Breaking News
Home / اہم ترین / کرناٹک میں خشک سالی کامعاملہ : متاثرہ علاقوں کو مناسب امداد کی سفارش کرنے جائزہ ٹیم کی یقین دہانی

کرناٹک میں خشک سالی کامعاملہ : متاثرہ علاقوں کو مناسب امداد کی سفارش کرنے جائزہ ٹیم کی یقین دہانی

بنگلورو،6؍ستمبر(ہرپل نیوز)ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا سہ روزہ جائزہ لینے والی مرکزی ٹیم کے سربراہ مرکزی محکمۂ زراعت کے جوائنٹ سکریٹری نیرجا آدی دام نے کہاکہ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، مرکزی ٹیم نے اس صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔پندرہ دنوں کے اندر ٹیم اپنی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کرے گی۔ آج ودھان سودھا میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ریاست کے مختلف اضلاع میں پچھلے تین دن سے صورتحال کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔کسانوں کو فصلوں کے ناکام ہوجانے کی وجہ سے بھاری نقصانات جھیلنے پڑے ہیں۔ پانی کی قلت کے سبب جہاں فصلیں تباہ ہوئی ہیں وہیں چارہ کی قلت سے مویشی مررہے ہیں۔ بارش نہ ہونے کے سبب زمین کافی حد تک سوکھ چکی ہے۔ان تمام نکات کو بنیاد بناکر ہی مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔انہوں نے بتایاکہ دس رکنی مرکزی ٹیم نے اپنے آپ کو تین حصوں میں تقسیم کرکے مختلف اضلاع کا دورہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے تمام مقامات کا اطمینان سے معائنہ کیا ہے۔ کمیٹی پر بعض مقامات پر عجلت میں معائنہ کرنے کے الزامات کو انہوں نے بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات کی فہرست میں اضافہ کیا گیا ہے، اس کا بھی کمیٹی نے جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بی جے پی وفد نے ان سے ملاقات کرکے خشک سالی سے متاثر کرناٹک کیلئے خصوصی پیاکیج دینے کی سفارش کا مطالبہ کیا ہے۔اس دوران ٹیم سے ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے بتایاکہ بی جے پی اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر مشتمل وفد نے نیرجا آدی دام سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کے 139 تعلقہ جات خشک سالی سے بدحال ہیں اسی لئے کرناٹک کو مرکز سے زیادہ سے زیادہ امداد مہیا کرانے کی سفارش کی جائے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں مناسب کارروائی کا یقین دلایا۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگدیش شٹر نے بتایاکہ مرکزی ٹیم نے مختلف اضلاع کا دورہ کیا ہے اس معائنہ کے دوران ٹیم کو ریاست کی صورتحال سمجھ میں آگئی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں امداد ملنے تک ریاستی حکومت خاموش نہ رہے بلکہ فوری طور پر راحت کاری کیلئے قدم اٹھائے جائیں ۔ کئی دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ، لیکن وہاں ٹینکروں کے ذریعہ پانی فراہم نہیں کیاجارہا ہے۔ کوآپریٹیو بینکوں کے ذریعہ کسانوں سے قرضہ جات کا تقاضہ کافی بڑھ چکا ہے۔ ریاستی حکومت یہ ہدایت جاری کرے کہ بدحال کسانوں سے قرضہ جات کی وصولی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کہ حالات بہتر نہ ہوجائیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/lf0YJ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے