Breaking News
Home / اہم ترین / گجرات انتخابات کا سب سے حیرت انگیز پہلو۔ پانچ لاکھ سے زائد ووٹروں کو کوئی امیدوار پسند نہیں آیا۔

گجرات انتخابات کا سب سے حیرت انگیز پہلو۔ پانچ لاکھ سے زائد ووٹروں کو کوئی امیدوار پسند نہیں آیا۔

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)19ڈسمبر۔الیکشن کمیشن نے کچھ سال پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں ایک نئے بٹن کا اضافہ کیا تھا جس کو عام طور پر نوٹا کہا جاتا ہے۔None of the Above کا مخفف نوٹا ووٹنگ مشین کے آخری سرے پر ہوتا ہے۔ اگر ایک ووٹر کو اس کے حلقہ سے مقابلہ کرنے والے امیدواروں میں سے کوئی بھی پسند نہ ہو اور وہ تمام کو مسترد کرنا چاہتا ہے تو وہ اس بٹن کا استعمال کرتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق گجرات اسمبلی انتخابات میں 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اس بٹن کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی امیدواروں کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو مشترکہ طور پر اتنے ووٹ نہیں ملے جتنے نوٹا کو حاصل ہوئے ہیں۔مہاتما گاندھی کے پیدائشی مقام پوربندر میں بی جے پی کے امیدوار بابوبھائی بوکھریا کو صرف 1855 ووٹوں کی معمولی اکثریت سے کامیابی ملی جبکہ نوٹا کو اس سے زائد 3433 ووٹ حاصل ہوئے۔گجرات میں پہلی مرتبہ نوٹا کو متعارف کرایا گیا تھا جبکہ الیکشن کمیشن نے 2013 میں اس سہولت کو ووٹنگ مشینوں میں شامل کیا تھا۔نوٹا بٹن کا استعمال نہ صرف مقابلہ میں شامل امیدواروں کو مسترد کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے بلکہ کئی لوگوں کے خیال کے مطابق ایسے لوگ جو انتخابی عمل اور جمہوریت کو ایک بہت بڑا فراڈ سمجھتے ہیں، نوٹا استعمال کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/hmJ4o

2 comments

  1. عبدالماجد

    الیکشن میں نوٹا کا استعمال اپنے ووٹ کو ضایع کرنا ہے

  2. محمد اخلاق

    زبردست خبر ہے ۔تبصراتی رپورٹ کو زیادہ جگہ دیں۔

عبدالماجد ایک جواب دیں چھوڑ دو منسوخ جواب

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے