Breaking News
Home / اہم ترین / کل 10 جنوری سے بابری مسجد معاملے پر سماعتکا ہوگا آغاز: سماعت کے لئے تشکیل دی گئی ہے پانچ ججوں کی آئینی بینچ

کل 10 جنوری سے بابری مسجد معاملے پر سماعتکا ہوگا آغاز: سماعت کے لئے تشکیل دی گئی ہے پانچ ججوں کی آئینی بینچ

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)9جنوری:بابری مسجد – رام مندرمعاملے پرسماعت کے لئے پانچ ججوں کی بینچ تشکیل کی گئی ہے۔ اس آئینی بینچ میں جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوڑے، این وی رمنا، یویوللت اورڈی وائی چندرچوڑہیں۔ 10 جنوری سے اس معاملے کی سماعت شروع ہوگی۔گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا تھا کہ تین ججوں کی بینچ اس کی سماعت کرے گی، لیکن اب اس بینچ میں پانچ جج ہوں گے۔ واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ستمبر2010 کے فیصلے کے خلاف  14 اپیل سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 2.67 ایکڑزمین کوتین حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ایک حصہ ایک حصہ سنی وقف بورڈ، ایک حصہ رام للا وراجمان اورایک حصہ نرموہی اکھاڑا کو دیا گیا ہے۔ تینوں ہی فریقوں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے میں 533 ایگزیبٹ، 87 گواہ جن کے بیان 14000 صفحات پرمشتمل ہیں اورہزاروں دستاویزہیں جوسنسکرت، اردو، عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی میں ہیں۔ ان سب کوپڑھنے میں ہی کافی وقت لگ سکتا ہے۔

اجودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے 26 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ 6 دسمبر1992 کو اجودھیا میں بابری مسجد کومنہدم کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس کے بعد سے اب تک اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ ایک طرف بابری مسجد فریق کا کہنا ہےکہ سپریم کورٹ کا جوبھی فیصلہ ہوگا، وہ ہمیں قابل قبول ہوگا جبکہ ہندوتنظیموں کا کہنا ہےکہ ہمیں اجودھیا میں رام مندرکی تعمیرسے کم کچھ منظورنہیں ہے۔ اس کے لئے مودی حکومت پرآرڈیننس لانے کا بھی مسلسل دباو بنایاجا رہا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/xyTHL

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے