Breaking News
Home / اہم ترین / کولکاتہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کے موقع پر بی جے پی نکالے گی یکساں سول کوڈ کی حمایت میں ریلی

کولکاتہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کے موقع پر بی جے پی نکالے گی یکساں سول کوڈ کی حمایت میں ریلی

کلکتہ : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مجوزہ کلکتہ اجلاس جو 18,19اور 20نومبر کو منعقد ہونا ہے کے موقع پر مغربی بنگال بی جے پی کے جانب سے 18مئی کو یکساں سول کوڈ اور تین طلاق پر پابندی کے مطالبہ کی حمایت میں مظاہرے کے اعلان سے کلکتہ کی مسلم شخصیتوں و لیڈروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بی جے پی ریاست میں فرقہ واریت کو پھیلانے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتی ہے ۔ خیال رہے کہ بی جے پی نے 18مئی کو ریاست بھر میں یکساں سول کوڈ اور تین طلاق پر پابندی کی حمایت میں مظاہرے کا اعلان کیا ہے ۔اس اعلان کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کی انتظامیہ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے ذریعہ بورڈ کے اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے ۔

آل انڈیا مائناریٹی فورم کے صدر قمرالزماں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں امن و امان کی فضاء کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ہماری مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ امن وامان کو قائم رکھیں ۔مگر اس کے باوجود بی جے پی ہماری راہوں میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے گی تو ہم اس کا جواب دیں گے ۔

خیال رہے کہ کلکتہ پولس نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس عام کیلئے پارک سرکس میدان جو کلکتہ شہر کے قلب میں واقعہ ہے اور میدان کے ارد گرد مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے کو پہلے یہ کہہ دینے سے انکار کردیا تھا کہ سیکورٹی کے پیش نظر پارک سرکس میدان میں اجلاس عام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں شدید ناراضگی پھیل گئی تھی کلکتہ پولس سے دوبارہ رابطہ کیا گیا اس کے بعد پارک سرکس میدان میں اجلاس کی اجازت دیدی گئی ہے۔امید ہے کہ پانچ سے 6لاکھ افراد پارک سرکس میدان میں جمع ہوں گے

مغربی بنگال بی جے پی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی حمایت میں جارحانہ رویہ اختیار کرکے بنگال میں اپنی زمین سازگار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔حال ہی میں جمعےۃ علماء مغربی بنگال کے پروگرام میں ریاست کے تین وزراء پارتھو چٹرجی، فرہاد حکیم اور صدیق اللہ چودھری کی شرکت کے خلاف خواتین کمیشن سے شکایت کی ہے کہ ان تینوں وزراء نے تین طلاق کی حمایت کرکے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/R4l3h

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے