہو۔یا اونچ نیچ اور چھوت چھات کی باعث فصل میں بھی کمی واقع ہو۔ یہی حال دوسری نعمتو ں کا بھی ہے ۔پانی کا مزا‘ پھلوں کی مٹھاس ‘پھولوں کی خوشبو‘ تمام انسانوں کے لئے یکساں ہیں۔پھر موسموں کے آنے اور جانے سے جو احساسات دلوں میں ابھرتے ہیں ان میں بھی انسانوں میں کوئی فرق نہیں محسوس کیا جاسکتا ہے۔

انسانوں کے درمیان یہ یکسانیت دو چیزوں کا پتہ دیتی ہے۔ ایک تو یہ کہ ان سب کا خالق ایک ہے اس لئے ان کے آپسی فائدے اور احساسات بھی ایک ہیں۔اور دوسرا یہ کہ خالق نے زمین و آسمان ‘انسانوں کی خدمت میں لگادئیے ہیں۔ یہ اتنی گراں قدر حقیقت ہے کہ اس سے اگر صرف نظر ہو تو انسان گمراہی اور ضلالت کے اندھیروں میں چلا جاتا ہے۔ رمضان کی عبادتوں کے ذریعہ ‘خالق کائنات کی معرفت حاصل کرنے کا مزاج بنتا ہے۔ایک بندہ ‘اللہ کی خاطر دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر اور راتوں میں قیام کرتے ہوئے اسی حقیقت کو پانے کی کوشش کرتا ہے۔

نعمتوں کا احساس:انسان کی خدمت کیلئے یہ ساری کائنات مصروف ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کا جیسا چاہے استعمال کرے۔ یہ شرف کسی دوسری مخلوق کو نہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی کائنات‘ خدا ہی کابنایا ہوا انسان جب نعمتوں سے استفادہ کرے تو لازماً خدا ہی کی یاد اسکے ذہن میں تازہ ہو گی۔انسانی فطرت سے یہی بات میل کھاتی ہے۔بھوک کے وقت دو لقمے کھانا اور پیاس کے وقت دو گھونٹ پا نی‘ اس خدا کی بڑی نعمتیں ہیں۔جب انسان حقیقی معنوں میں دنیوی نعمتوں سے استفادہ کرے تواس کا لازماًایک مزاج بن جاتا ہے ہے وہ یہ جان جاتا ہے کہ جیسے دنیا اس کے لئے بنائی گئی ہے ویسے ہی وہ آخرت کیلئے بنایا گیا ہے۔ جس طرح نعمتیں ختم ہوجاتی ہیں اسی طرح اس کی زندگی بھی ختم ہوجائے گی۔جیسے دن میں سورج کی کرنیں نعمتیں بکھیرتے ہوئے شام غروب ہوجاتی ہیں‘ بالکل ویسے ہی جس خدا نے انسان کوزندگی دی‘ اسی کی جانب اسے لوٹ جانا ہے تاکہ اس سے یہ پوچھا جا سکے کہ نعمتوں کے ساتھ اسکا رویہ کیسا رہا؟ نعمتوں کو پاکر خدا کا شکر ادا کیا یا پھر نعمتوں ہی کو خدا بنالیا؟

انسانوں کی ضروریات کا احساس:رمضان کی عبادتوں کے ذریعہ انسانوں کی ضروریات کا احساس بیدار ہوتا ہے۔وقت پر کھانا نہ ملنا‘ ایک غریب کے لئے کس قدر مصیبت کا باعث ہوتاہے‘ایک روزہ دار اسے اچھی طرح محسوس کرتا ہے۔ پینے کے لئے پانی کا نہ ملنا‘ کس ذہنی اور جسمانی کوفت میں انسان کو مبتلا کرتا ہے اس سے بھی ایک روزہ دار بخوبی واقف ہوجاتا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ کھارے پانی سے گھری اس زمین سے میٹھا پانی ملنا‘خداکا خاص فضل معلوم ہوتا ہے۔روزہ کی حالت میں ایک لمبے وقت تک بھوکے اور پیاسے رہنے کے بعد جب غذا اور پانی کا استعمال ہوتا ہے تو ایک روزہ دار فطرتاً بڑا محتاط بن جاتا ہے۔غذا اور پانی کا سوچ سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔یہ اچھی طرح جان جاتا ہے کہ ان کے نہ ملنے سے انسانی زندگی کس کسمپرسی میں مبتلا ہوجاتی ہے؟ بس یہی مطلوبہ کیفیات انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے درکار ہیں۔ ہر شخص پر واضح رہے کہ انسانی ضروریات کیا ہیں؟اور اگر انہیں پورا نہ کیا جائے تو کس طرح کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ یہی وہ فکر ہے جو ایک بندہ خدا کو ‘بندگان خدا کی خدمت کیلئے تیار و آمادہ کرتی ہے۔ وہ انسانو ں کی خدمت ‘اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ اسی طرح انجام دیتا ہے جس طرح وہ عبادات کا اہتمام کرتا ہے۔

خلق خدا کی خدمت:ایسے بندہ خدا کی خوبی ہوگی کہ وہ دوسروں کو تکلیف میں رہتے ہرگز دیکھ نہیں سکتا۔جتنا کچھ اس سے بن پڑے کر ڈالتا ہے۔ خلق خدا کی خدمت ایسے ہی صالح بندوں کی پہچان بن جاتی ہے۔ وہ جہاں رہتے ہیں وہاں کوئی بھوکا اور پیاسا نہیں رہتا۔ یہی سچے ایمان والے ہیں جن کی یہ پہچان بتائی گئی کہ وہ اپنے پڑوسی کی مکمل خبر گیری کرتے ہیں۔رمضان کی شب و روز کی عبادات ‘ انسانی ضروریات کی تکمیل کا ایک اعلی وارفع جذبہ بیدار کرتی ہیں۔اس ماہ کی راتوں میں قیام کی ترغیب اس لئے دی گئی تاکہ دلوں میں بے کسوں اور مجبوروں کی دوڑ دھوپ کا احساس پیداہواور ان کی تکالیف کا اندازہ بھی۔کہ وہ کس طرح اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کی تکمیل کے لئے سخت محنت و مشقت سے کام لیتے ہیں؟ رسول اللہؐ نے بیواؤں اور مسکینوں کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والے کی مثال رات میں قیام کرنے والے سے دی ۔گویا رات میں قیام ‘دل میں خدا کی محبت کا اظہار ہے اور دن میں بندگان خدا کی خدمت کیلئے دوڑ دھوپ‘خدا کی محبت کا حاصل ہے۔ اگر کوئی خدا سے محبت کرے اور بندوں سے نہیں تو اس کی محبت کا کوئی اعتبار نہیں۔رمضان المبارک کے موقع سے جو جذبات اور کیفیات فروغ پاتے ہیں وہ اصلاً خدا کی محبت دل میں بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں بندہ ‘ بندوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو لگادیتا ہے۔

دولت کا بہاؤ:صدقہ و خیرات ‘ ایک مسلمان کی ایمانی زندگی کا حصہ ہیں۔ہر حال میں مال خرچ کرنے کو پسند کیا گیا اورکھلے اور چھپے خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ۔اس ماہ مبارک میں خرچ کرنے پر بطور خاص زور دیا گیا اور ترغیب دلائی گئی کہ رسول اللہؐ تیز ہواؤں سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔چنانچہ جن لوگوں پر زکوۃ فرض ہے وہ اسی ماہ میں غرباء اور مستحقین میں اس کی تقسیم کا نظم کرتے ہیں۔ زکوۃ کا سسٹم اصل میں دولت کے بھاؤ کا ایک فطری طریقہ ہے۔ زکوۃ ادا کرنے سے دل سے مال کی محبت کم ہوجاتی ہے اور حرص و لالچ سے دل پا ک ہوجاتا ہے۔ دولت میں برکت نصیب ہوتی ہے۔ یوں دولت ‘ مال داروں کے پا س سے نکل کر غریبوں تک پہنچ جاتی ہے۔

معاشرہ میں ہر سطح کے رہنے والے لوگوں کے درمیان خوشحالی اسی وقت آسکتی ہے جب کہ دولت کا بہاؤ ہو۔ امیروں کی دولت غریبوں تک پہنچے۔دولت اگر چند لوگوں تک محدود ہو تو پھر غربت اور اس سے متعلق بے شمار مسائل معاشرہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وطن عزیز میں غربت و افلاس کا ایک اہم سبب ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اکثر دولت مندوں کی دولت مرتکز ہے ‘ اس دولت کا کوئی حصہ غریبوں تک نہیں پہنچتا ۔ نہ ہی حکومت اس ضمن میں سنجیدہ نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ہمارے ملک میں فلم ‘ کھیل اور دیگر میدانوں سے تعلق رکھنے والی ایسی بے شمار شخصیات ہیں جن سے ہماری عوام بے تحاشہ محبت کرتی ہے اورانہیں اپنا ہیرو تسلیم کرتی ہے۔لیکن بدلے میں عوام کوکیا ملتا ہے‘معلوم نہیں ہوپاتا۔ان نمایاں شخصیات کے پاس دولت کی کثرت ہے لیکن یہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ انہوں نے اپنے ہی چاہنے والی عوام پر اسے خرچ کیا ہویا ملک کے سنگین مسائل کو اڈریس کرتے ہوئے اپنی دولت کو استعمال میں لایا ہو۔ سوائے چند کے بیشتر کا حال ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار دولت پر وراج مان ہیں۔کم از کم اپنے چاہنے والوں کی خیر خواہی اور ملک سے وفاداری کے تقاضوں پر بھی غور نہیں کرتے۔اس پر ستم ظریفی یہ کہ ہمارے ملک میں کوئی احتسابی نظم نہیں کہ جس کے ذریعہ اس صورت حال کو چیک کیا جاسکے۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا‘ دنیا کی حقیقت‘ انسان کا مقام ومرتبہ‘ زندگی کا مقصد اور بندگان خدا سے تعلق کی نوعیت واضح ہو تو انسان کا ہر رویہ درست ہوجاتا ہے۔ کسی کوکہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ایسا کرو اور ایسا نہ کرو۔ رمضان المبارک کا مہینہ اس لئے بابرکت اور عظیم ہے کہ یہ نہ صرف خدا کی صحیح معنوں میں بندگی کے لئے تیا ر کرتا ہے بلکہ معاشرہ کی بہتری اور انسانوں کی بے لوث خدمت کرنے والے خادموں کو بھی تیار کرتا ہے‘جو اپنے تمام تروسائل سے انسانیت کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور اگر کچھ نہ ہو تو اپنی قوت کارکردگی اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔

اظہار تشکر:رمضان کریم کے روزے‘دراصل اظہار تشکر کا ایک عمل ہیں۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے‘ ساری انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لئے قرآن مجید نازل فرمائی۔ یہ کتاب ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں انسان جمع کرتا ہے اور جمع کرنے کی کوشش میں اپنی ساری عمر کھپادیتا ہے۔اس لئے کہ دنیوی چیزیں ‘دنیا کی حد تک ساتھ دیتی ہیں جبکہ اس کتاب کی تلاوت اور اس پرعمل دنیا میں ترقی اور عروج اور دنیا کے بعد کی زندگی کیلئے اجر کا باعث بنتا ہے۔لہذا اس کتاب کے حاصل ہونے پر اظہار مسرت اور اظہار تشکر کا یہ طریقہ ہے جسے رمضان المبارک کی عبادات اور اسکے شب و روز واضح کرتے ہیں۔

رمضان المبارک میں خالق کی بندگی اور انسانوں کی خدمت کیلئے جو جذبات اور احساسات بیدار ہوتے ہیں انہیں مزید نکھارنے اور صحیح رخ دینے میں قرآن کریم کلیدی رول ادا کرتاہے۔اس لئے رمضان کے مہینے کے بعدبقیہ مہینوں میں اس کتاب عظیم کے ذریعہ ہدایت و راہنمائی حاصل کرنا مطلوب و مقصود قرار دیا گیا۔

معاشرہ کی تعمیر نو کے لئے تیا ر ہوجائیے:رمضان المبارک کی ان خصوصیات اور برکات کا صحیح معنوں میں حق دار بننے اور اس ماہ کی عبادتوں سے بھرپور فیض یاب ہونے کی کوشش ہونی چاہئے۔ ایمان اور احتساب کی کیفیت کے ساتھ روز وں کا اہتما م ‘ گذشتہ رمضان کی عبادتوں کے اثرات کا جائزہ اورآنے والے رمضان سے فیض یاب ہونے کا عزم سراپا خیر کا باعث ہوگا۔ اورمومنانہ شان اور کردار کے ساتھ زندگی کے شب و روز بسر ہوں گے۔

جن لوگوں کے پاس ہدایت کا کوئی سامان نہیں ہے ظاہر بات ہے ان کے عمل سے ملک اور باشندگان ملک کا کوئی بھلا نہیں ہوگا بلکہ عین ممکن ہے کہ تخریب کاری ‘بے اعتمادی‘ عدم یکجہتی اور فسادی عناصر کو شہ میسر آئے گی ۔موجودہ حالات سے اس بات کابخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔البتہ جس ملت کے پاس ہدایت کا سامان موجود ہے ‘ اس کے حرکت و عمل سے معاشرہ میں عمومی حیثیت سے لوگ لایعنی سرگرمیوں سے مجتنب اور تعمیری طرز زندگی پر توجہ دینے والے ہونے چاہئے۔آج باشندگان ملک جن حالات اور کیفیات سے دوچار ہیں‘ وہ دراصل ایک انتہائی زرخیز میدان اور بنابنایا ذہن ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ان حالات کو غنیمت جانتے ہوئے انفرادی و اجتماعی سطحوں پر قرآن ‘روزہ‘توبہ و استغفار‘ مواساۃ‘جنت کا حصول‘نار جہنم سے نجات ‘صلہ رحمی‘مستحقین کی خدمت‘انفاق‘ازالہ غربت جیسے موضوعات پر بامعنی گفتگو کا ماحول فروغ دینا چاہئے۔

معاشرہ کی تعمیر نو ‘تعمیری سوچ اور عمل ہی سے ممکن ہے۔یہ کام ملت اسلامیہ ہی سے ہوگا جس کو رب کریم ہر سال‘ایک ماہ کی خاص تربیت سے گزارتا ہے۔ اس کے اندر دولت اخلاص‘حسن اخلاق ‘آفاقی جذبات اور احساسات فروغ دیتا ہے۔ان سب نعمتوں کے پانے کے بعد ملت کے ذریعہ معاشرہ کی تعمیر نوکا ہونا اسی طرح یقینی ہوجاتا ہے جس طرح باران رحمت کے بعد زمین کے سرسبزو شاداب ہوجانا۔رمضان المبارک عظیم‘ اس ماہ کی عبادات عظیم‘ ملنے والا اجر عظیم ‘ طریقہ تربیت عظیم‘ ان سب سے فیض یاب ہونے والی ملت کے ہرفرد کا کردار بھی عظیم ہونا چاہئے۔اس غرض کیلئے ملک و ملت کے حالات کی بہتری کا عزم اوررمضان المبارک کی آمد کا شوق سے انتظار ‘ مطلوب ہے۔

اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَناَ فِیْ شَعْبَانِ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ

اے اللہ اس ماہ شعبان میں ہمیں خیر وبرکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کرنے والا بنا

The short URL of the present article is: http://harpal.in/rSDxd

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے