Breaking News
Home / اہم ترین / ڈاکٹر ذاکر نائک کو ایک مسئلہ بنا دیا گیا از: حفیظ نعمانی

ڈاکٹر ذاکر نائک کو ایک مسئلہ بنا دیا گیا از: حفیظ نعمانی

پورا ایک ہفتہ ہونے والا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ٹی وی کے ہر چینل پر نظر آرہے ہیں۔ دو ہفتہ سے وہ عمرہ کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔ اور انکے پیچھے مستقل انکے خلاف فضا بنائی جاتی رہی۔ جب2012سے پہلے انکا چینل ہندوستان میں چل رہا تھا تو کبھی کبھی ہم نے بھی انکی تقریریں سنیں۔اور ہمیں تسلیم کرنا پڑا کہ انکا حافظہ غیر معمولی ہے یا وہ اتنی محنت کرتے ہیں جو کسی کے لئے آسان نہیں ہے۔ دوران تقریر وہ کلام پاک کا حوالہ دیتے تھے اور قرآن شریف کی سورت کا نمبر اور آیت کا نمبر اس طرح بتاتے تھے جیسے وہ بھی قرآن کے الفاظ ہوں۔ اور اسی طرح وہ انجیل اور گیتا کے حوالے دیتے تھے کہ ہر ایک کا عنوان اور صفحہ بیان کرتے جاتے تھے۔zakir-naik-650x330
یہ بات ہم نے بھی محسوس کی کہ وہ اسلام کی تبلیغ سے زیادہ دوسرے مذاہب اور دوسرے دین اوردھرم سے مقابلہ کرتے ہیں۔اور بدعات کی مخالفت میں بہت کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں۔ کو ن مسلمان ہے جسکا ایمان یہ نہ ہو کہ اللہ تعالی نے اسلام عطاکرنے کے بعد فرمادیا کہ ابتک جتنے دین اس نے بھیجے تھے وہ سب اب مٹادئیے گئے۔ اب صرف اسلام ہے۔ اور فرمایا کہ ’’آج تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا گیا، اور نعمت تمام کردی گئی۔ اور تمہارے لئے دین اسلام اللہ نے پسند فرمالیا ‘‘۔(آزاد ترجمہ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں بھیجے جن میں 315صاحب کتاب تھے۔ لیکن اب ان میں سے صرف توریت کے چند اوراق اور انجیل پائی جاتی ہے۔ لیکن انجیل کا کوئی ایک نسخہ بھی قابل اعتماد نہیں ہے۔ یہ بات عیسائی خود تسلیم کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی کچھ دینی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے اتری ہیں۔ ان میں وید، پران،اپنشد وغیرہ ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکاکہ یہ کس نبی یا کس کس نبی پر نازل ہوئیں ؟
ان تمام کتابوں کے بعد آخری کتاب قرآن نازل ہوئی جسکے بارے میں اللہ تعالی نے خود اعلان کردیا کہ بس یہ آخری کتاب ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اور یہ وہ دین ہے جو قیامت تک رہے گا۔ آسمان سے نازل ہونے والی کسی کتاب کے بارے میں نہیں فرمایا کہ اسکی حفاظت بھی ہم کریں گے۔ اس لئے وہ تمام کتابیں وہ ہیں جن کے نام بھی نہیں معلوم لیکن قرآن پاک پندرہ سو سال کے بعد آج بھی اسی حالت میں ہے جیسا نازل ہوا تھا۔ اور جو اسکی حفاظت کے بارے میں فرمایا گیا۔ اسکا انتظام یہ ہے کہ آج لاکھوں کروڑ نسخے کتابی شکل میں ہیں۔ اور کروڑ وں ایسے مسلمان ہیں جنہوں نے پورا قرآن حفظ کرلیا ہے۔ اور یہ بھی معجزہ ہے کہ ان میں 90فیصدی سے زیادہ وہ ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ جو ہم نے یاد کیا ہے اسکا مطلب کیا ہے۔ ؟اللہ تعا لی نے بھی فرمادیا ہے کہ قرآن کے ایک حرف کے بدلہ میں دس نیکیوں کا ثواب دونگا۔ اور حدیث کے استاذ فرماتے ہیں کہ ایک نیکی کا مطلب مدینہ کے احد نام کے پہاڑ کے برابر ہے۔ اس کے بعد کون ہے جو حفظ کرنے کے بعد اسے بار بار پڑھکر نیکی نہ کمائے گا۔ ؟
ڈاکٹر ذاکر نائک پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ اسلام کے علاوہ ہر دین کو غلط کہتے ہیں۔ یہ بات وہ اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ یہ بات اللہ تعالی نے کہہ دی ہے کہ صرف اور صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جسے اب اللہ کی سند ملی ہوئی ہے۔ 2002کے بعد کے حالات سے پریشان اہم مسلمانوں کا ایک وفد اس وقت کے آرایس ایس کے سربراہ سدرشن جی سے ملنے کے لئے ناگپور گیا۔ وفد نے اپنی بات کہی انھوں نے کہا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کیا مفاہمت نہیں ہو سکتی ؟کیا رسہ کشی کے ماحول کوختم کرکے دوستانہ ماحول نہیں بنایا جاسکتا ؟سدرشن جی نے کہا کہ سب کچھ ہو سکتا ہے بس آپ یہ کہنا چھوڑ دیجئے کہ اسلام ہی سچا دین ہے اور اسلام ہی برحق ہے بلکہ یہ کہئے کہ اسلام بھی سچا دین ہے۔ اور اسلام بھی برحق ہے اسے وحدت ردیان کہا جاتا ہے جس کا اسلام مخالف ہے۔ مختلف جماعتوں کے اس وفد میں سب دینی تعلیم کے ماہر تھے وہ یہ مطالبہ سن کر سکتے میں آگئے۔ اور کسی کو یہ کہنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ ہم سوچیں گے یا مشورہ کریں گے یا کوشش کریں گے؟۔
انگریزی صحافی افتخار گیلانی صاحب نے ڈاکٹر پروین توگڑیا سے ایک انٹرویو میں انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ آپ تو ایک ڈاکٹر ہیں وہ بھی کینسر اسپیشلسٹ۔ آپ سوسائٹی کے کینسر کو دور کرنے کے بارے میں کچھ کیوں نہیں سوچتے ؟انکا جواب تھا کہ ہم بھارتی سوسائیٹی میں مدرسوں اور مارکسزم کو کینسر مانتے ہیں۔ اور ان دونوں کو جڑ سے اکھاڑ نے کے لئے وچن بدھ ہیں۔  چاہے اس کے لئے سرجری کیوں نہ کرنا پڑے ؟انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر مسلمان ہندوؤں کے جذبات کا خیال رکھیں تو ہمیں ان سے کوئی شکایت نہو۔ جب گیلانی صاحب نے ان سے معلوم کیا کہ جذبات کے خیال سے مراد ہے؟تو انکا جواب تھا کہ ہندو32کروڑ دیوی دیوتاؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم پیغمبر اسلامؐ کی بھی اسی طرح عزت کرنے پر تیار ہیں مگر مسلمان اسکی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ اور نہ اپنے یہاں کسی ہندو دیوی دیوتاکی تصویر یا مورتی رکھتے ہیں۔ توگڑیا صاحب نے کہا کہ جیسے دوسرے مذاہب کے لوگوں یعنی سکھوں بدھوں اور جینیوں نے ہندوؤ ں کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھا ہے۔ مسلمان بھی اسی طرح رہیں۔ معلوم نہیں کہ گیلانی صاحب نے یہ نہیں کہا اسلام تو اللہ رسول اور باپ دادا کی مورتی رکھنابھی حرام ہے۔
اب یہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے بھی سوچنے کی بات ہے کہ وہ اس ماحول میں اپنی تقریر کے لئے کیا انداز اختیار کریں ؟مولانا ارشد مدنی نے فرمایا ہے کہ اگر لاکھوں سننے والوں میں دو نوجوانوں نے کوئی غلط حرکت کی تو اسکا الزام کیسے بولنے والے پر ڈالا جاسکتا ہے ؟لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے ماحول کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے کیوں ایسی باتیں کہی جائیں جس کو انکے خلاف استعمال کیا جائے ؟انکا مشن اسلام کی تبلیغ تھا اس میں ان باتوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے جس سے مخالفت کے جراثیم پیدا ہوں۔ اسلام کا سب سے بنیادی مسئلہ توحید ہے۔ پروردگار نے فرمایا ہے کہ ہر غلطی کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن شرک نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام میں صلح حدیبیہ ایک وہ واقعہ ہے جسکے لئے حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ فیصلہ کسی اور امیر نے کیا ہوتا تو میں بغاوت کردیتا۔ اور بظاہر نظر بھی یہ آرہا تھا کہ مسلمانوں نے بہت دب کر فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں مکہ فتح ہونے کے بعد۔ اور حضور اکرمؐ اور حضرت ابوبکرؓ کے بعد جب حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ جس درخت کے نیچے صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا گیا تھا اب وہ درخت مبارک بنا لیا گیا ہے۔ اور بیماروں کو اسکے نیچے لاکر اس لئے لٹایا جاتا ہے کہ وہ اچھے ہو جائیں گے۔ تو انھوں نے اسے بھی شرک سمجھا اور حکم دیا کہ اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دو، بیمار کرنا اور اچھا کرنا اللہ اور حکیموں کاکام ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس مکان میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستانی سماج میں جنم استھان ہوتا اور خطرہ تھا کہ اسکی بھی پوجاہونے لگے گی۔ اسے مسجد بنانے کے بجائے لائبریری بنادیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے اوپر شرک کے دروازے کیسے بند کر دئے گئے ؟اب مزاروں کی بات کرنا یا بے وجہ یزید کے عقیدہ کے معاملے میں رائے دینا کیسے ضروری ہوگیا؟
ڈاکٹر صاحب بھی جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں تبلیغی جماعت کے لوگ گھوم رہے ہیں۔ اور ہزاروں لوگ اسلام لارہے ہیں۔لیکن وہ ہندوستان میں ساری توجہ اس پر لگائے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کو مثالی مسلمان بنایا جائے۔ انہیں نماز روزہ حج زکوۃ اور قربانی کا عادی بنایا جائے۔ اگر ڈاکٹر ذاکر نائک بریلیوں اور شیعوں کے جذبات کا خیال کرکے انہیں نہ چھیڑتے تو آج سب انکی حمایت میں آواز اٹھا تے۔ لیکن اب یہ ہو رہا ہے کہ وہ بھی انہیں جیل میں ڈالنے کی بات کررہے ہیں۔ یا دل آزاری کی شکایت کررہے ہیں۔ خداکرے کوئی ایسی بات نہ ہو کہ اسلام کے لئے آواز اٹھا نا ہی مشکل ہوجائے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/rj3IF

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے