Breaking News
Home / اہم ترین / کانگریس سے آزاد ہندوستان کا خواب بہت جلد پورا ہوگاایڈی یورپا کرناٹک کے اگلے اسمبلی انتخابات میں لوگ یو پی کی طرح بی جے پی کی تائید کریں گے

کانگریس سے آزاد ہندوستان کا خواب بہت جلد پورا ہوگاایڈی یورپا کرناٹک کے اگلے اسمبلی انتخابات میں لوگ یو پی کی طرح بی جے پی کی تائید کریں گے

بنگلورو۔ (ہرپل نیوز،ایجنسی) 12؍مارچ :پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا نے آج کہاکہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش اور اتراکھنڈ کے نتائج سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک کو کانگریس سے آزاد بنانے کا خواب جلد پورا ہوگا۔ یہاں اخبار نویسوں سے ملاقات کے دوران کہاکہ پانچ ریاستوں کے نتائج پر بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان ریاستوں کے نتائج سے صاف ظاہر ہے کہ لوگو ں نے نوٹ بندی کے فیصلہ کو قبول کرلیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اثر کرناٹک پر بھی ضرور پڑے گا اورکرناٹک کے دواسمبلی حلقوں میں ہورہے ضمنی انتخابات پر بھی ان نتائج کا ضرور اثر پڑے گا۔ ایڈی یورپا نے پیش گوئی کی کہ اگلے سال 2018 میں کرناٹک اسمبلی کے لئے ہونے والے تازہ انتخابات میں بی جے پی 150؍سے بھی زیادہ حلقوں میں کامیابی حاصل کرکے حکومت تشکیل دے گی۔ پانچ ریاستوں میں کامیاب ہونے والے بی جے پی امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہاکہ دراصل یہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کی کامیابی ہے۔ان انتخابات میں ہر بی جے پی ورکر نے اپنا فرض ادا کیا ہے جس کے لئے تمام بی جے پی ورکرس قابل مبارکباد ہیں۔ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کی تاریخی جیت پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے دعویٰ کیا کہ ریاست کرناٹک کے اگلے اسمبلی انتخابات میں لوگ اترپردیش کی طرح بی جے پی امیدواروں ہی کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ ریاست کے 225؍حلقوں میں سے بی جے پی کو 150؍سے بھی زیادہ حلقوں میں کامیابی ملے گی اور بی جے پی اپنی حکومت تشکیل دے گی۔ اترپردیش میں بی جے پی کو توقع سے بڑی کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوپی اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کی بھاری کامیابی ریاستی وزیراعلیٰ سدارامیا کے لئے کرارا جواب ہے۔ جے ڈی ایس پر حملہ کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہاکہ اس دور میں علاقائی پارٹیوں کی اہمیت نہیں ہے یہ یوپی میں ظاہر ہوچکا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/cxYGN

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے