Breaking News
Home / اہم ترین / پی یو سی سال دوم کا امتحان9مارچ سے شروع۔ انتظامی تیاریاں زوروں پر،پرچۂ سوالات کے افشاء اورنقل نویسی روکنے کیلئے غیر معمولی انتظامات

پی یو سی سال دوم کا امتحان9مارچ سے شروع۔ انتظامی تیاریاں زوروں پر،پرچۂ سوالات کے افشاء اورنقل نویسی روکنے کیلئے غیر معمولی انتظامات

بنگلورو(ہرپل نیوز)1مارچ: 9مارچ سے امسال پی یو سی سال دوم کے سالانہ امتحانات ہونے جارہے ہیں۔گزشتہ سال پرچۂ سوالات فاش ہوجانے کے سبب طلبا اور والدین کو جس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہوسکتا ہے کہ اس بار بھی طلبا اور والدین کو یہ خوف ہو کہ کہیں اس بار بھی گزشتہ سال کی صورتحال پیش نہ آجائے۔ لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے ایسی صورتحال دہرانے کا موقع نہ دینے کیلئے سخت ترین قدم اٹھائے گئے ہیں۔پری یونیورسٹی ایجوکیشن بورڈ کے اعلیٰ افسران بشمول ڈائرکٹر کی طرف سے یہ یقینی بنایا جارہا ہے کہ پرچۂ سوالات کی ترتیب ، طباعت اور تقسیم کے تمام مراحل کی قدم بہ قدم نگرانی کی جائے، اور کسی بھی غلطی سے بورڈ یا حکومت کو ندامت نہ جھیلنی پڑے، یہ بھی یقینی بنایا جارہاہے۔ سرکاری افسران کی طرف سے تعلیمی اداروں میں انتظامات کی ابھی سے نگرانی شروع ہوچکی ہے تو دوسری طرف پرچۂ سوالات کی ترتیب ، طباعت اور شاعت سے جڑے ہر ایک لکچراراور آفیسر کی نگرانی کے ساتھ پرچۂ سوالات کی طباعت کے بعد جس مقام پر انہیں رکھا جائے گا اس مقام کی حفاظت کیلئے بائیو میٹرک آلات منگوائے گئے ہیں۔پرچۂ سوالات کے کمروں تک رسائی صرف بااختیار افسران کو ہی بائیو میٹرک تالے کھولنے پر مل سکتی ہے۔ اسی طرح جیسے کہ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ سخت حفاظت میں رکھے جاتے ہیں ، محکمۂ ثانوی تعلیمات نے پرچۂ سوالات کی حفاظت کیلئے بھی ہر ضلع میں ایک اسٹرانگ روم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بلگاوی اور اترکنڑا ضلع میں سب سے بڑے اسٹرانگ روڈ قائم ہوں گے۔ اسٹرانک روم کے اندر بھی مسلسل نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کروائے جارہے ہیں۔ محکمہ نے پہلی بار ہر امتحانی مرکز کے باہر پولیس کی تعیناتی یقینی بنائی ہے۔اس بار پی یو سی سال دوم کے امتحان میں کامرس کے 2.48لاکھ طلبا، سائنس کے 2.18لاکھ ، اور آرٹس کے 2.17لاکھ طلبا ریاست بھر میں قائم ہونے والے 998مراکز میں امتحان لکھیں گے۔ بنگلور اربن اور دکشن کنڑا میں سب سے زیادہ 79مراکز قائم ہوں گے، جبکہ رام نگرم میں بارہ مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔ اجتماعی نقل نویسی کو روکنے کیلئے پہلی بار کرناٹکا سکیور ایگزامنیشن سسٹم کے تحت کسی بھی کالج کے طالب علم کو اس کے اپنے کالج میں امتحان لکھنے کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ محکمۂ پری ایجوکیشن ایگزامنیشن کی ڈائرکٹر ڈاکٹر سی شیکھا نے بتایاکہ کسی بھی امتحانی مرکز میں اجتماعی نقل نویسی کی گنجائش موجود نہ رہے اسی لئے ایک زون میں آنے والے کالجوں کے طلبا کے رجسٹریشن نمبروں کو کرناٹکا سکیور ایگزامنیشن سسٹم کے تحت ملادیا جائے گا۔ اور کسی بھی طالب علم کو امتحان گاہ پہنچنے سے قبل تک یہ نہیں معلوم ہوپائے گا کہ وہ مقررہ کالج کے کس کمرے میں امتحان لکھ سکتاہے۔ امتحان میں شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے بورڈ کی طرف سے اور بھی کئی قدم اٹھائے جارہے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/4FST7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے