Breaking News
Home / اہم ترین / کرناٹکا کےبجٹ میں اقلیتوں کی فلاح کیلئے اعلانات پر مختلف رد عمل

کرناٹکا کےبجٹ میں اقلیتوں کی فلاح کیلئے اعلانات پر مختلف رد عمل

بنگلور (ہرپل نیوز،ایجنسی)15/ مارچ : سابق ریاستی وزیر وموجودہ رکن اسمبلی ڈاکٹر قمرالاسلام نے ریاستی وزیر اعلیٰ کی طرف سے آج اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ کو ریاست کی ترقی کا نقیب قرار دیا اور بجٹ میں اقلیتوں کیلئے کئے گئے اعلانات کا پُر جوش استقبال کیا ہے۔ آج یہاں بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اپنے اس بجٹ کے ذریعہ صرف اقلیتوں ہی نہیں بلکہ سماج کے تمام طبقات کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقلیتوں کی فلاح کیلئے بجٹ میں اضافہ کرکے اسے 1477 کروڑ روپیوں سے 2750 کروڑ روپئے کرنے کے اقدام کا انہوں نے خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ سدارامیا کی اقلیت پروری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اقلیتی بہبود انہوں نے انتخابی منشور سے ہٹ کر جن فلاحی اسکیموں کی شروعات کی، ان میں ائمہ اور موذنین کو ہدیہ کی ادائیگی اور بدائی اسکیم شامل میں۔وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ان اسکیموں کو مقبولیت دیتے ہوئے ائمہ اور موذنین کے ہدیہ کی ادائیگی میں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی بدائی اسکیم کیلئے بھی وافر رقم مختص کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر کے 10075 ائمہ اور موذنین اس ہدیہ اسکیم سے استفادہ کررہے ہیں۔ ہدیہ میں اضافہ کااقدام قابل مبارکباد ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی طرف سے اقلیتی طلباء کی اسکالرشپ کیلئے صد فیصد رقم کے اجراء پر بھی وزیر اعلیٰ کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے ہی بحیثیت وزیر اس پہل کو گزشتہ برسوں میں آگے بڑھایا تھا اوراس روایت کو وزیر اعلیٰ نے برقرار رکھا ہے۔ انہیں اس بات کی مسرت ہے کہ ریاست میں 13.18 لاکھ طلباء سرکاری اسکالرشپ حاصل کررہے ہیں،جن میں سے مرکزی حکومت صرف 3.40 لاکھ بچوں کیلئے اسکالرشپ مہیا کراتی ہے۔ باقی بچوں کی اسکالرشپ ریاستی حکومت کے فنڈس سے ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیمات کیلئے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور آئی آئی یس سی میں داخل ہونے والے ہر اقلیتی طالب علم کو 2 لاکھ روپئے دینے کے فیصلہ کابھی خیر مقدم کیا۔

حیدر آباد کرناٹک:  ڈاکٹر قمرالاسلام نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے امسال حیدرآباد و کرناٹک ترقیاتی بورڈ کیلئے 1500 کروڑ روپئے مہیا کرواتے ہوئے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ انہوں نے اس بورڈ کیلئے 5000 کروڑ روپئے مہیا کرانے کا وعدہ کیا تھا، جس میں سے 2500 کروڑ روپئے پہلے ہی مہیا کراچکے ہیں۔ اب تازہ بجٹ میں 1500 کروڑ کی رقم دی ہے۔ انہوں نے گلبرگہ پولیس کمشنریٹ کے قیام کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا۔

بی سی آئی سی نے کرناٹک کے بجٹ کو ترقی پسند قرار دیا

بنگلور چیمبر آف انڈسٹری اینڈ کامرس (بی سی آئی سی ) نے ریاست کے بجٹ کو ترقی پسند بجٹ قرار دیا اور کہا کہ دیہی۔ شہری ترقی پر مساوی توجہ دی گئی ہے ۔اس بجٹ میں علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے بالخصوص محاصل کے شعبہ میں ریاستی بجٹ صحیح سمت میں ہے ۔یہ جی ایس ٹی پر عمل میں آگے رہنے کے تئیں ایک اور قدم ہے ۔مرکزی بجٹ 2017کی مقرر کردہ سمت میں ریاستی بجٹ نے بھی دیہی ترقی پر توجہ دی ہے ۔تعلیم ' صحت ' آبپاشی ' خاندانی بہبود ' کھیل کود ' باغبانی ' سیریکلچر ' آبی وسائل ' طب وغیرہ ہر شعبہ میں بجٹ میں الاٹمنٹ کیاگیا ہے ۔آئندہ سال کے انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے انہیں مقبول کی گئی ہے ۔ بنگلور چیمبر آف انڈسٹری اینڈ کامرس میں ریاستی حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر کی ترقی بالخصوص بنگلور کے اطراف ترقی کی سمت کی ستائش کی ، تاکہ بنگلور کے برانڈ تا عالمی برادری میں تحفظ کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ سلک بورڈ اور کے آر پورم کے درمیان ریل لنک کے آغاز کی منظوری ایک اہم قدم ہے ۔ اس سے بنگلور وکے آئی ٹی شعبہ میں کام کرنے والوں کی پریشانیوں کو دور کیا جاسکتا ہے ۔اسی طرح نما میٹرو کے دوسرے مرحلہ کے آغاز سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے ۔ بی ایم ٹی سی ' ڈی ایم آر سی ایل ' بی ڈی اے اور بی بی ایم پی کے لئے رقمی الاٹمنٹ اور بیشتر تجاویز اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حکومت بنگلور میں انفراسٹرکچر کی ضروریات کی تکمیل کی طرف توجہ دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں ریاست میں نئی سرمایہ کاری کو یقینی طور پر راغب کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت یونیورسٹیز ' تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی تجویز رکھتی ہے تاکہ آئی ٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس اور فنشنگ اسکول قائم کئے جاسکیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/VmK23

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے