Breaking News
Home / اہم ترین / کولیسٹرول کیسے کریں کنٹرول؟ ایس اے ساگر

کولیسٹرول کیسے کریں کنٹرول؟ ایس اے ساگر

ایک سیدھا سادا شخص جنرل اسٹور سے ریفائنڈ آئل خرید رہا تھا۔دوکاندار نے جب اس کے سامنے تیل کا ڈبہ رکھا تو اس نے مفت انعام کا مطالبہ کیا۔دوکاندار نے کہا کہ،’’ اس کیساتھ کچھ بھی فری نہیں ہے ۔‘‘
گاہک نے ڈبہ پر لکھی ہوئی عبارت پڑھوائی، صاف اور نمایاں لفظوں میں تحریر تھا،
’کولیسٹرول فری‘
دوکاندار سر پکڑ کے رہ گیا۔ بیچارے گاہک کو کون سمجھائے کہ کولیسٹرول کوئی انعام نہیں بلکہ موم کی طرح پیلے رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو انسانی جسم میں جگرکے اندر تیار ہوتاہے اور خون میں ذرات کی شکل میں پایاجاتاہے۔ خلیوں کی نشوونما،صحت کی کارکردگی، نظام ہاضمہ، ہارمونز کی تیاری غرض یہ تمام جسمانی امور میں ایک مرکزی کردار ادا کرتاہے۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اگر یہ مقررہ حد سے تجاوز کرجائے تو خون کی شریانوں میں جمناشروع ہوجاتاہے۔جو حرکت قلب کیلئے خطرے کاباعث بنتاہے۔موت کا پیغام ثابت ہوتا ہے۔ ریفائنڈ آئل بنانے والی کمپنی نے اپنے پروڈکٹ پر’کولیسٹرول فری‘لکھ کر اطمینان کروایا تھا کہ اس کے تیل میں کھانا پکانے سے صارفین کو کولیسٹرول کی مضرت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا!
بیداری کا فقدان :
دراصل انسان اپنی سماجی اور معاشرتی سرگرمیوں میں اتنا مصروف ہے کہ اسے اپنی مصروفیت میں سے اپنے لئے وقت نکالنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ آجکل فاسٹ فوڈ کا رجحان بڑھ گیاہے۔ زیادہ مزے کی خاطر لوگ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں یا جو وہ کھارہے ہیں اس کے ان کی صحت پر کیا اثرات پڑیں گے۔ یہی لاپروائی کولیسٹرول میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔مقررہ حد کے اندر کولیسٹرول کوئی بیماری نہیں ہے یہ زیادہ تیل والے کھانے یا چکنائی بھری خوراک ہمارے کولیسٹرول میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور ہم کس طرح اس کا دفاع کرسکتے ہیں کیونکہ کولیسٹرول دل اور شریانوں کی صحت بگاڑنے یا بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کولیسٹرول کی جانچ کیلئے لپڈ پینل ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔جبکہ ایک صحت مندانسان کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح 200 ملی گرام سے کم ہونی چاہئے۔ کولیسٹرول کی سطح 240 ملی گرام سے تجاوز کرجائے تو دل کے ا مراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کولیسٹرول کی 13 اقسام ہیں جن میں سے تین اقسام بہت مشہور ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1 ۔مفید کولیسٹرول اسے ایچ ڈی ایل HDL ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین کہتے ہیں۔
2 ۔مضر کولیسٹرول اسے ایل ڈی ایل LDL لو ڈینسٹی لیپو پروٹین کہتے ہیں۔
3 ۔ٹرائی گلیسرائیڈ یہ چربیلے ذرات ہوتے ہیں جو شریانوں میں خون کی کارگردگی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
1۔ایچ ڈی ایل کولیسٹرول:
ایچ ڈی ایل کولیسٹرول ہمارے لئے فائدے مند ہے۔ یہ کولیسٹرول شریانوں کی اندرونی دیواروں پر نہیں چپکتا اور پلیک کی تشکیل کو ناممکن بناتا ہے۔ یہ دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں چکنائی نہیں جمنے دیتابلکہ زائد کولیسٹرول کو خون کے بہاؤ کے ذریعے جگر تک لے آتاہے، جہاں پر یہ مختلف مراحل سے گزر کر جسم سے باہر چلا جاتا ہے۔ایک صحت مند جسم میں ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح 35 ملی گرام ہونی چاہئے جبکہ یہی سطح 60 ملی گرام ہوتو یہ دل کے مسائل سے تحفظ دیتی ہے۔
ایچ ڈی ایل بڑھانے کا طریقہ:
ایچ ڈی ایل کی سطح کو بڑھانے کیلئے ایسی غذائیں کھائیں جن میں چکنائی کا ذرا سا بھی شبہ نہ ہو خاص طور پر مچھلی اور اخروٹ ایچ ڈی ایل کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔ اگر آپ کا ایچ ڈی ایل کولیسٹرول 35 ملی گرام سے کم ہے تو آپ اس کو روزانہ 30 منٹ کی ورزش کے ساتھ پورا کرسکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ورزش کا یہ دورانیہ ایک گھنٹے تک کرلیں مگر پابندی سے کریں تاکہ آپ کا ایچ ڈی ایل لیول مطلوبہ مقدار میں آجائے۔
2۔ایل ڈی ایل کولیسٹرول:
یہ کولیسٹرول نقصان دہ ہوتے ہیں اس کی زیادتی شریانوں میں چربی جمنے کی وجہ سے خون کی رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے اور شریانوں میں تنگی پیدا کردیتی ہے۔ یہ چربیلے ذرات کی تشکیل کرتا ہے جنہیں پلیک کہتے ہیں۔ جس سے انسان پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایل ڈی ایل کی سطح 100ملی گرام سے کم ہونا چاہئے جبکہ 160 سے 189 کے اعدادو شمار خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ کوشش کریں کہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح آپ کے جسم میں 100 ملی گرام سے زیادہ نہ ہوں زیادہ چکنائی والے کھانوں سے پرہیز اور موٹاپے پر قابو پانے کیلئے ورزش کریں اس طرح اس کی سطح معمول پر آجائے گی۔
ایل ڈی ایل کم کرنے کاکیا ہے طریقہ؟
چکنائی والے کھانوں سے بالکل پرہیز کریں۔ اپنے کھانوں میں ایسی غذاؤں کا اضافہ کریں جس میں فائبر شامل ہو۔ مثال کے طور پر روزانہ اسپغول کی بھوسی ایک چمچ پانی کے ساتھ استعمال کریں اور ناشتے میں میں جو کا دلیہ کھائیں، لیموں کوپانی میں نچوڑ کر پئیں تاکہ آپ کے جسم کی فالتوں چکنائی کم ہوسکے۔ ریشے والے پھل کھائیں جیسے اورنج اور چکوتراوغیرہ تاکہ ایل ڈی ایل کی سطح مطلوبہ مقدار سے زیادہ نہ بڑھے۔
3۔ٹرائی گلیسرائیڈ:
ٹرائی گلیسرائیڈ خون میں چربیلے ذرات کی ایک قسم ہے۔یہ عام طور پر زیادہ کیلوریز کھانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔جسمانی محنت کرکے جوکیلوریز آپ استعمال نہیں کرتے، وہ جسم میں چربی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔یہ ہارٹ اٹیک کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ٹرائی گلیسرائیڈ کی اضافی مقدار دل کی شریانوں کی بیماری سے مربوط کی جاتی ہے۔ چکنائی کے یہ ذرات ہمارے جسم میں صرف اس وقت کام آتے ہیں جب ہمیں توانائی کی زیادہ ضرورت ہو جب ہم کوئی محنت طلب کام کرتے ہیں لیکن یہ مقدار ہمارے جسم میں 150 ملی گرام سے کم ہونی چاہئے۔
ٹرائی گلیسرائیڈ کم کرنے کاکیا ہے طریقہ؟
چکنائی والا گوشت، انڈے کی زردی، مکھن، مارجرین اور مرغن غذائیں ان سب سے سخت پرہیز کریں کیونکہ ان میں کولیسٹرول بکثرت پایا جاتا ہے۔ بغیر چکنائی والا دودھ استعمال کریں۔ اپنے کھانے میں سبزیوں کااستعمال بڑھادیں اور پھل کھائیں ضروری نہیں کہ صرف موٹے افراد ہی اس کا شکار ہوں دبلے پتلے افراد بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ روزانہ پابندی سے کم از کم 30 منٹ چہل قدمی ضرور کریں۔ زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں لفٹ پر جانے سے بہتر ہے کہ سیڑھیوں سے چل کر جائیں اس سے آپ کی کیلوریز کم ہونگی۔
اگر آپ کے لپڈپینل ٹیسٹ میں کولیسٹرول کی سطح بڑھی ہوئی آرہی ہے تو پریشان ہونے کی بجائے پرہیز اور ورزش پر زیادہ زور دیں۔ باہر کے کھانے اور چکنائی سے بھرپوراشیاکا استعمال چھوڑ دیں۔ سخت توجہ ، پرہیز،ورزش اور صحیح معلومات ہی آپ کو بڑھے ہوئے کولیسٹرول سے نجات دلا سکتی ہیں۔
تحفظ دینے والے 10 پھل:
کولیسٹرول کی شرح کو قابو میں رکھنے کیلئے تازہ پھلوں کا استعمال بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ میں شامل وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی دفاعی نظام کی طاقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ دوران خون میں کولیسٹرول کو بھی صحت مند شرح پر رکھتے ہیں۔ ایسے دس موثر ترین پھلوں کے بارے میں جانے جو کولیسٹرول کو معمول پر رکھتے ہیں۔حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت سامنے آئی ہے کہ اسٹرابری کا روزانہ استعمال جسم کیلئے نقصان دہ کولیسٹرول کی دوران خون میںشرح کو 4 سے دس فیصد تک کم کرتی ہے۔ اسٹرابریز اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہیں جو کہ کینسر اور امراض قلب سمیت متعدد بیاماریوں سے تحفظ دینے کیلئے اہم ثابت ہوتے ہیں، جبکہ اس کا روزانہ استعمال موٹاپے پر بھی قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
سرخ انگور:
سرخ انگور کولیسٹرول کی شرح کم کرنے کیلئے بہترین قدرتی پھل ہے اور یہ امراض قلب سے بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان انگوروں میں فائبرز کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے خاص طور پر اس کے بیجوں اور چھلکے پر جو نظام ہضم کو بہتر بناتی ہے۔ طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق سرخ انگوروں کا چھ ہفتوں تک روزانہ استعمال مضر صحت کولیسٹرول کی شرح میں 14 فیصد تک کمی لاتا ہے۔
مالٹے:
مالٹے کولیسٹرول کی شرح کو بڑھنے نہیں دیتے بلکہ انہیں نظام ہضم کا حصہ بناکر دوران خون میں منتقل کردیتے ہیں۔ روزانہ ان کا استعمال یا ان کے جوس کے ایک گلاس کا روزانہ استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ اس میں شامل وٹامن سی دیگر امراض سے تحفظ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لیموں:
تمام ترش پھلوں کی طرح لیموں میں بھی وٹامن سی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ جسم میں مضر صحت کولیسٹرول کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتے اور معمول پر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس میں شامل فائبرز نظام ہضم کو بہتر بناتے ہیں جس سے بھی دوران خون میں کولیسٹرول کی شرح بڑھنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
کیوی:
اگرچہ اس پھل کا مضر صحت کولیسٹرول میں کمی کے حوالے سے فوائد اب تک سامنے نہیں آئے ہیں تاہم طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ضرور دیکھی گئی ہے کہ کیوی کے استعمال سے جسم کیلئے درکار صحت مند کولیسٹرول کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ دل کو متعدد امراض سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
گریپ فروٹس:
گریپ فروٹس بھی مالٹوں اور لیموں کی طرح مضر صحت کولیسٹرول کی شرح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ طبی سائنس کے مطابق سرخ گریپ فروٹس کا استعمال معمول بنالیا جائے تو یہ کولیسٹرول کی شرح کم رکھنے اور دل کو صحت مند بنانے میں موثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پھل جسم میں چربی کو گھلاتا ہے جس سے موٹاپے پر قابو پانا بھی آسان ہوجاتا ہے۔
بلیو بیریز:
بلیوبیریز کے طبی فوائد اکثر سامنے آتے رہتے ہیں جیسے یہ دماغی طاقت کو بڑھاتی ہے، کینسر سے تحفظ دیتی ہے جبکہ جسمانی ورم یا سوجن کو دور بھگاتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ کولیسٹرول کی شرح کو بھی معمول میں رکھنے کیلئے مددگار پھل ہے۔ یہ دوران خون میں چربی کے خلیات کو منتشر کرکے کولیسٹرول کی شرح کو نقصان دہ حد تک بڑھنے نہیں دیتی۔
ایووکیڈو:
ایووکیڈو میں ایسے صحت بخش اجزا پائے جاتے ہیں جو مضر صحت کولیسٹرول کم کرکے فائدہ مند کولیسٹرول کی شرح کو بڑھاتے ہیں۔ یہ پھل بلڈپریشر کی شرح بھی معمول میں رکھنے کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے عمر بڑھنے کے ساتھ امراض قلب و فالج وغیرہ سے بھی تحفظ ملتا ہے۔
خوبانی:
خوبانی ایسے اجزاسے بھرپور پھل ہے جو دوران خون میں مضرصحت کی بجائے فائدہ مند کولیسٹرول کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے جو دیگر متعدد امراض سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
سیب:
روزانہ ایک سے دو سیب کھانے کی عادت مضر صحت کولیسٹرول کی شرح کم کرتی ہے اور دل کو صحت مند رکھتی ہے، یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ سیب میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس کولیسٹرول کو شریانوں میں اکھٹے نہیں ہونے دیتے۔ اسی طرح یہ پھل موٹاپے سے تحفظ دینے کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور یہ محاورہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ روزانہ ایک سیب کھانا ڈاکٹر کو دور رکھتا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/qnIzF

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے