Breaking News
Home / اہم ترین / چندر شیکھر راؤ کا ’راج دھرم‘ نبھانا سیاسی پارٹیوں کے لئے لمحہ فکر۔از:ظہیر الدین صدیقی اورنگ آباد

چندر شیکھر راؤ کا ’راج دھرم‘ نبھانا سیاسی پارٹیوں کے لئے لمحہ فکر۔از:ظہیر الدین صدیقی اورنگ آباد

ہزاروں سالہ ہندوستانی تاریخ راجاؤں مہا راجاؤں اور بادشاہوں کے عدل و انصاف کے قصوں سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ میں ان ہی بادشاہوں کا ذکرسنہرے لفظوں سے کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے دور حکومت میں رعایا پر وری کی اور سماج کے مختلف طبقات کے درمیان عدل و انصاف کو قائم کیا۔ہزاروں سال بعد بھی لوگ سمراٹ اشوک کو اسی لئے اشوکا دی گریٹ کہہ کر یاد کرتے ہیں کہ وہ اپنی رعایا کو اپنی اولاد سمجھتا تھا اور عوام کی فلاح و بہبود کو اپنا راج دھرم (حکومت کا فرض) سمجھتا تھا۔شیر شاہ سور ی کواس کے رفاہی کاموں کی وجہہ سے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ اکبر بادشاہ کو اگر مذہبی رواداری کی وجہہ سے یاد کیا جاتاہے تو جہانگیر کا عدل و انصاف کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔لیکن یہ آزاد ہندوستان کی بد قسمتی ہے کہ جمہوری طرز حکومت میں ملک کو آج تک کوئی ایسا حکمراں نصیب نہیں ہوا جس نے سماجی انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا ہو۔ انگریزوں نے جو پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی تھی جمہوری ہندوستان کے ارباب مجاز بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا رہے، انہوں نے عوام کے بیچ مذہبی دیواروں کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش کی اور ہر دو فرقوں میں اس احساس کو پروان چڑھایا کہ دوسرا فریق ہمارا دشمن ہے۔ جبکہ دستور ہند میں اس بات کی صاف وضاحت موجود ہے کہ ملک کے کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، ذات، رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جائے گی اور ہر شہری کو یکساں مواقع میسر ہوں گے۔ ہماری حکومتیں ملک کے ہندوؤں کو یہ سمجھانے میں ناکام رہی کہ مسلمانوں کے لئے اگر کچھ رفاہی کام کیا جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کی منہ بھرائی نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے، اور مسلمانوں میں یہ اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہی کہ حکومت چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو ان کے جمہوری اور دستوری حقوق کے علاوہ انہیں منصفانہ مساوی مواقع حاصل ہیں ۔جس کی وجہہ سے بر سر اقتدار پارٹیاں نہ ہندوؤں کا دل جیت سکیں اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرسکی۔بر سر اقتدار حکومتوں نے کبھی یہ کوشش ہی نہیں کہ ملک میں فرقہ وارانہ یکجہتی کو فروغ دیا جائے اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے کو عملی شکل دی جائے۔ حکومتوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کو بانٹ کر صرف اور صرف ووٹ بنک کی سیاست کی ۔ ان ہی پالیسیوں کی وجہہ سے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں فرقہ پرستی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ایسے ماحول میں جب تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ اسمبلی میں اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ریاست کے مسلمانوں کو وہ تمام سہولتیں مہیا کی جائے گی جس کے وہ حقدار ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی دوسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں یا اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب سماجی انصاف کو راج دھرم کا جز وِلا ینفک سمجھا جاتا تھا۔ راج دھرم نبھانے کی صلاح تو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھی گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو دی تھی لیکن خود اس پر عمل آوری نہیں کر سکے۔ راج دھرم کی باتیں کرنا ، صلاح دینا اور بات ہے لیکن راج دھرم کیسے نبھایاجاتا ہے اس کا عملی نمونہ پیش کرنا مفاد پرست سیاست دانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے حکمرانوں کا مخلص ہونا لازمی ہے جس کی مثال تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤاپنے دور اقتدار میں بار بار پیش کر رہے ہیں۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے جس جرأت مندی کے ساتھ ریاست کے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے تعلق سے فلاحی اسکیموں کے اعلانات کئے اور ان پر عملی آوری کو یقینی بنایا اتنی جرأت تو شائد کسی سیکولر پارٹی کے مسلم وزیر اعلیٰ میں بھی نہ ہوتی۔ تلنگانہ اسمبلی میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے فیصلوں کی فہرست تو کافی طویل ہے جس سے مسلمانوں کے کئی دیرینہ مسائل حل ہو ئے ہیں لیکن گذشتہ ہفتہ ۱۰ ؍ نومبر کو تلنگانہ اسمبلی میں جو اعلانات وزیر اعلیٰ نے کئے ان پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو ان کی انصاف پسندی کا قائل ہونا پڑے گا۔ جیسے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ، شادی مبارک اسکیم، اوورسیز اسکالر شپ کیلئے سالانہ آمدنی کی حد میں اضافہ، ریاست میں ۲۰۰؍ اقامتی اسکولوں کا قیام، مکہ مسجد کی تزئین کاری کے لئے ۸؍ کروڑروپیوں کی منظوری، حضرت عباس ذخیرہ آب کی تعمیرکے لئے ۱۲ ؍ کروڑ روپیوں کی مظوری، انیس الغرباء کی عمارت کیلئے ۲۰؍ کروڑ روپیوں کی منظوری، کوکہ پیٹ ہائی ٹیک سٹی میں اسلامک سنٹر کے لئے ۱۰ ؍ ایکڑ زمیں کا الاٹمنٹ(جبکہ مطالبہ صرف دیڑھ ایکڑ زمیں کا تھا)، مولا علی میں ریمپ کی توسیع کیلئے کارپوریشن کو ہدایت، بابا شرف الدین ریمپ کی ۵ء۹ کروڑ کی لاگت سے تعمیر کو منظوری، درگاہ حضرت برہنہ شاہ صاحب کی اراضی پر ۲۰ کروڑ کے ترقیاتی پروجیکٹس منظور جن میں خواتین کو با اختیار بنانے کا مرکز، ۸ ہزار سے زیادہ ائمہ و موذنین کو سرکاری مشاہرہ کا آغاز، مسلمانوں کو ایس سی، اور ایس ٹی کے طرز پر سرکاری اسکیمات میں حصہ اور دیگر مراعات کی فراہمی، سرکاری جائدادوں پر تقرری کے تمام امتحانات اردو میں بھی لکھنے کی سہولت، دو سال کی فیس بقایہ کی ادائیگی کے لئے ۵۷ کروڑ روپیے کا اجرا، ہر ضلع میں اسٹڈی سرکل، اسکل ڈیولپمنٹ، اور ویمن امپاورمنٹ سنٹرس کے قیام سے مسلمانوں میں ہُنر اور روزگار کو فروغ، حج ہاؤس سے متصل عمارت میں اقلیتی بہبود سے متعلق تمام محکموں کی منتقلی کے احکامات، اور سب سے بڑا اعلان یہ کہ پوری ریاست میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ اور ۶۰ دن کے اندر ریاست کے تمام اہم شعبوں میں ۶۶ مترجمین کے تقرر کی یقین دہانی، اور مسلمانوں کو ۱۲؍ فیصد ریزرویشن کے لئے مرکز سے نمائندگی کا تیقن۔آج کے اس فرقہ پرستانہ ماحول میں جبکہ نام نہاد سیکولر سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کا نام لینا بھی گوارا نہیں کر رہی ہیں کہ کہیں ہندو ووٹ ہم سے ناراض نہ ہوجائیں ایک ہی وقت میں مسلمانوں سے متعلق اتنے اعلانات کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ وہی شخص کر سکتا ہے جس کا ضمیر زندہ ہو، جو انصاف پسندہو،جسے اپنے فرض منصبی کا احساس ہو۔ کیا چندر شیکھر راؤ کو یہ خوف نہیں ہے ہیکہ اگر مسلمانوں کے لئے اتنے سارے اعلانات کئے جائیں تو ہندو اکثریت کے ووٹ ناراض ہو جائیں گے؟کیا انہیں اقتدار عزیز نہیں ہے؟ یقیناًوہ بھی چاہتے ہوں گے کہ اقتدار پر لمبے عرصہ تک قابض رہیں ، لیکن اس کے لئے انہوں نے مثبت سیاست کو اپنایا جس کی وجہہ سے انصاف پسند طبقات ہمیشہ ان کا ساتھ دیں گے، ہم بھی ان کے لئے دعا گو ہیں کہ ریاست کے تمام طبقات کا ان کو ساتھ ملتا رہے اوروہ طویل عرصہ تک اقتدار پر جمے رہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اعلانات کرتے وقت چندر شیکھر راؤ نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے یہ کیا اور ہم نے وہ کیا بلکہ انہوں نے پوری دیانت داری کے ساتھ بار بار یہ کہا کہ مجلس اتحاد المسلمین کے قائد جناب اکبر الدین اویسی نے ہم سے یہ مطالبہ کیا جسے ہم نے منظور کیا۔ وہ اگر چاہتے تو ان اعلانات کا بھر پور سیاسی فائدہ اٹھا سکتے تھے اور پورا کریڈت خود لے سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے با ظرف، بے لوث اور مخلص انسان ہیں۔وزیر اعلیٰ کے ان اعلانات نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی، الیکٹرونک میڈیا نے اسے اہم خبروں میں شامل کیا، فرقہ پرستوں نے حسب سابق اسے مسلمانوں کی منہ بھرائی سے تعبیر کر تے ہوئے شور مچانا شروع کردیا ، لیکن اردو اور مسلمانوں کی زبو حالی کا رونا رونے والے، اردو کے نام پر روزی روٹی کھانے والے اردو اخبارات کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا،خصوصاً تلنگانہ کے اردو اخبارات نے اس کو شہ سرخی بنانا تو دورصفحہ اول پر جگہ دینا بھی مناسب نہیں سمجھا، اور نہ گذشتہ ہفتہ بھر میں اس پر کوئی اداریہ یا تبصرے شائع کئے کیونکہ وزیر اعلیٰ کا تعلق اس سیاسی پارٹی سے نہیں ہے جسے وہ بر سر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں یا دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ کی ذہنی اور فکری غلامی آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ نام نہاد سیکولر پارٹی کے مفادات کے خلاف کچھ شائع کریں لیکن بر سر اقتدار پارٹی کے اچھے کاموں کو بھی یوں نظر انداز کرنا صحافتی، اخلاقی، اور ملّی بد دیانتی ہے۔مسلمان کبھی احسان فراموش نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یقین ہیکہ تلنگانہ کے مسلمان چندر شیکھر راؤ کے احسان مند رہیں گے اور ائندہ انتخابات میں جہاں کہیں مجلس کا امیدوار نہیں ہوگا وہاں پر ٹی آر یس کے امیدوار وں کو بھر پور ووٹ دیکراس بات کا ثبوت دیں گے کہ مسلمان احسان فراموش نہیں ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/E55fH

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے