Breaking News
Home / اہم ترین / ڈیجٹیل انڈیا کی حقیت طشت از بام۔آدھارکارڈ نہ ہونے سے راشن سے محروم 11 سالہ بچی کی موت۔سرکاری افسران ملیریا کی وجہ سے موت کی بات کہہ کر دامن کش۔ چو طرفہ تنقید کی زد پرجھارکھنڈ حکومت۔غذائی وزیر بولے افسران ایک نہیں مانتے

ڈیجٹیل انڈیا کی حقیت طشت از بام۔آدھارکارڈ نہ ہونے سے راشن سے محروم 11 سالہ بچی کی موت۔سرکاری افسران ملیریا کی وجہ سے موت کی بات کہہ کر دامن کش۔ چو طرفہ تنقید کی زد پرجھارکھنڈ حکومت۔غذائی وزیر بولے افسران ایک نہیں مانتے

رانچی (ہر پل نیوز ، ایجنسی)18 اکتوبر۔جھارکھنڈ کے سمڈیگا سے ایک بے حد حیران کن خبر سامنے آئی ہے، جہاں 8 دنوں سے بھوکی 11سال کی ایک لڑکی نے دم توڑ دیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی راشن ڈیلر نے مہینوں پہلے اس کے کنبہ کا راشن کارڈ رد کردیا تھا اور اناج دینے سے انکار کردیا تھا۔ راشن ڈیلر کا کہنا تھا کہ چونکہ اس کا راشن کارڈ آدھار کارڈ سے لنک نہیں ہے ، اس لئے وہ راشن نہیں دے سکتا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعداب ریاست کے وزیر خوراک جانچ کی بات کہہ رہے ہیں ۔ مگر جہاں ایک طرف ڈیجیٹل انڈیا کی خوب باتیں کی جاتی ہیں ، وہیں دوسری طرف بھوک سے دم توڑتی بچی کی خبر نے سبھی کو جھنجور کر رکھدیا ہے۔لڑکی کا نام سنتوشی کماری تھا اور اس نے آٹھ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ اس کی ماں نے بتایا کہ درگا پوجا کی تعطیل کی وجہ سے اسکول بند ہوگئے تھے ، جس کی وجہ سے سنتوشی کو مڈ ڈے میل بھی نہیں مل سکا اور وہ بھات (چاول ) مانگتے مانگتے دم توڑ گئی ۔ سنتوشی جل ڈیگا سیکشن کی پتی انبا پنچایت کے کریمتی گاوں کی رہنے والی تھی ۔ بی پی ایل ریکھا سے نیچے زندگی گزارنےو الی سنتوشی کے اہل خانہ میں سے کسی کے پاس بھی نوکری نہیں ہے اور نہ ہی مستقل آمدنی کو کوئی ذریعہ ہے ، جس کی وجہ سے پورا کنبہ ہی نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت ملنے والے سرکاری راشن پر منحصر تھا۔

سنتوشی کے والد ذہنی طور پر ہیں بیمار:سنتوشی کے والد ذہنی طور پر بیمار ہیں جبکہ اس کی ماں اور بہن دونوں مزدوری کرکے ایک دن میں مشکل سے 90 روپے تک کما پاتے ہیں ۔ بڑی مشکل سے کسی طرح سے گھر کا خرچہ چل رہا تھا ، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے کسی نے کچھ نہیں کھایا ھا۔ سنتوشی کی ماں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسے کچھ کھلادو ، لیکن میں کہاں سے مانگ کر لاتی ، میں اسے نمک ڈال کر چائے کی پتی ابال کر دی ، جسے وہ پی نہیں سکی ۔

اہل خانہ میں کسی کے پاس آدھار کارڈ نہیں:اہل خانہ میںکسی بھی ممبر کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے ۔ رائٹ ٹو فوڈ کمپین کے کارکن اور منریگا واچ نے جب اس کی جانچ کی تو انہوں نے پایا کہ سرکاری راشن دکاندار نے آدھار کارڈ لنک نہیں ہونے کی وجہ سے سنوشی کی مان کویلہ دیوی اور 10 دیگر کنبوں کے نام راشن پانے والوں کی فہرست سے ہٹادیا تھا۔

سرکاری افسران کا بھوک کی وجہ سے موت سے انکار:ادھر سمڈیگا کے جوائنٹ کمشنر بھجنتری نے بھوک کی وجہ سے موت ہونے کی بات سے انکار کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ سنتوشی کی موت ملیریا کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے سنتوشی کی اہل خانہ کو انتودیہ کارڈ دیا ہے ، لیکن اس کے اہل خانہ کو اب تک سرکاری راشن نہیں دیا گیا ہے ۔ سنتوشی کی موت کے بعد باہری لوگوں نے اس کے کنبہ کو کچھ راشن فراہم کرایا ہے۔

جھارکھنڈ کے وزیر کا بیان،افسران سنتے ہی نہیں: جھارکھنڈ کے سمڈیگا ضلع میں بھوک کی وجہ سے 11 سالہ بچی سنتوشی کماری کی موت کے بعد ریاستی حکومت نشانہ پر ہے۔ آدھار کارڈ نہیں ہونے کے باعث خاندان کو راشن نہیں مل سکا۔ گھر میں اناج کا ایک دانہ نہیں تھا۔خاندان کے اراکین کچھ دنوں سے بھوکے تھے۔ خوراک سپلائی کے ریاستی وزیر سریو رائے نے اس معاملے میں اپنی ہی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے افسران کسی ہدایت پر تو عمل ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔وزیر سریو رائے نے اس معاملے کا وزیر اعلی کے چیف سیکرٹری راج بالا ورما پر ٹھیکرا پھوڑا ہے۔ ان کے مطابق، چیف سکریٹری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ویسے لوگوں کا راشن کارڈ منسوخ کرنے کی ہدایت دی تھی، جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے۔بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ راشن کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کسی کو راشن کے فوائد سے محروم نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں چیف سکریٹری کا یہ حکم سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے خلاف ہے۔سریو رائے کے مطابق، وزیر ہونے کے باوجود بہت سے افسران ان کی بات نہیں سنتے۔ افسران کی لاپرواہی سے ایک بچہ کی بھوک سے جان چلی گئی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/OdY4K

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے