Breaking News
Home / اہم ترین / پی یو سی کے نتائج:پوری ریاست میں لڑکوں پر بھاری پڑگئیں لڑکیاں۔ضلع اتر کنڑا کو تیسرا مقام 

پی یو سی کے نتائج:پوری ریاست میں لڑکوں پر بھاری پڑگئیں لڑکیاں۔ضلع اتر کنڑا کو تیسرا مقام 

بھٹکل ( ہرپل نیوز) 12مئی ۔ سال 2016-2017کے پی یو سی دوم کے نتائج کا ریاستی وزیر برائے ثانوی تعلیم تنویر سیٹھ نے اعلان کیا جس کے مطابق ریاستی سطح پر کل نتائج کی شرح 52.38فی صد ریکارڈ کی گئی ہے ، جب کہ گذشتہ سال کے نتائج 57.20فی صدسے موازنہ کریں تو امسال نتائج میں 5 فی صدکمی واقع ہوئی ہے۔ ریاست بھر میں چھ لاکھ انہتر ہزار اکسٹھ طلبہ و طلابات نے امتحان میں شرکت کی ۔ جن میں تین لاکھ پچپن ہزار چھ سو ستانوے طلبہ کامیاب رہے جس کے حساب سے ریاستی سطح پر کل نتائج کی شرح 52.38فی صد ریکارڈ کی گئی ہے ۔ریاست بھر کل شعبہ سائنس میں 60.71فی صد، کامرس 60.09فی صد اور آرٹس میں صرف 35.05فی صد نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ وہیں بڑی تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ ریاست میں ۱۳۲کالجوں کا رزلٹ صفر رہاہے۔ جبکہ ۳۷ کالجس نے سو فیصد نتایج حاصل کئے ہیں ۔

ضلعی سطح کے نتائج کی بات کریں توساحلی پٹی کے تینوں اضلاع اُڈپی، دکشن کنڑا، اترکنڑا نے بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام پایا ہے۔ اُڈپی ضلع نے اس بار 90.01فی صد کے ساتھ پوری ریاست میں اول مقام حاصل کیا ہے ، دکشن کنڑا ضلع امسال 89.92فی صد کےساتھ دوسرے مقام پر ہے تو اترکنڑا ضلع کو 71.99فی صد نتائج کی بنا پر تیسرے مقام پر ہے۔ کرناٹکا کے نقشہ میں سب سے اوپر والا ضلع بیدر گذشتہ سال کی طرح امسال بھی 42.05فی صد کے ساتھ سب سےآخری پائیدان پر ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق شعبہ سائنس میں دوطالبات نے 600نمبرات میں سے 596نمبرات حاصل کرتے ہوئے ریاست میں ٹاپ کیاہے۔ اُڈپی ضلع ،کنداپور تعلقہ کے گنگولی مقام کی سرسوتی ودیالیا پی یو کالج کی طالبہ رادھیکا ایم پائی نے سائنس میں اور منگلورو ایکسپرٹ کالج کی سروجنانے بھی سائنس میں ہی 596نمبرا ت کے ساتھ ریاست بھر میں اول مقام حاصل کیا ہے۔ آرٹس کے شعبہ میں کوٹور کے ہندو کالج کی طالبہ چئترا نے 600میں سے 589نمبرات کے ساتھ اول مقام پرہیں۔ اسی طرح شعہہ کامرس میں شری ندھی پی جی نے بنگلورو کی آر این ایس پی یو کا لج اور ستیاسائی پی یو کالج الائک کے طالب سائی سمرات نے 595کے ساتھ کامرس میں پہلے مقام پر رہے ۔

سروجنا نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنی اس کامیابی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین کو بھی اس طرح بڑی کامیابی کی توقع نہیں تھی ۔ واضح رہے کہ لانگویج سبجیکٹ کے علاوہ تمام کور سبجیکٹس میں سو فیصد نمبرات حاصل کئے ہیں اسی طرح پوری ریاست میں سائنس میں ٹاپ کرنے والی طالبہ رادھیکا ایم پائی کا تعلق اڈپی ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں گنگولی سے ہے ۔ میڈیا کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ان کے والدین نے کبھی انہیں دیہی علاقے سے تعلق رکھنے کا احسا س نہ دلاتے ہوئے ان کا خیال رکھا ۔ ان کہنا تھا کہ ان کو اس سے بھی زیادہ نمبرات کی توقع تھی مگر اس پر بھی وہ خوش ہے ۔یہ طالبہ نے مستقبل میں انجینئر بننے کا تہہیہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ لانگویج سبجیکٹ کے علاوہ تمام کور سبجیکٹس میں سو فیصد نمبرات حاصل کئے ہیں ۔بھٹکل تعلقہ میں شعبہ سائنس میں کل نو پی یو کالجس میں انند آشرم پی یو کالج کی طالبہ ثوبیہ مومن نے چھ سو نمبرات میں پانچ سو چوراسی نمبرات کے ساتھ پورے بھٹکل تعلقہ میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ میڈیا کے ساتھ بات چیت میں اس طالبہ نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھی ٹیچر بننے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ مومن سلمان اورغزالہ تبسم کی نو ر نظر نے اس سے پہلے دوسویں میں ننانوے اعشاریہ صفر چار کے ساتھ پورے تعلقہ میں ٹاپ پر تھی۔ بھٹکل تعلقہ میں شعبہ کامرس میں بینا ویدیا پی یو کالج کی طا لبہ ریشما اچاری نے پانچ سو سستہتر نمبرات لیکر چھانوے اعشاریہ ایک چھ فیصد سے پورے تعلقہ میں سب سے ٹاپ رہی ۔ یہ طالبہ آگے چل کر اچھی چارٹڈ اکاونٹنٹ بننا چاہتی ہے ۔بھٹکل تعلقہ میں شعبہ آڑتس میں انجمن پی یو کالج فارویمن کی طالبہ عائشہ عروج چورانے اعشاریہ تین تین فی صد کے ساتھ پورے تعلقہ میں سب سے ٹاپ رہی۔یہ طالبہ آگے چل کر اچھی لیکچرار بننا چاہتی ہے ۔ عرفان عجائب کی دختر نیک اختر کے اس اچیومنٹ پر ان کے والدین بھی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔

یہاں ہم ایسی طالبہ کا ذکر کرنا چاہیں گے جس نے غربت اور کھیت کھلیان کے ناز و ادا دیکھ کر اپنے نانا کی امیدوں پر پورا اترنے کا بھر پور تہیہ کیا ۔ یہ طالبہ سھانا مادیو نائک ہیں جنھوں نے سدھارتھا پی یو کالج سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے دسویں کے بعد پی یو سی میں چھیانوے فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کئے ۔ اس طالبہ کے حوصلے اتنے بلند ہیں یہ آگے نیٹ ، سمیت کئی ایک امتحان لکھنے والی ہیں جس کے بعد وہ ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی ہیں ۔

کل ملا کر ہر سال کی طرح سال رواں بھی لڑکیوں نے لڑکوں پر بازی ماری ہے۔ کامیاب ہونےو الی طالبات کی شرح 60.28فی صد ہے تولڑکوں کے نتائج کی شرح 44.74فی صدہے۔ اگر دیہی اور شہری شرح کو دیکھیں تو دونوں میں کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آرہاہے۔اس موقع پر ہم تمام کامیاب طلبہ و طالبات کی خدمت ھدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے ان کے تابناک مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/L9glC

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے