Breaking News
Home / اہم ترین / کیا شدھی کرن کا یہ سلسلہ دراز ہوگا؟۔۔۔ ملسمان نوشتہٗ دیوار پڑھ لیں

کیا شدھی کرن کا یہ سلسلہ دراز ہوگا؟۔۔۔ ملسمان نوشتہٗ دیوار پڑھ لیں

اتر پر دیش میں ان دنوں یو گی کی سرپرستی میں شدھی کرن کی پر کِریہ جاری ہے ، پہلی گاج مذبح خانوں پر گری ہے ۔ یو گی جی کا کہنا تھا کہ مذبح خانوں سے بہت گندگی پھیلائی جا رہی تھی ہ لھذا اب انھیں مزید گندگی کی اجازت نہیں دی جائے گی ، یہ بات اور ہیکہ اس پشتینی کاروبار سے جڑے لاکھوں دلت مسلم اور دیگر طبقات کا روزگار ایک آن میں ختم ہوگیا حکومت کو اس سے کیاسروکار ، کاروبار جاتا ہے تو جائے ، یو گی جی کو جو پیغام پہنچانا تھا وہ پہنچ گیا ، شدھی کرن کا دوسرا مرحلہ لو جہاد کے مفروضے کا خاتمہ ہے جس پر کام شروع ہوچکا ہے منچلے رومیو کو ٹھیک کرنے کا ٹھیکہ وردی پوشوں کو دیدیا گیا ہے ان کی مستعدی دیکھنے لائق ہے کہیں کوئی گوشہ نہیں چھوڑا جارہا ہے ، ہوٹلوں، پارکوں ، راستوں اور تعلیمی اداروں میں پہنچ کر شناختی کارڈ چیک کیے جارہے ہیں ، جرمانے وصول کیے جارہے ہیں نہیں تو سر عام شرمسارکیا جارہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے ریاست کا یہی سب سے سنگین مسئلہ ہے ، حالانکہ یہی پارٹی چناؤ میں بجلی پانی اور سڑکوں کی مرمت کی بات کر رہی تھی لیکن اب ساری باتیں ہوا ہوگئی ۔۔۔ عوامی سطح پر پولیس کی کارروائیوں کی بھی ستائش کی جارہی ہے حقوق انسانی کا راگ الاپنے والوں کو اپنی خیر منانےکی ضرورت ہے۔ اگر ایسے وقت میں دہائی دی گئی تو یقین جانیئے آپ کا حق بھی سلب کیا جاسکتا ہے ، ان کارروائیوں کے ساتھ ہی اقلیتی فرقے کو خوفزدہ کرنے کے لیے تمام ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں پہلے مسلم بستیوں میں گاؤں چھوڑنے کے پوسٹر چسپاں کیے گئے یہ معاملہ وقت کے ساتھ سرد ہوا نہیں کہ اب بریلی کے ایک گاؤں میں دو مساجد میں پمفلٹ ڈالے گئے ہیں ان میں واضح طور پر لکھا ہیکہ ہماری حکومت آگئی ہے لاؤڈاسپیکر پر اذان بند کرودو نہیں تو مساجد میں نماز بند کرادی جائے گی، بریلی کے ایس پی نے اس کی تصدیق کی ہے ، اس دیو بند کا نام تبدیل کرنے کی بات ہورہی ہے جس پر دیو بند کا اکثریتی فرقہ بھی فخر کرتا ہے اور ملک کی تحریک آزادی کی علامت کے طور پر جیسے دیکھا جاتا ہے دراصل شدھی کرن کی یہ پرکِریہ ہے جس کا سلسلہ دراز ہونے والا ہے ، اقتدار پر براجمان شخص کیا کرواسکتا ہے اس کا عملی ثبوت یوگی آدیتہ ناتھ دے رہے ہیں، ساتھ ہی ان کی ہندو یو وا واہنی جو پہلے ہی سے سرگرم تھی اب اس کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں ہونا بھی چاہیئے کیونکہ کل تک جو وردی پوش انھیں روکتے تھے کیا عجب ہیکہ اب وہ ان کے ہمنوا ہونگے ، اس میں بھی کوئی عجب نہیں کہ یوگی کو خوش کرنے کے لیے کچھ وردی پوش اپنے اختیارات سے بھی تجاوز کرجائے ، ان خدشات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں عموماً شدھی کرن کے تعلق سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ناپاک جگہ کو پاک کیا جائے یا پھر جو لوگ مذہب سے منحرف ہوگئے ان کا شدھی کرن کرکے انھیں دوبارہ مذہب میں داخل کیا جائے ، ہم جیسے کم عقل لوگ تو یہی سمجھتے تھے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یوپی میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے تو یہ بات واضح ہورہی ہے کہ یہ بھی اسی شدھی کرن کی ہی کڑیاں ہیں ، ان کی اگلی کڑیاں کیا ہوسکتی ہیں یہ بھی جان لیجیئے دینی مدرسوں کو حکومت کے ماتحت لایا جائے، کیونکہ ان کی نظر میں دینی مدارس پر نظر رکھنے کی سخت ضرورت ہے ، سنگھ پریوار نے منظم طریقے سے یہ بات ان کے ذہنوں میں بٹھادی ہیکہ مدرسے دہشت گردی اڈے ہیں ، اتنا ہی نہیں حج سبسیڈی جیسی تشٹی کرن کی راج نیتی کے خاتمہ کی آوازوں کا اٹھنا بھی کوئی محال نہیں یہ اور بات ہیکہ خودمسلمان بھی اس سبسیڈی کے حق میں نہیں ، ایک قدم اور آگے بڑھے تو یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا شوشہ چھوڑا جائیگا اس کا جواز بھی پیدا کرلیا گیا ہے بس عدالتی خانہ پوری کا انتظار ہے اور سب سے بڑی بات رام مندر کے نام پر پھر ایک بار ملک کو آتش فشاں بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا اسی سیڑھی کے سہارے تو اقتدار تک رسائی ممکن ہو پائی ہے ابھی اقتدار کا نشہ سر چڑھ کر ضرور بول رہا ہے لیکن اقتدار کے اندھوں کو اس بات کا بھی پاس رکھنا چاہیئے کہ یہ جمہوری ملک ہے اس ملک کے خمیر میں تبدیلی کا عنصر پوشیدہ ہے ، وقت کے حکمرانوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ جمہوری قدروں کا پاس رکھنا ضروری ہے ، اس ملک کے عوام نے جمہوری قدروں کو پامال کرنے والوں کو ہمیشہ سبق سکھایا ہے ، اندرا گاندھی جیسی شخصیت کو ایمرجنسی کے نفاذ کا خمیازہ کچھ اس انداز میں بھگتناپڑا تھا کہ کانگریس کے وجود پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا ۔ ان سطور کا مقصد کسی کو خوفزدہ کرنا یا ہسٹیریا ئی کیفیت پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ وہ نوشتہ دیوار پڑھیں اور دیکھیں کہ حالات کا رخ کدھر جارہا ہے،۔ ایسے حالات میں اقلیتوں سے اپیل ہے کہ وہ صبر و استقلال سے کام لیں، مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کریں ۔ مودی یا یوگی کایہ سحر اتنی آسانی سے ٹوٹ جائیگا یہ تو نہیں کہا جاسکتا لیکن اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہر عروج کے نصیب میں زوال لکھ دیا گیا ہے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/HmcJ6

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

One comment

  1. Mohammed Ali siddibapa

    I this is all for poor strategy of muslim done in utter perdesh, seconds one disunity iand difference between muslim sects.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے