Breaking News
Home / اہم ترین / کاویری معاملہ میں پہلی بار مرکز نےدیا کرناٹک کا ساتھ ؛ کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار

کاویری معاملہ میں پہلی بار مرکز نےدیا کرناٹک کا ساتھ ؛ کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار

بنگلورو۔3/اکتوبر(ہر پل نیوز) کاویری آبی تنازعہ پر پچھلے ایک ماہ سے جاری مسلسل ناانصافیوں کے درمیان آج حکومت کرناٹک کو پہلی بار مرکزی حکومت نے مسرور ہونے کا موقع اس وقت فراہم کیا جب سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل نے ایک حلف نامہ دائر کرتے ہوئے واضح کردیا کہ فی الوقت کاویری نگرانی بورڈ قائم نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق عجلت میں کاویری بورڈ کے قیام کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عدالت کو بتایاکہ کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کیلئے مختار کل مرکزی حکومت ہے، عدالتوں کی مداخلت سے اس طرح کا بورڈ قائم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے بتایاکہ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کیلئے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں قرار داد کی منظوری ہونی ہے، صرف سپر یم کورٹ کے حکم دینے سے اس طرح کابورڈ قائم کرنا ممکن نہیں۔ آج مرکزی حکومت کی طرف سے اس طرح کا حلف نامہ دائر کئے جانے کے بعد اب تک تملناڈو کے حق میں فیصلے سناتے آرہی عدالت عظمیٰ کی بنچ بھی حیرت میں مبتلا ہوگئی اور اس حلف نامہ کے تعلق سے آج کوئی فیصلہ نہیں سنایا اور کل فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ ریاستی حکومت کو یہ خوف تھاکہ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام سے کاویری طاس کے آبی ذخائر پر اس کا حق ختم ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی دائر کرنے کیلئے حکومت تیاریوں میں لگی ہوئی تھی، گزشتہ جمعہ عدالت عظمیٰ کی کارروائیوں کے دوران جسٹس ادے للت اور جسٹس دیپک مشرا پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کو تین دن کے اندر کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کی ہدایت دی تھی اور مرکزی حکومت نے اس بورڈ کے قیام سے اتفاق بھی کرلیاتھا۔ ساتھ ہی کاویری تنازعہ کی یکسوئی کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے کی گئی پہل کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کروایا گیا۔جس کے بعد ہی عدالت نے یہ حکم دیا کہ کاویری کی فریق ریاستوں کیرلا، کرناٹک، تملناڈو اور پانڈیچری کے نمائندوں پر مشتمل کاویری نگرانی بورڈ تین دن کے اندر تشکیل دی جائے۔ کاویری نگرانی بورڈ کیلئے تملناڈو اور پانڈیچری کی طرف سے نمائندوں کے نام بھی تجویز کردئے گئے تھے، تاہم ریاستی حکومت نے اس بورڈ کے قیام کے فیصلے کا چیلنج کرتے ہوئے اپنے نمائندہ کا نام نہیں دیا۔ کرناٹک کی تقلید کرتے ہوئے کیرلا نے بھی کاویری نگرانی بورڈ کیلئے اپنے نمائندہ کا نام تجویز نہیں کیا۔ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے ہفتہ کے دن ودھان سودھا کے روبرو بھوک ہڑتال شروع کردی، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو مداخلت کرکے دیوے گوڈا کو یہ یقین دلانا پڑا کہ مرکزی حکومت کرناٹک کے مفادات کو قربان ہونے نہیں دے گی۔ حسب وعدہ مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ میں یہ حلف نامہ پیش کیا کہ کاویری نگرانی بورڈ عدالت کے حکم کے مطابق قائم نہیں کیاجاسکتا۔ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کے سلسلے میں مرکزی حکومت نے اٹارنی جنرل کے ذریعہ آج جو حلف نامہ دائر کیا اس پر عدالت عظمیٰ نے اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا اور اٹارنی جنرل مکل روہتگی کو لتاڑا۔ ججوں نے سوال کیا کہ جس وقت عدالت نے بورڈ کے قیام کا فیصلہ سنایا اسی وقت اٹارنی جنرل کو یہ کیوں خیال نہیں آیا کہ بورڈ کے قیام کیلئے مرکزی حکومت ہی مختار کل ہے۔ اب اچانک ایسا حلف نامہ کیوں دائر کیا جارہاہے۔ ججوں کی اس لتاڑ پر مکل روہتگی نے صرف یہی بات دہرائی کہ کاویری نگرانی بورڈ کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو ہے کسی اور کو نہیں، اس دوران حکومت تملناڈو نے کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کے متعلق مرکزی حکومت کے تازہ موقف کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ فوری طور پر مرکز کو اپنا یہ حلف نامہ واپس لینا ہوگا۔ تملناڈو کی حکمران اے آئی اے ڈی ایم کے ترجمان نے بتایاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے اچانک کرناٹک کے حق میں ظاہر کی گئی جانبداری حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ جئے للیتا کو پہلے ہی شبہ تھاکہ آخری موقع پر مرکزی حکومت کرناٹک کی جانبداری کرسکتی ہے۔ اسی لئے بار بار کاویری معاملے میں وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوتی رہیں، اب بھی تملناڈو کو سپریم کورٹ سے ہی انصاف کی امید ہے۔ جئے للیتا نے کاویری نگرانی بورڈ کے قیام پر زور اسی لئے دیا ہے کہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کردیا جائے۔ مرکزی حکومت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اے آئی اے ڈی ایم کے نے مطالبہ کیا ہے کہ فوراً یہ حلف نامہ واپس لیا جائے۔

کاویری پر کامیابی کا سہرا لینے کیلئے سیاسی پارٹیوں میں رسہ کشی
کاویری نگرانی بورڈ کا قیام فی الوقت غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ دائر کیا اس سے کرناٹک کو جو کامیابی ملی ہے اس کا سہرا اپنے سر لینے کیلئے ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں میں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ 30 ستمبر کو عدالت عظمیٰ نے کرناٹک کو حکم دیاتھاکہ تملناڈو کو روزانہ چھ ہزار کیوسک پانی فراہم کیاجائے، اور مرکزی حکومت فوراً کاویری نگرانی بورڈ قائم کرے۔ عدالت کے اس فیصلے پر غور وخوض کرنے کیلئے آج طلب کردہ خصوصی لیجسلیچر اجلاس میں تمام سیاسی پارٹیوں نے مرکزی حکومت کے فیصلے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مرکزکا شکریہ ادا کیا۔آج جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اسپیکر کے بی کولیواڈ نے کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے پر تنقید اور ججوں کے رویہ کو نشانہ نہ بنانے کی سخت تاکید کے ساتھ کارروائی شروع کی۔ اسپیکر نے پہلے ہی یہ پابندی لگادی کہ کس پارٹی سے کتنے لوگ بات کریں گے یہ فہرست انہیں دے دی جائے۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہاکہ آج سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے کرناٹک کے حق میں جو موقف اپنایا ہے اس کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی اور کرناٹک سے مرکز میں نمائندگی کرنے والے وزراء اننت کمار اور سدانند گوڈا کو مبارکباد دی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت اور اٹارنی جنرل کی طرف سے دی گئی تفصیلات کا خلاصہ کیا اور کہاکہ مرکز کے اس فیصلے سے ریاست کو کافی راحت ملی ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر کہاکہ اٹارنی جنرل نے واقعی کرناٹک کی طرفداری کرتے ہوئے کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے مکمل اختیارات کے متعلق حلف نامہ عدالت میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بھی عدالت عظمیٰ کے حکم پر نظر ثانی کی عرضی دائر کی گئی تھی، کل یہ عرضی زیر سماعت آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے جنتادل (ایس) سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا کی بھوک ہڑتال کے بعد کاویری معاملے میں اس قدر حساس موقف اپنایا ہے۔ اس مرحلے میں وزیر صحت رمیش کمار نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ ایوان میں جو بھی بات کہی جارہی ہے پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جائے،کیونکہ یہ تاریخ کا حصہ بنے گی۔ مرکزی حکومت نے اپنے نمائندہ کے ذریعہ عدالت عظمیٰ میں اپنے موقف کی اصلاح کرتے ہوئے حلف نامہ دائر کیا ہے۔اس کیلئے پورے ایوان کو چاہئے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دیں۔ اس کے ساتھ ہی 84 سال کی عمر میں خرابی ئ صحت کے باوجود کاویری مسئلے پر بھوک ہڑتال کرکے ریاست کو انصاف دلانے والے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کا موقف ہی وزیر اعظم مودی کی توجہ مبذول کرانے کا سبب بنا، اسی لئے ان دونوں کو مبارکباد دی جانی چاہئے۔ اس مرحلے میں اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کردیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/3jpFQ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے