Breaking News
Home / اہم ترین / کیا میڈیا ہاوز کا قیام ممکن نہیں ہے؟

کیا میڈیا ہاوز کا قیام ممکن نہیں ہے؟

از: مدثر احمد،ایڈیٹر روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ کرناٹک
پچھلی کئی تحریروں میں الیکٹرانک میڈیا اور ٹی وی چینل کی اہمیت،ضرورت اور قیام کے تعلق سے تحریریں منظر عام پرآچکی ہیں۔ان تحریروں کو پڑھنے والوں نے خوب سراہا بھی ہے،مگرعمل کی بات آتی ہے تو یہی سوچتا ہے کہ میں تو چھوٹا آدمی ہوں،میں اتنے بڑے کام کو کیسے انجام دے سکتا ہوں۔ٹی وی چینل یا میڈیا ہاؤز کے قیام کیلئے کروڑوں روپیوں کی ضرورت ہے ،لیکن میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میرا سرمایہ لگا سکوں۔یقیناًہم اور آپ سماج کے بہت چھوٹے حصہ سے ہیں،ہمارے پاس لاکھوں کروڑوں روپئے نہیں ہیں،اور جن لوگوں کے پاس لاکھوں کروڑوں روپئے ہیں ان کے پاس قوم کے تعلق سے سوچنے کی فرصت نہیں ہے۔ہاں چند ایسے حضرات بھی ہیں جن کے پاس دولت بھی ہے او رقوم کی فکر بھی!لیکن انہیں اس منصوبے سے کس طرح سے جڑنا ہے اور کون اس منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچا سکتا ہے یہ جواب نہیں مل پا رہا ہے۔دراصل میڈیا ہاؤز کا جو تصور(کانسپٹ) ہمارے پاس ہے وہ بالکل الگ ہے۔ہم اس کانسپٹ کو خیراتی ادارے یافلاحی ادارے کے طو رپر شروع کرنا نہیں چاہ رہے ہیں بلکہ مکمل پیشہ وارانہ یعنی پروفیشنل نظام کے تحت شروع کرنا چاہ رہے ہیں۔عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ ہم ایسے بڑے پروجیکٹ میں کسی بھی طرح کی مدد نہیں کرسکتے یا پھر سرمایہ نہیں لگا سکتے۔یہ سوچ بالکل ہی غلط ہے،ہم اور آپ سن رہے ہیں کہ ریلانس کمپنی ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی ہے اور اس کمپنی میں لاکھوں لوگ شیئر ہولڈرس ہیں ،جب دیھرو بائی امبانی نے اس کمپنی کی شروعات کی تھی اس وقت ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔انہوں نے اپنی کمپنی کے آغاز کے وقت سینکڑوں لوگوں کو بطور سرمایہ دار شامل کیا اور انہیں اپنی کمپنی کے نفع و نقصان میں برابر کا شریک کیاتھا۔آج یہ کمپنی ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے اور اس کی آمدنی کا پانچ فیصد حصہ ہندوستان کی جملہ آمدنی کا حصہ ہے۔اسی طرح سے قریب 28سال پہلے این ڈی ٹی وی چینل کا قیام ہو اتھااوریہ چینل آج 576؍ کروڑ روپئے کی آمدنی کا چینل بن گیا ہے۔پرونئے رائے اور رادھیکا نامی میاں بیوی نے اس چینل کو1988 میں شروع کیا تھااور آج اس قدر طاقتور چینل بن گیا ہے کہ ا س کے پاس فی الوقت1500 افراد ملازمت کررہے ہیں اور اس چینل میں بھی کسی ایک کا پیسہ نہیں ہے بلکہ 80ہزار شیئرس اس چینل کے ہیں۔ایسے ہی دنیا کے بڑے بڑے ٹی وی چینل کسی ایک کے بل بوتے پر نہیں چل رہی ہیں بلکہ ان کے پاس سرمایہ داروں کومجموعہ ہے اور یہی کمپنیاں کہلاتی ہیں۔اگر مسلمان بھی اس سوچ کو سامنے رکھ کر کمپنی کا قیام کرتے ہیں اور اس کے ماتحت الیکٹرانک میڈیا شروع کرتے ہیں تو ا س سے بہت بڑا کام کیا جاسکتا ہے۔ہم الیکٹران میڈیا کو اس لئے ترجیح دے رہے ہیں کہ آج یہ ہر خاص و عام کی ضرورت ہے۔خاص طو رپرہندوستانی میڈیا میں شدت پسندوں و فرقہ پرستوں کا دبدبہ ہے اور وہ اپنے میڈیاکا استعمال کرتے ہوئے باقاعدہ مسلمانوں،دلتوں و پسماندہ طبقات کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں،اپنے خفیہ ایجنڈوں کوسچ کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔تازہ مثال دیتے ہوئے آپ کو یہ بتا دیں کہ ہندوستان میں کچھ سا ل قبل تک جہاں کہیں بھی بم دھماکے ہورہے تھے تو وہاں پر انڈین مجاہدین کا نام لیا جاتا تھا،لیکن عالمی سطح پر جب داعش( آئی ایس آئی ایس آئی) کا پروپگینڈہ عام ہونے لگا تو ہندوستانی میڈیا بھی ہر مشتبہ نوجوان کو داعش کا رکن قرار دینے لگا اور آج کل جو دہشت گردی کے معاملات پیش آرہے ہیں ان میں نہ تو القاعدہ کاہاتھ نظرآرہا ہے اور نہ ہی انڈین مجاہدین کا ہاتھ ۔بلکہ داعش کا نام ٹرینڈ کررہا ہے۔دراصل آج میڈیا خبریں پہنچانیسے زیادہ منفی ذہن سازی کا ذریعہ بنتا جارہا ہے۔اس لئے ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ عام مسلمان اس تعلق سے فکر کریں اور میڈیا چینل کے قیام کیلئے آگے آئیں۔
The short URL of the present article is: http://harpal.in/NS7gs

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے