Breaking News
Home / اہم ترین / کمٹہ میں اقلیتی نوجوان پر حملہ کے بعد حالات میں کشیدگی۔ کمٹہ بند کی کال بےاثر۔ حالات کشیدہ مگر قابو میں

کمٹہ میں اقلیتی نوجوان پر حملہ کے بعد حالات میں کشیدگی۔ کمٹہ بند کی کال بےاثر۔ حالات کشیدہ مگر قابو میں

کمٹہ (ہرپل نیوز )18ارچ: کمٹہ میں ایک ہجوم نے اقلیتی طبقے کے ایک نوجوان پر یہ کہہ کر حملہ کیا کہ اس نے ان کے مذہبی جلوس کو چپل دکھا کر جلوس کی بے حرمتی کی ہے ۔ نوجوان کی کی بری طرح پیٹائی کرنے کے بعد خود اُسے پولس کے حوالے کرتے ہوئے اس پر یہ سنگین الزامات عاید کئے ۔ متعلقہ نوجوان کی شناخت حذیف حسن شیخ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ کل شام پیش آئے مارپیٹ کے اس واقعہ سے ناراض لوگوں نے آج کمٹہ بند کی کال دی تھی جو پولیس کی مستعدی کے چلتے مؤ ثر ثابت نہیں ہوئی ۔ احتجاجیوں نے زبردستی کچھ دکانیں بند کروانے کی کوشش کی تو پولیس نے مداخلت کر کے اسے ناکام بنایا ۔ البتہ بعض مقامات پر بند کا ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا ۔ میڈیا نے جب واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ویسا کچھ بھی نہیں ہوا جسیا کہ حملہ آوروں نے الزام لگایا تھا ۔ معاملہ کی حقیت جاننے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ قریب آٹھ نو ماہ قبل بھی شرپسندوں نے حذیف پر ایک ہندو لڑکی کے ساتھ معاشقہ کا معاملہ سامنے آنے پر حملہ کیا تھا ۔ مگر اس معاملہ پر سے پردہ تب اٹھا جب جب حیرت انگیز طور پر متعلقہ لڑکی نے خود حُذیف پر حملہ کرنے والے نو شرپسندوں کے خلاف معاملہ درج کرایا تھا اور بتایا تھا کہ اُن شرپسندوں نے ہی ان کے کپڑے پھاڑے ہیں اور غلط اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے اُسے بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سابقہ واقعہ سے ناراض شرپسند حذیف سے اس کا بدلہ لینے کی فراک میں تھے ۔ جسے انہوں نے اس بار مذہبی رتھ کو چپل دکھانے کی بات کہہ کر استعمال کیا ۔ حالانکہ موقع پر موجود عینی شاہدین نے ایسی کسی بھی بات سے انکار کیا ہے ۔ واقعہ منظر عام آنےکے بعد کمٹہ میں تناؤ کا ماحول تھا ۔ اس بیچ شر پسندوں نے پولیس کی اجازت حاصل کئے بغیر ہی بائک ریالی نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے اس ے بھی روک دیا ۔ پولیس کےایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ مارپیٹ کرنے والے اور قانوں کی خلاف ورزی کرنے والے سبھی لوگوں پر کیس درج کئے گئے ہیں ۔

 فی الحال کمٹہ میں حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پولیس کی اضافی فورس لگائی گئی ہے ۔ اور بھٹکل ڈی وائی ایس پی حالات پر نظر رکھنےکے لئے کمٹہ ہی میں موجود ہیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/2slcJ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے