Breaking News
Home / اہم ترین / کرنسی کی تبدیلی اور میڈیا از: راحت علی صدیقی قاسمی

کرنسی کی تبدیلی اور میڈیا از: راحت علی صدیقی قاسمی

دیہات ،قصبات اور شہروں کا عالم یکساں ہے،لوگ پیسے حاصل کرنے کے لئے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں،گھنٹوں مشکل حالات کو سہتے ہیں اور چند روپے لے کر گھر کی جانب رخ کرتے ہیں تاکہ زندگی کو بحال رکھا جاسکے اور ضروریات زندگی کچھ حد تک پایۂ تکمیل کو ہیں۔بازار سونے پڑے ہیں ،تجارت ٹھپ ہے ،مزدور پریشان ہیں ،لوگ بھوک پیاس کی شدت جھیلنے پر مجبور ہیں۔سبزی فروخت کرکے، چائے پان بیچ کر اپنی زندگی کے پہئیے کو متحرک کرنے والے افراد سکتے میں ہیں،ان کی زندگی کی رفتار مدھم پڑگئی ہے،مسائل اژدہوں کی مانند پھنکارنے لگے ہیں ،دن رات سوچ و فکر میں مبتلا ،کاروان حیات کی فکر میں ڈوبے ہوئے ،صبح کی پو پھوٹتے ہی سائیکل کے ساتھ زور آزمائی کرتے ہوئے،غریب بے بس لاچار افراد، اپنی محنت ومشقت کی گاڑھی کمائی کو حاصل کرنے کے لئے بینک کے سامنے لگی قطار میں شامل ہوجاتے ہیں اور پھر روپیوں کے حصول میں پسینے چھوٹ جاتے ہیں ،بسا اوقات بلکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمنددو چار ہاتھ ہی جب لب بام رہ گیا۔ نمبر آتے آتے نقدی ختم ہونے کا اعلان کسی موت کی خبر سے کم تکلیف دہ محسوس نہیں ہوتا ،پھر مایوسی کے ساتھ خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ آتے ہیں اور جو اپنی بھوکی اولاد کے چہروں کو دیکھنے کی تاب نہیں لا پاتے وہ نبض حیات ہی کاٹ لیتے ہیں ۔50 کے قریب موت کے واقعات اس دعوی کی دلیل ہیں ،بوڑھا باپ بیٹی کی شادی کے لئے روپے مہیا نہ کر سکا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یا جوان دوشیزہ نے کئی دنوں تک پیسے نہ ملنے کہ سبب خوکشی کرلی ،اس طرح کے واقعات کرنسی تبدیلی کے فیصلہ سے مسلسل رونما ہوئے ہیں،اور ان افراد کی بے بسی کامذاق اڑایا گیا،زخموں پر نمک چھڑکا گیاکہ غریب چین کی نیند سور رہا ہے اور امیر نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور ہے۔آپ جاپان کے حالات دیکھ کرآئے ہیں اور گفتگو کررہے ہیں ہندوستان کے متعلق۔اگر یہ دعوی حقیقت کے قریب ہے تو چند ایسے مالداروں کے نام پیش کردیجئے جو نیند کی گولیاں کھارہے ہیں؟یا کچھ ایسے غریب لائیے جو سکون سے سوئے ہوں؟مرنے والوں میں کتنے ایسے ہیں جو بلیک منی چھپانے کے خوف اور فکر میں دنیا سے رخصت ہوئے؟ان سوالات کے جوابات آپ کے دعوی کی پول کھول کر رکھ دیں گے۔ حقائق کیا ہیں ؟عام ہندوستانی صبح سے شام تک اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے،بھگتتا ہے،تھک ہار کر بستر کا رخ کرتا ہے اور سو جاتا ہے،جب صبح ٹی وی یا اخبار دیکھتا ہے ،تو عجیب و غریب صورت حال سے واقف ہوتا ہے ،جہاں اینکرس مسکرا کر یہ بیان کررہے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد سے ہندوستان میں خوشی کا ماحول ہے،تہوار کی طرح خوشیاں منائی جارہی ہیں،لوگ جشن منا رہے ہیں،ملک ترقی کی راہ پر آگیا ،ٹیکس چوروں کو دھر لیا جائے گا ،غریبی دور ہوجائے گی، وزیر اعظم نے بہت موزوں فیصلہ لیا ہے،اس سے آگے بڑھ کر عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فوجی سرحدوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ،اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں اور خوشی خوشی ملک کے لئے جان قربان کردیتے ہیں تو ہم لائن میں لگ کر ملک کے لئے کچھ مشقت کیوں نہ اٹھائیں۔عجیب منطق اور عجیب دلیل ہے،فوجی ملک کے دشمنوں سے لڑ رہا ہے اور ہم اپنی ہی رقم حاصل کرنے کے لئے بھکاری بنے ہوئے ہیں، چلئے آپ کے خیال کے مطابق ہم بھی ٹیکس چوروں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تو پندرہ دن ہونے کو ہیں ،بتائیے آپ نے کتنے ٹیکس چوروں کو گرفتار کیا ہے؟کتنی بلیک منی حاصل کرنے میں آپ کامیاب ہوئے ہیں؟بلیک منی ہندوستان میں زیادہ ہے ،یا سوس بینک اور پناما میں؟ اس سلسلہ میں آپ کی تحقیقات کیا ہیں ؟وہ بیان کیجئے ،کتنے امیروں کو آپنے قطار میں لگا ہوا پایا؟ اس کی فہرست عوام کے سامنے پیش کیجئے؟اس سلسلہ میں کوئی ٹی وی چینل یا کوئی نیوز اینکر گفتگو کرتا ہوا نظر نہیں آتا،عوام کے مسائل ان کی مشکلات و پریشانی بھی کسی کو نظر نہیں آتی۔ خودکشی کرنے والوں کے درد اور تکلیف کا بھی کسی کو احساس نہیں ہے،یہ خیال پختہ ہوگیاکہ میڈیا حکومت کا آلہ کار بنا ہوا ہے،بی جے پی کی زبان بول رہا ہے ،وہی منطق، وہی دلائل تمام اینکرس کی زبان پر محض اتفاق ہے ،یا اس میں کوئی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے، حالات غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں،این ڈی ٹی وی کے علاوہ کسی کو نوٹ بدلتے عوام پریشانی میں نظر نہیں آئے ۔جمہوریت کا چوتھا ستون جب مفاد پرستی کا آلہ بن جائے تو یہ جمہوریت کے لئے انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے،اس کا مستقبل تاریک محسوس ہونے لگتا ہے ،چونکہ ہر شخص اسی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے اور جب اس کے بھروسہ کا مذاق اڑایا جانے لگے تو سمجھنا دشوار نہیں کہ مستقبل کس صورت حال کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے،جہاں سے عوام کا درد بیاں ہوتا، حکومت کو مشورہ دئے جاتے ،ایسے طریقے بیان کئے جاتے جو عوام کے لئے سہولت کا ذریعہ ثابت ہوں ،ان اداروں کا یہ حال یقیناًقابل افسوس ہے۔سپریم کورٹ بھی لوگوں کے کرب کو محسوس کررہا ہے مگر وہ افراد جو حقائق کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور انتہائی غور وفکر کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیتے ہیں ،انہیں یہ خوفناک صورت حال کیوں نظر نہیں آرہی ہے ؟ بڑا سوال ہے،جو ہر ہندوستانی کے ذہن میں آنا چاہئے،ہم کسی کی جاگیر نہیں ہیں،ہم بے جان اشیاء نہیں ہیں ،تو ہمیں ان حالات میں کیوں غور وفکر نہیں کرنا چاہئے؟کیوں اندھے کی مانند کسی کے پیچھے چلیں ،جب کہ ہم بصارت و بصیرت کی عظیم دولت سے مالا مال ہیں،کیا ہمیں ان چینلس پر اب بھی اعتماد کرنا چاہئے ؟کیا یہ متعصب نہیں ہیں؟کیا یہ عوام اور ملک کے حق میں گفتگو کر رہے ہیں،گذرتا ہوا ہر لمحہ ان سوالات کے جواب اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے ،صرف ہمیں توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے،بعینہ یہی صورت حال ہندی میڈیا کی بھی ہے ،وہاں زور و شور کے ساتھ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ ملک مودی کے ساتھ ہے اور عجیب و غریب تناسب پیش کیا جارہا ہے،جو عیاں کرتا ہے کہ ملک کی عظیم اقلیت ہی اس فیصلہ کے خلاف ہے اور باقی ہندوستان کا ہر شہری خوش ہے ،جب کہ مشاہدہ کچھ اور ہی بیاں کرتا ہے ،میڈیا کا متعصبانہ رویہ مسلمانوں کے تئیں کئی مرتبہ ظاہر ہوچکا ،ملزم کو مجرم کہنا بلکہ دنیا کا عظیم دہشت گرد بنا کر پیش کرنا کوئی بڑی اور نئی بات نہیں ہے،جو ملک کے ایک خاص طبقہ کو خوش کرنے کے لئے ٹی آرپی بڑھانے کے لئے ہمیشہ کیا جاتا رہا اور ہم خوشی خوشی دیکھتے رہے،انہی واقعات نے میڈیا کو اس جرأت و ہمت سے لیس کردیا کہ آج وہ پورے ملک کی تکلیف کو بھلا کر اپنے مقاصد کی تکمیل میں ڈٹا ہواہے،اس صورت حال میں کیا کرنا ہے؟کس طرح میڈیا کو احساس کرانا ہے کہ وہ حکومت نہیں عوام کے افادہ کا ذریعہ ہے،اسے اس کا کردار اور میدان عمل یاد دلانا ہے اور ساتھ ہی حق اور سچ کی آواز بننا ہے اور خاص طور پر ان سنگین حالات میں ملک و ملت کی خدمت کررہے اردو میڈیا کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں،کیونکہ وہ نربھیا کے لئے بھی آواز بلند کرتا ہے،روہت وومیلا کے غم میں بھی شریک ہوتا ہے،کنہیا کمار کو انصاف دلانے کے لئے بھی پیچھے نہیں رہتا اور نوٹوں کی تبدیلی میں ہورہی مشکلات کو بھی بیاں کرتا ہے اور آسانیوں کو شامل حکمت عملی بھی بیان کرتا ہے۔وہاں رام رحیم کا فرق نہیں ہے،ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانا جو میڈیا کا حق اور اس کی روح ہے،وہاں پوری طرح موجود ہے،کاش ہندوستان کی تمام زبانوں کے میڈیا کا یہی مزاج ہوجائے اور تفریق و تعصب کہ خیالات کو موت آجائے ،اس کے لئے عام آدمی کے تعاون کی شدید ضرورت ہے ،جو جذبات فروخت کرتے ہیں، انہی اپنی طاقت اور دانش مندی کا احساس دلائیے،ملک کے لئے بھی بہتر ہوگا اور آپ کے لئے بھی۔بشکریہ مضامین.کام 

نوٹ : مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/5V9Fr

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے