Breaking News
Home / اہم ترین / کرناٹک حکومت نے بھارت بند کی حمایت نہیں کی: سدرامیا۔ کانگریس نے 'بھارت بند'کا اعلان بھی نہیں کیا:کھرگے کی وضاحت

کرناٹک حکومت نے بھارت بند کی حمایت نہیں کی: سدرامیا۔ کانگریس نے 'بھارت بند'کا اعلان بھی نہیں کیا:کھرگے کی وضاحت

بنگلورو۔(ہرپل نیوز)27؍نومبر وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا کہ ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کی طرف سے اپنائی گئی نوٹ بندی پالیسی کے خلاف 28 نومبر کے بھارت بند کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ حکومت کی طرف سے کسی بند کی حمایت نہیں کی جارہی ہے، اس دن اسکول ، کالجس اور سرکاری دفاتر حسب معمول کام کریں گے، کسی بھی ادارہ کو کوئی چھٹی نہیں دی جائے گی۔آج شہر میں اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ نوٹ بندی کی وجہ سے عوام کو جو پریشانی ہورہی ہے اس کے خلاف احتجاج میں کانگریس محض حصہ لے گی، لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے بند کی حمایت کا کوئی اعلان نہیں کیاگیا ہے۔ اس موقع پر آئی اے ایس آفیسر ڈی کے روی کی خود کشی کے متعلق سی بی آئی کی رپورٹ کا تذکرہ کئے جانے پر وزیراعلیٰ نے اس رپورٹ کو مبنی بر حقائق قرار دیا، جس میں سی بی آئی نے ڈی کے روی کی مبینہ خود کشی کو ان کا ذاتی اقدام قرا ردیا اور کہاکہ گھریلوپریشانیوں سے تنگ آکر ڈی کے روی نے خود کشی کی ہے۔ حکومت نے پہلے ہی بارہا یہی کہاتھاکہ ڈی کے روی نے ذاتی وجوہات کے سبب خود کشی کی ہوگی، لیکن اپوزیشن پارٹیاں بالخصوص بی جے پی نے ضدکی کہ اس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے ، اب جبکہ سی بی آئی کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کے سامنے ہے، اس رپورٹ میں حکومت کے موقف سے اتفاق کیاگیا ہے اور بی جے پی کا جھوٹ عوام پر ظاہر ہوچکا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ودھان سودھا کے احاطہ میں بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی۔ودھان سودھاکے روبرو میٹرو ریل پراجکٹ کی تعمیر کے سبب یہاں سے امبیڈکر مجسمہ کوہٹادیا گیا تھا ،تاہم اب اس کی تنصیب کاکام حال ہی میں پورا ہوا اور آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے اس مجسمہ کی نقاب کشائی

کانگریس نے 'بھارت بند'کا اعلان بھی نہیں کیا:کھرگے

ادھر لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ ان کی پارٹی نے 28 نومبر کو 'بھارت بند' کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن اس نے بغیر تیاری کئے نوٹ بندی کے فیصلے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) حکومت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔مسٹر کھرگے نے کہا، 'مرکز کے بغیر سمجھداری سے کئے گئے فیصلے کی وجہ سے درمیانے طبقے کے درمیان غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ ہم نوٹوں کی منسوخی کے خلاف نہیں ہیں ،لیکن اسے لوگوں کے مفادات کو متاثر کئے بغیر سائنسی طریقے سے لاگو کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے پر غصہ ظاہر کیا اور کہا کہ نوٹوں کی کمی کی وجہ سے عام آدمی ضروری سامان بھی نہیں خرید پا رہا ہے ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ آنا چاہئے اور بحث میں حصہ لینا اور نوٹ بندی پر اپوزیشن کے خدشات کا جواب دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا، 'اس ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے میں نوٹ بندی پر وزیر اعظم نریندر مودی کے اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں، لیکن یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔ حکومت کو نوٹ بندی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے احتیاطی قدم اٹھانے چاہیے تھے اور اس کے بعد 500 اور 1000 روپے کے نوٹ کو بند کرنا چاہیے تھا'۔مسٹر کھڑگے نے کہا کہ کانگریس نوٹ بندی کی خامیوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہے ۔ غیرسائنسی طریقے سے اس فیصلے کو لاگو کئے جانے سے کچھ لوگوں کو جان گنوانی پڑی اور اگر اس سے ملک میں اقتصادی بحران پیدا ہوتا ہے تو مسٹر مودی خود اس کے لئے ذمہ دار ہوں گے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/XQnNX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے