Breaking News
Home / اہم ترین / گئو رکشا کے نام پر وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے شرپسندوں نے لی ایک اور مسلمان کی جان

گئو رکشا کے نام پر وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے شرپسندوں نے لی ایک اور مسلمان کی جان

جے پور(ہرپل نیوز،ایجنسی)5اپریل۔ راجستھان کے ضلع الور میں گئو رکشکوں نے گئو رکشا کے نام پر ایک اور مسلمان کی جان لے لی۔ یہ واقعہ ہفتہ کے روز کا ہے جب ہریانہ کے رہنے والے 15 لوگ چھ گاڑیوں میں مویشیوں کو لے کر جا رہے تھے۔ تبھی کچھ لوگوں نے بهروڑ کے پاس ان پر حملہ کر دیا۔ سب کے ساتھ بری طرح مار پیٹ کی گئی۔ اس مارپیٹ میں 50 سال کے پہلو خان کو شدید چوٹیں آئیں جس کی وجہ سے علاج کے دوران پیر کو ان کی موت ہو گئی۔سیاست ڈاٹ کام کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ پہلو خان اور ان کے چار دیگر ساتھی گائے خرید کر لے جا رہے تھے۔ انہوں نے اس سے متعلق دستاویزات بھی پیش کئے لیکن اس کے باوجود گئوركشكوں نے ان کی پٹائی کر دی۔

مقامی بهروڑ پولیس کے مطابق، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے منسلک گئوركشكوں نے ہفتے کی شام نیشنل ہائی وے -8 کے قریب جگواس کراسنگ کے پاس مویشیوں کو لے جا رہی گاڑی کو روکا۔ اس کے بعد گئوركشكوں نے پہلو خان اور ان کے ساتھیوں پر غیر قانونی طور پر گائے لے جانے کا الزام لگایا۔ حالانکہ وہ گایوں کو اپنی فارمنگ کے لئے لے جا رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ گئوركشكوں نے ان میں سے ایک ڈرائیور ارجن کو جانے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے پہلو خان اور ان کے ساتھیوں کی جم کر پٹائی کی۔ اس میں پانچ لوگ بری طرح زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد آنا فانا میں متاثرین کو اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں پہلو خان کی پیر کی رات کو موت ہو گئی۔

راجستھان میں گئوركشكوں پر سخت کارروائی کی ہدایت، 5-5 ہزار روپے کے انعام کا اعلان

راجستھان کے الور میں مویشی لے جانے والے لوگوں پر حملہ کرنے والے گئوركشكوں پر پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 6 لوگوں پر 5-5 ہزار روپے کا انعام مقرر کیا ہے۔ ساتھ ہی پہلو خان ​​کی موت کے معاملے میں قتل کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔ الور پولیس کے مطابق مقامی لوگوں نے ہفتہ کی رات گائے کو لے کر جا رہے لوگوں پر حملہ کر ان کی بری طرح پٹائی کر دی تھی۔ اسی پٹائی سے زخمی ہوئے پہلو خان ​​نام کے ہریانہ رہائشی شخص کی موت ہو گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں سخت رخ اختیار کرتے ہوئے کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی تو قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

گئو رکشکوں کا قانون ہاتھ میں لینا جرم: وہیں، راجستھان کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا نے گئو رکشا کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہرور میں دودھ اور کھیتی باڑی کیلئے گائے لے جانے والوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بہرور میں پانچ دن قبل مبینہ طور پر گورکشکوں نے گائے کی نسل کے جانوروں کو لے جا رہے چار افراد کو بری طرح پیٹا تھا۔ زخمی ہونے والوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جن میں سے ایک کی پیر کو موت ہوگئی۔ اس معاملے میں پولیس نے 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے لیکن کسی کی گرفتاری نہیں کی ہے۔ اس معاملے میں مسٹر کٹاریا نے کہا کہ ریاست میں گائے کو ذبح کرنے سے روکنے کا قانون بنایا گیا ہے اور گائے کی نسل کے جانوروں کی اسمگلنگ روکنے کیلئے کئی چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں لیکن گائے کے اسمگلر پھر بھی بچ نکلتے ہیں۔ کئی گورکشک انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے۔ بہرور میں مار پیٹ کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی کر رہی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/A5DkU

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے