Breaking News
Home / اہم ترین / کہاں سے آ رہے ہیں لاکھوں کروڑوں کے نئے نوٹ؟

کہاں سے آ رہے ہیں لاکھوں کروڑوں کے نئے نوٹ؟

عام آدمی کو گھنٹوں لائن میں کھڑے ہونے کے بعد دو ہزار کا نوٹ بھی نہیں مل رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کے پاس لاکھوں کروڑوں کے نئے نوٹ کہاں سے آ جا رہے ہیں؟ اگربلیک منی  کے خلاف کوئی مہم چل رہی ہے تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو سسٹم کا فائدہ اٹھا کر لاکھوں کروڑوں روپے کا کیش حاصل کر رہے ہیں۔ کیا یہ معاملہ صرف بینک مینیجر اور کسی کے درمیان ساز باز کا ہے یا اس کے پیچھے بڑی ہستیاں بھی شامل ہیں۔ آٹھ نومبر کی نوٹبدي کے بعد انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپوں سے ایسی تمام خبریں آئی ہیں۔ جمعہ کو گجرات پولیس نے 76 لاکھ روپے کے نئے نوٹ برآمد کئے ہیں۔  یہ تمام دو ہزار کے نئے نوٹ ہیں۔  پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ نئی کرنسی میں بڑا اما وّنٹ لے کر آ رہے ہیں۔ پولیس نے جب ہونڈا کار کی تلاشی لی تو اسے 76 لاکھ ملے۔ گرفتار لوگوں میں ایک خاتون بھی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ 76 لاکھ نئے نوٹ کس کے ہیں۔ آپ کو یاد دلا دیں کہ بزنس مین بھی کرنٹ اکاؤنٹ سے ہفتے میں 50000 سے زیادہ نہیں نکال سکتے ہیں۔ عام آدمی 24000 سے زیادہ نہیں نکال سکتا تو ان لوگوں کے پاس 76 لاکھ کے نئے نوٹ کہاں سے آ گئے؟ضرور دس بیس واقعات میں لوگ نئے نوٹوں کے ساتھ پکڑے گئے ہیں۔ لیکن اگر ایسا کرنے میں بہت سے لوگ کامیاب ہوئے ہیں تو یہ عام آدمی کے ساتھ ناانصافی ہے جو دو ہزار کے نئے نوٹ کے لئے تین تین دن گھنٹوں لائن میں لگتا ہے۔  یہ واقعات بتا رہے ہیں کہ سسٹم میں اتنی بڑی مقدار میں نئے نوٹوں کو حاصل کرنا بہت مشکل نہیں ہے۔ کیا یہ نئے نوٹ پرانے نوٹوں کو بدل کر دیئے گئے ہیں یا کسی کے کہنے پر انہیں اتنی رقم دی گئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی تحقیقات میں ثابت کرنے میں تو مہینوں لگ جائیں گے لیکن اس وقت جب عام آدمی پریشان ہے کیا اس کے جاننے کا حق نہیں ہے کہ کس طرح کچھ لوگوں کے ہاتھ میں اتنی بڑی مقدار میں نئے نوٹ آئے ہیں۔ چنئی میں بھی انکم ٹیکس افسران نے ایک بزنس مین کے یہاں چھاپے مارے ہیں۔ یہ  تروپتی مندر کے بورڈ کے بھی رکن ہیں۔ تین بزنس مین کے یہاں چھاپے پڑے ہیں۔ 106 کروڑ کیش برآمد ہوا ہے اور 127 کلو سونا۔ بینک کے دروازے بند تھے۔ ایک بار میں ایک آدمی ہی گھس سکتا ہے۔ عام آدمی لائن میں لگا ہے۔ لیکن کس راستے سے اتنے نئے نوٹ لے کر یہ باہر آئے ہیں۔ کیا بینکوں میں پیسہ لے کر نکلنے کے کئی اور بھی راستے ہیں جن کے ذریعے عام آدمی کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت نے بتایا ہے کہ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد سے 6 دسمبر تک لوگوں نے 2000 کروڑ کی غیر اعلانیہ آمدنی کا اعلان کیا ہے۔ تب بیان میں کہا گیا تھا کہ انکم ٹیکس محکمہ نے 400 ایسے معاملات کی تحقیقات کی ہے۔یہی نہیں ممبئی کے دادر سے بھی 85 لاکھ کے نئے نوٹ برآمد کئے گئے ہیں۔ ہریانہ میں بھی کرائم برانچ نے دس لاکھ کے نئے نوٹ برآمد کئے ہیں۔ جانچ چل رہی ہے۔ بدھ کو 70 لاکھ کے نئے نوٹ کے ساتھ دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاس 2000 کے نئے نوٹ تھے۔ گوا میں ابھی تک نئے نوٹ میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ کی رقم ضبط ہوئی ہے۔ چار دسمبر کو اڑیسہ کے سمبل پور میں 85 لاکھ 62 ہزار کی نئی کرنسی ضبط ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد میں 43 لاکھ 60 ہزار کے نوٹ ضبط ہوئے ہیں۔ ایک ٹی وی ایکٹر کے پاس سے 500 اور 2000 کے نئے نوٹ ضبط کئے گئے ہیں۔ مغربی بنگال کے بی جے پی لیڈر منیش شرما کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے پاس سے 33 لاکھ کے نئے نوٹ ضبط کئے گئے تھے۔ ایک دسمبر کو تلنگانہ میں 2000 کے نئے نوٹوں میں 94 لاکھ کیش ضبط کئے گئے ہیں۔ دہلی میں بھی نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاس سے 27 لاکھ کے نئے نوٹ ضبط کئے گئے ہیں۔ ان چھاپوں سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ کارروائی ہو رہی ہے لیکن جس تعداد میں رقم برآمد ہو رہی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ اب بھی کچھ لوگوں کے لئے سسٹم آسان ہے۔ یہ رقم بتا رہی ہے کہ کچھ لوگوں کو لاکھوں کروڑوں کے نئے نوٹ حاصل کرنے میں کوئی دقت نہیں آئی ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو لوگ پکڑے نہیں گئے ہیں ان کی تعداد کیا ہوگی اور انہوں نے اس سسٹم کا فائدہ کس طرح اٹھایا ہو گا۔ یہ سب اس وقت ہوا ہے جب بینکوں کے باہر عوام پہرہ دے رہی ہے۔ ویسے ہم سب یہ خبریں پڑھ رہے ہیں۔ فلیش بھی کر رہے ہیں کہ چھاپے میں رقم برآمد ہوئی یا ضبط کر لی گئی۔ یہ سارا پیسہ بلیک منی تھا یا کس سورس سے آیا تھااس کو ثابت کرنے میں کئی ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ جن دھن اکاؤنٹس سے لے کر لاکھوں کروڑوں اکاؤنٹس کی جانچ کی بات ہے۔ کیا ہمارا محکمہ انکم ٹیکس اتنے بڑے پیمانے پر چھاپے مارنے سے لے کر ہر معاملے کو متعینہ وقت میں انجام پر پہنچانے کے قابل ہے۔جمعہ کو ہی انکم ٹیکس ایمپلائی فیڈریشن اور انکم ٹیکس گجٹیڈ آفیسر ایسوسی ایشن نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے۔ گروپ اے، بی اور سی کلاس کے طور پر انکم ٹیکس محکمہ کے 97 فیصد ملازم افسر اس کے ممبر ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ افسر 30 سے 35 فیصد کم ہیں۔ اسٹاف سطح کے عہدوں پر ملازمین کی تعداد 40 فیصد کم ہے۔ یہاں تک کہ کام کرنے کے لئے جگہ کی بھی سخت کمی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس میں انٹرنیٹ بہت خراب ہے۔ ہمیں ڈیپارٹمنٹ سے لیپ ٹاپ بھی نہیں دیا جا رہا ہے جو ڈیجیٹل انڈیا کے خواب کے منفی ہے۔ جون کے مہینے میں راجسو گیہان سنگم میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیکس دینے والے لوگوں کی تعداد 10 کروڑ تک پہنچے۔ یہ بھی ایک چیلنج ہے۔ وہیں ان سب کے درمیان ایک بڑی خبر یہ بھی ہے کہ سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر اگستا ڈیل میں دلالی کا الزام ہے. دراصل وی وی آئی پی کے لئے ہیلی کاپٹر خریدنے تھے اور اس میں گھوٹالے کی بات سامنے آئی تھی۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔

نوٹ : بشکریہ مضامین ڈاٹ کام 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ullrX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے