Breaking News
Home / اہم ترین / گجرات اور ہماچل پردیش میں ووٹوں کی گنتی کل۔ امیدواروں کی دھڑکنیں تیز۔تما م تیاریاں مکمل،

گجرات اور ہماچل پردیش میں ووٹوں کی گنتی کل۔ امیدواروں کی دھڑکنیں تیز۔تما م تیاریاں مکمل،

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17ڈسمبر۔ گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی کے انتخابات کے کل آنے والے نتیجوں پر پورے ملک کی نظر لگی ہوئی ہے اور ان نتیجوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کا وقار داؤ پر لگاہے۔ چناؤ کمیشن نے کل صبح ان دونوں ریاستوں میں ہونے والی ووٹوں کی گنتی کےلئے سبھی ضروری تیاریاں پوری کرلی ہیں اور سکیورٹی کے پختہ انتظامات بھی کر لئے ہیں۔ گجرات اسمبلی کی 182سیٹوں کیلئے انتخابات مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہوگئی ہے۔

گجرات کا الیکشن اس مرتبہ خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس اس سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی مستقبل کی سیاست بھی متاثر ہوگی،اس لئے اس کی گنتی پر لوگوں کی خاص نگاہ ہے۔چناؤ کمیشن نے ریاست میں 37مقامات پر ووٹوں کی گنتی کا انتظام کیا ہے جبکہ ہماچل میں 42مقامات گنتی کا انتظام ہے۔اس سبھی مقامات پر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکارابھی سے تعینات کردئےگئے ہیں اور اسٹرانگ روم میں سیل بند ای وی ایم اور وی وی پیٹ مشینوں پر سخت پہرا ہے۔ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح آٹھ بجے شروع ہوگی اور 9 دس بجے تک واضح رجحان ملنے لگیں گے۔بی جےپی اور کانگریس دونوں پارٹیوں کو کہاگیا ہےکہ الیکشن کے نتیجے آنےکے بعد وہ اپنے کارکنان کو محدود رہنے کی صلاح دیں۔دونوں پارٹیوں کے کارکنان کےلئے الیکشن کے نتیجے کافی حساس موضوع بن گئے ہیں اور شبہ ہے کہ وہ بد امنی بھی پھیلا سکتے ہیں ۔اس کے پیش نظر سکیورٹی اہلکاروں کو خاص ہدایات دی گئی ہیں اور انہیں سبھی سے محتاط کردیا گیا ہے۔گجرات کا الیکشن وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی دونوں کے لئے وقار کا سوال بنا ہوا ہے اوردونوں نے اس ریاست میں جم کر انتخابی تشہیر کی تھی۔دونوں نے ایک دوسرے پر بہت سارے طنز بھی کئے اور انتخابی عوامی جلسوں سے رائے دہندگان کو متوجہ کرنے کی کوشش بھی کی ۔

چناؤ کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات اس لئے بھی کئے گئے ہیں کہ کسی طرح کی رکاوٹ نہ پہنچے اور کمیشن پر کسی قسم کی کوئی انگلی نہ اٹھائے۔کمیشن نے اس پورے الیکشن میں شفافیت اور منصفانہ طریقے کار پر عمل کیا تاکہ اس کی غیر جانبداری پر کسی قسم کا کوئی سوال نہ اٹھے۔وہ بغیر کسی تعصب کے ووٹوں کی گنتی کے عمل کو مکمل کرنے کا انتظام کرے گا۔

گجرات میں بی جے پی کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی ،پارٹی کے صدر امت شاہ کے علاوہ وزیراعلی وجے روپانی اور نائب وزیراعلی نیتن پٹیل،ریاستی صدر جیتو وگھانی،مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ ،مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارمن،مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اسمریتی ایرانی کے علاوہ اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ،مدھیہ پردیش کے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان وغیرہ نے انتخابی تشہیر کی تھی۔کانگریس کی جانب سے راہل گاندھی،احمد پٹیل،جگنیش میوانی،الپیش ٹھاکر،سدھارتھ پٹیل،شکتی سنگھ گوہل اور ارجن مودھوادیا وغیرہ نے انتخابی تشہیر کی تھی۔پاٹی دار آندولن سمیتی کے لیڈر ہاردک پٹیل نے بھی کئی انتخابی جلسے کئے اور انہوں نے بڑی تعداد میں ووٹروں سے خطاب کیا۔

ہماچل میں نو نومبر کو ہوئے الیکشن کے لئے بی جےپی کی جانب سے مسٹر مودی کے علاوہ امت شاہ،وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور مرکزی وزیر صحت جےپی نڈا،بی جےپی کے سینئر لیڈر شانتا کمار وغیرہ نے جم کر انتخابی تشہیر کی تھی جبہ کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی ،آنند شرما،ویربھدر سنگھ،نوجوت سنگھ سدھو وغیرہ نے انتخابی تشہیر کی تھی۔ان دونوں ریاستوں میں ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پول میں بی جےپی کو کافی سبقت ملنے کے اشارے سے بی جےپی کے خیمے میں جوش وخروش کا ماحول ہے جبکہ کانگریس میں تھوڑی مایوسی ہے لیکن کانگریس نے ایگزٹ پول کے نتیجوں کو مسترد کرتےہوئے اپنی جیت کا دعوی کیا ہے۔دونوں پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان ،خیر خواہ اور حامی کل صبح کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں اور پورا ملک اٹھ بجے سے ٹی وی سیٹ ریڈیو اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر نظر لگائے رہیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/aGM5w

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے