Breaking News
Home / مضامین / کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے از:حفیظ نعمانی

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے از:حفیظ نعمانی

برسوں کے تقاضوں کے بعد کل اتر پردیش کانگریس کے نئے انچارج غلام نبی آزاد نے اعلان کیا کہ مسز پرینکا گاندھی رائے بریلی اور امیٹھی کے علاوہ اتر پردیش کے دوسرے شہروں قصبوں میں جہاں ضرورت سمجھی جائے گی پرینکا گاندھی پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں دورے کریں گی ۔مسلسل کانگریس کی گرتی ہوئی حالت کو دیکھتے ہوئے جگہ جگہ سے یہ نعرہ اٹھتا تھا کہ پرینکا گاندھی آئیں اور کانگریس امیدوار کو کامیاب کرادیں ۔کانگریس کا مطلب بہت دنوں سے سونیا اور راہل ہوگیا تھا ۔سونیا گاندھی کسی طرح یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھیں کہ ملک راہل کو وزیر اعظم کے طور پر یا ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب راہل کی بات آتی تھی تو سونیا ایک ماں ہوجاتی تھیں ۔ایسی ماں جو اپنے بیٹے کو چاہے وہ جیسا ہو کسی بھی مسئلہ میں نااہل ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتی ۔یہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔بلکہ یہ قدرت نے فطرت ہی ایسی بنائی ہے جسکا مظاہرہ ہم نے گھر کے اندر اور باہر ہر جگہ دیکھا ہے۔
پرینکا وڈیرا کے معاملہ میں ہو سکتا ہے کہ سونیا گاندھی کے لئے انکے شوہر رکاوٹ بن رہے ہوں ۔لوک سبھا کے الیکشن کے وقت نریندر مودی صاحب نے ایک بار نہیں بار بارکہا تھا ۔اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ کہا تھا کہ پرینکاکے شوہر اور سونیاجی کے داماد کے خلاف انکے پاس اتنے پختہ ثبوت ہیں کہ اگر ہماری حکومت بن گئی تو زیادہ سے زیادہ چھ مہینے میں وہ جیل میں ہونگے ۔شری مودی کا جس طرف اشارہ تھا وہ منظر ہر اس آدمی نے دیکھا تھا جو ٹی وی دیکھتا ہے ۔اور ہر اس آدمی نے پڑھا تھا جو اخبار پڑھتا ہے کہ ہریانہ اور راجستھان میں نہ جانے کتنی زمین مسٹر وڈیرا کو بہت کم قیمت پر دیدی گئی ہے جسے انھوں نے بڑے بڑے بلڈروں اور صنعت کاروں کے ہاتھ فروخت بھی کردیا ۔اور بقول مودی کہ 50لاکھ لگائے اور ایک مہینہ میں وہ 30کروڑ بن گئے ۔
شری نریندر مودی کو وزیر اعظم بنے ہوئے دو سال سے زیادہ ہو چکے ۔اور ہم نے کہیں نہ سنا اور نہ پڑھا کہ وڈیرا کے خلاف ہریانہ اور جے پور میں مقدمے قائم ہوگئے اور وہ کبھی ہریانہ ۔اورکبھی جے پور پیشی پر جارہے ہیں ۔انتہا یہ ہے انکے خلاف مقدمے کا اتنا ذکر بھی نہیں جتنا سلمان خان کے ہرن مارنے کے مقدمے کا ہوتا ہے ۔بظاہر دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ ہریانہ اور راجستھان کے وزیر اعلی نے ان سودوں کے جو کاغذات تیار کرائے ہوں وہ انتہائی شاطر پٹواریوں قانون گویوں اور وکیلوں نے ایسے بنائے ہوں کہ کوئی ان پر انگلی نہ رکھ سکے ۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ نریندر مودی نے بھی وہی پالیسی اپنائی ہو جو 1977سے 1780تک بننے والے مرار جی دیسائی پہلے وزیر اعظم سے لیکر چندر شیکھر آخری وزیر اعظم تک سب نے اپنائی کہ ایمرجنسی ختم ہونے اور جیل سے باہر آنے کے بعد جو ہر لیڈر نے کہا تھا کہ وہ اندراگاندھی اور سنجے گاندھی کو نیست ونابود کر دیں گے ۔اور سوائے انکے گھر کی تلاش کے ۔اور چک منگلور سے کامیاب ہوکرآنے کے بعد بھی اندرا گاندھی کو پارلیمنٹ میں نہیں آنے دیا ۔انہیں نااہل قرار دیدیا ،کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔اور 1980میں اندراگاندھی پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ہندوستان کی وزیر اعظم بنیں ۔یعنی بہتر، ہے کہ کوئی بڑا کسی بڑے کے خلاف کارروائی نہ کرے ۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ بات وہ ہے جو ہم نے پہلے کہی ہے ۔اس لئے کہ 26مئی 2014کے بعد کسی سیاسی منچ پر رابرٹ نظر نہیں آئے ۔لیکن ایک مہینہ پہلے جنتر منتر پر جو کانگریس نے احتجاج کیا اس میں جو بینر اور پوسٹر تھے ان میں رابرٹ وڈیرا کے فوٹو بھی تھے جو اسکا اشارہ تھا کہ اب انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔اور شاید مسز سونیا گاندھی نے بھی اسی لئے پرینکا کو میدان میں لانے کا فیصلہ کرلیا کہ دونوں میاں بیوی ساتھ رہیں گے ۔اور وڈیرا بھی ایک لیڈر بن جائیں گے ۔
ہم نہیں سمجھتے کہ پرینکا کے آنے سے کوئی انقلاب آجائے گا ۔ہو سکتا ہے کہ کانگریس کے غلام نبی آزاد جیسے بڑے لیڈر وں نے یہ سوچا ہو کہ جیسے اندرا گاندھی جب اپنے باپ کی کانگریس کو چھوڑ کر آئی تھیں تو صرف اپنی مقبولیت سے انھوں نے نیلم سنجیوا ریڈی کو چھوڑ کر وی وی گری کو کھڑا کرکے جیتا لیا تھا ۔ہمیں خوب یاد ہے کہ وہ جب امیدوار بن کر لکھأو آئے ہیں تو صرف ایک آزاد ایم ایل اے جگدیش گاندھی نے انکا استقبال کیا تھا ۔بعد میں اندرا جی نکلیں اور پورے ملک کادورہ کرکے انہیں کامیاب کرایا ۔لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب عوام کانگریس سے ناراض ہونا شروع ہوگئے تھے اور اندرا گاندھی نے اسی سے فائدہ اٹھا یا کہ میرے باپ پنڈت نہرو تمہارے لئے جو کچھ کرنا چاہتے تھے یہ بوڑھے انہیں کرنے نہیں دیتے تھے ۔اور میں اس لئے کانگریس چھوڑ کر آئی ہوں کہ میں غریبی ہٹانے کے لئے وہ سب کرونگی جو پنڈت جی کرنا چاہتے تھے ۔اور یہی وہ نعرہ تھا جس نے کانگریس کو سنڈیکیٹ کانگریس بنا دیا ۔اور اندرا گاندھی کی کانگریس کو پہلے کانگرس sبنایا پھر کانگریس Iبنادیا ۔اسوقت اگر کانگریس کی یہ پوزیشن ہوتی کہ پرینکا اپنی ماں اور بھائی سے بغاوت کرکے نکلتیں ۔اور کہتیں کہ میری ممی نے بیٹے کی محبت میں کانگریس کو تباہ کردیا ۔اور میرے اوپر یہ پابندی لگا دی کہ میں رائے بریلی اور امیٹھی سے آگے نہ جاؤں ۔میں اگر اب بھی نہ نکلتی تو کانگریس اتر پردیش میں بالکل ختم ہو جاتی ۔اسکے بعد وہ اگر غلام نبی آزاد کو ساتھ لیکر پورے اتر پردیش کو ہیلی کاپٹر سے ایک شہر بنا دیتیں تو بالکل ممکن تھا کہ ہر کانگریسی اور مسلمان ٹوٹ پڑتے ۔اور جوٹی وی رپورٹر کرویا مرو کی پوزیشن بتا رہے ہیں وہ مرو کی نہ ہوتی کرو کی ہوجاتی ۔لیکن اس حالت میں کہ سر پرست سونیا گاندھی ہیں اور سروے سروا راہل گاندھی ہیں ۔راہل کی مدد کے لئے اور کامیابی کا سہرا بھائی کے سر پر باندھنے کے لئے ہر شہر اور ہر قصبہ میں اگر پرینکا گئیں تو بس اتنا فرق تو ہو جائے گا کہ کانگریس کے جلسوں میں بھیڑ بھی زیادہ ہو جائے گی اور جلوس بھی بڑے بڑے نکلیں گے لیکن ووٹ بھی بہت زیادہ ہو جائیں امید نہ رکھنا چاہئے ۔
غلام نبی آزاد صاحب کا تعلق کشمیر سے ہے ۔اور وہ کشمیر اور دہلی کے درمیان ہی سر گرم رہے ہیں ۔اتر پردیش میں کسی ذمہ داری کے ساتھ پہلی بار آئے ہیں ۔اور ملک کے مسلمانوں میں یا اتر پردیش کے مسلمانوں میں اگر وہ معروف نہیں ہیں تو ایسے بھی نہیں ہیں جن سے کوئی شکایت ہو ۔ وہ بہت اچھے مقرر ہیں اور مسلمانوں میں ایسی حالت میں وہ اثر انداز ہو سکتے ہیں جیسے حالات میں بہار کے مسلمانوں نے کانگریس کو ایک حیثیت دیدی یعنی ملک صرف دو خانوں سیکولر اور غیر سیکولر میں تقسیم ہوجائے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/6wU0b

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے