Breaking News
Home / اہم ترین / ڈاکٹروں کے لئے وضع کئے گئے سرکاری بِل کے خلاف ریاست میں 40ہزارپرائیویٹ ہاسپٹلس کی ایک روزہ ہڑتال مکمل طور پر کامیاب۔ پرائیویٹ ہاسپٹلس اور کلینک پوری طرح بند ۔ سرکاری ہاسپٹل میں نظر آئی چہل پہل

ڈاکٹروں کے لئے وضع کئے گئے سرکاری بِل کے خلاف ریاست میں 40ہزارپرائیویٹ ہاسپٹلس کی ایک روزہ ہڑتال مکمل طور پر کامیاب۔ پرائیویٹ ہاسپٹلس اور کلینک پوری طرح بند ۔ سرکاری ہاسپٹل میں نظر آئی چہل پہل

بھٹکل بنگلورو( ہرپل نیوز ،ایجنسی) 3نومبر کے پی ایم ای ایکٹ میں ترمیمات کے ساتھ منظوری کے لئے جو بِل 2017اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش ہونے والا ہے اس کے خلاف ریاست گیر سطح پر انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے آج جمعہ کو بند کا اعلان کیا تھا جس کے چلتے ریاست میں چالیس ہزار ہاسپٹلس اور کلینک بند کر دئیے گئے ۔ KPMEایکٹ میں ترمیمات کے ساتھ منظوری کے لئے پیش کئے بل کے مطابق پرائیویٹ اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی خدمات کے لئے فیس حکومت کی جانب سے مقرر کی جائے گی اور اس سے ہٹ کر کوئی اضافی چارج لینا جرم ہوگا۔پرائیویٹ ڈاکٹروں کی غفلت اور بے پروائی کے معاملات اور ڈاکٹروں کے خلاف شکایات کی جانچ کرنے اور ان پر جرمانہ لگانے کے لئے سرکارکی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کی کسی غلطی پر انہیں 3سال تک کی جیل اور 5لاکھ روپے تک جرمانے کی سزابھی تجویز کی گئی ہے۔ اس مجوزہ ترمیمی بِل کے خلاف انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن IMAکی ریاستی شاخ نے 3نومبر کو ریاست گیر ہڑتال کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں ریاست کے 40ہزار اسپتالوں اور کلینکس نے یک روزہ بند منایا۔آئی ایم اے کرناٹکا چاپٹر کے صدرڈاکٹر ایچ این رویندرا کے بیان کے مطابق ریاست کے 50ہزار سے زیادہ ڈاکٹرز نے ترمیمی بل کی مخالفت میں ایک دن کے لئے اپنی خدمات کی فراہمی روک دی۔ڈاکٹر روں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ا س طرح کا بِل منظور کرتی ہے تو پھر ڈاکٹرز بھی کوئی رسک لینا نہیں چاہیں گے اور پیچیدہ معاملات میں مریض کے علاج ومعالجے سے ہاتھ اٹھالیں گے۔ اس سے نقصان بالآخر مریضوں کاہی ہوگا ،کیونکہ 80فیصدمریض سرکاری اسپتالوں کے بجائے پرائیویٹ اسپتالوں میں ہی علاج کروانا پسند کرتے ہیں۔ایسے میں کون ڈاکٹر ہوگا جو مریضوں کا علاج کرکے خود اپنے لیے خطرہ مول لینا چاہے گا۔ ڈاکٹر رویندرا نے پوچھا کہ جب پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینکس کے لئے الیکٹرک بل، پانی کا بل اور دیگر ٹیکس وغیرہ تجارتی (کمرشیل) ادارے کے طور پر وصول کیے جاتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کی طرح انہیں کوئی سبسیڈی نہیں دی جاتی ہے توپھر حکومت اپنے طور پرپرائیویٹ ڈاکٹروں نے حکومت کے مجوزہ بِل کو سخت ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل ایسو سی ایشنز کی ایک ریاست گیر میٹنگ 5نومبر کو منعقد ہوگی جس میں اس بل کے خلاف آئندہ کے اقدامات اور لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

نجی اسپتالوں کی ہڑتال کے بعد سرکاری دواخانے سرگرم : اس دوران ریاستی حکومت نے اس ہڑتال کے دوران مریضوں کو کسی طرح کی دشواری نہ ہونے پائے اس کیلئے سرکاری اسپتالوں کے عملہ کو پوری طرح مستعد رہنے کی ہدایت دی ہے۔ سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں تمام ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کو بلاناغہ ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔

بھٹکل میں بھی بند کامیاب ۔سرکاری اسپتال میں نظر آئی چہل پہل : پرائیویٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن کی طرف سے دی گئی بند کی کال کا ریاست سمیت بھٹکل میں بھی زبردست اثر دیکھا گیا ۔ گھنٹوں کا بند بھٹکل میں مکمل کامیاب رہا اور اسوسی ایشن کی حمایت میں بھٹکل کے تمام پرائیویٹ اسپتال اور کلینک بند رہے۔ جب کہ ضلع اترکنڑا سمیت ریاست کے 40ہزار سے زائد خانگی اسپتال اور کلینک میں کسی بھی مریض کا کوئی علاج نہیں ہوا۔ کچھ لوگ سرکاری اسپتال کا رخ کرتے نظر آئے۔دوسر ی طرف تعلقہ کے سرکاری اسپتال میں معمول سے کچھ زیادہ چہل پہل نظر آئی ۔ اسپتال کے تمام ڈاکٹرس اور عملہ ڈیوٹی پر تھا ۔ اسپتال میں کچھ زیادہ ہی مریض نظر آئے۔

خیال رہے کہ ریاستی حکومت کے ایم پی ای ایکٹ -2007میں پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینک کے نرخوں کو لے کر کچھ اصول و ضوابط طئے کرتے ہوئے میڈیکل بل میں ترمیم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ جس کے تحت حکومت کی طرف سے طئے کردہ فیس سے زیادہ وصول کرنے پر جرمانہ عائد کرنے اور مریضوں کی تشخیص میں ہونے والی غفلت وغیرہ کو جرم مانتے ہوئے ڈاکٹروں پر شکنجہ کسا جا سکتا ہے۔ حکومت اس بل کو بیلگام میں ہونے والے سرمائی اجلاس میں منظور کرنے کے درپے ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/uDRQO

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے