Breaking News
Home / اہم ترین / کشمیر میں معمولات زندگی درھم برہم ۔ کرفیو اور ہڑتال چھٹے روز میں داخل، موبائیل، انٹرنیٹ اورریل خدمات پوری طرح ٹھپ

کشمیر میں معمولات زندگی درھم برہم ۔ کرفیو اور ہڑتال چھٹے روز میں داخل، موبائیل، انٹرنیٹ اورریل خدمات پوری طرح ٹھپ

(سری نگر،ایجنسی نیوزایٹین ،ہرپل نیوز)14  جولائی ۔ وادی کشمیر میں حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برkashmir111ہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر اور گرمائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جبکہ وادی کے باقی حصوں میں مکمل ہڑتال جمعرات کو مسلسل چھٹے روز بھی جاری رہی۔ کرفیو زدہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو اشیائے ضروریہ خاص طور پر دوھ اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وادی کشمیرمیں موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات کی معطلی بھی آج چھٹے دن میں داخل ہوگئی۔ تاہم سری نگر جموں قومی شاہراہ پر شبانہ ٹریفک کی آمدورفت جاری ہے۔ اس شاہراہ اور تاریخی مغل روڈ پر 10 اور 11 جولائی کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رکھی گئی تھی۔سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ وہ سبھی گاڑیاں جو بدھ کی دوپہر جموں سے وادی کے لئے روانہ ہوئی تھیں، رات کے وقت یہاں پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ اِن میں امرناتھ یاتریوں کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امرناتھ یاتریوں کی گاڑیوں کو براہ راست بال تل بیس کیمپ کی طرف روانہ کیا گیا اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر کسی بھی گاڑی کو جنوبی کشمیر میں واقع ننون پہل گام بیس کیمپ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ اگرچہ شاہراہ پر عائد تمام پابندیاں ہٹالی گئی ہیں، تاہم جنوبی کشمیر میں پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کے مدنظر لوگ دن کے اوقات میں اس شاہراہ پر سفر کرنا ترک کرتے ہیں۔ ایک ٹریفک پولیس افسر نے بتایا کہ محکمہ سے وابستہ اہلکار اب شبانہ ڈیوٹی دیکر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں پیدا شدہ احتجاجی لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد تین درجن سے متجاوز کرگئی ہے، جن میں بیشتر ہلاکتیں جنوبی کشمیر کے اضلاع میں ہوئی ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 1500 سے زائد بتائی جارہی ہے، جن میں سے 100 سے زائدنوجوان آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیںوادی میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر اور گرمائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں آج بھی کرفیو کو برقرار رکھا گیا۔ تاہم اِن میں سے بیشتر علاقوں میں احتجاجی مظاہرین کرفیو کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے منظم کررہے ہیں جس دوران اِن کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسری جانب وادی میں آج چھٹے روز بھی مکمل ہڑتال جاری رہی۔ خیال رہے کہ بذرگ علیحدگی پسند رہنما و حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کل اپنے ایک مشترکہ بیان میں 13جولائی کے مجوزہ پروگرام پر قدغن لگانے، دیگر حریت پسند رہنماؤں کو مسلسل اپنے گھروں اور پولیس اسٹیشنوں میں نظربند رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے14جولائی جمعرات کو آر پار مکمل ہڑتال، 15جولائی جمعۃ المبارک مکمل ہڑتال اور بعد نمازِ جمعہ بھرپور احتجاج، ائمہ مساجد اپنے خطابات میں مطالبہ حق خودارادیت دہرائیں گے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/reioc

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے