Breaking News
Home / اہم ترین / گجرات میں لگاتار چھٹی مرتبہ بی جے پی حکومت ، ہماچل پردیش میں بھی بھگوا پارٹی کو واضح اکثریت۔گجرات اور ہماچل پردیش کی نئی حکومتوں کو راہل گاندھی کی نیک خواہشات۔ مودی نے نتائج کو بتایا’’ غیر معمولی‘‘

گجرات میں لگاتار چھٹی مرتبہ بی جے پی حکومت ، ہماچل پردیش میں بھی بھگوا پارٹی کو واضح اکثریت۔گجرات اور ہماچل پردیش کی نئی حکومتوں کو راہل گاندھی کی نیک خواہشات۔ مودی نے نتائج کو بتایا’’ غیر معمولی‘‘

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)18ڈسمبر۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو گجرات میں ملی مسلسل چھٹی جیت اور ہماچل پردیش میں اس کے کانگریس سے اقتدار چھیننے سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا جادو اب بھی برقرار ہے اور ان کی قیادت میں پارٹی مسلسل بلندیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔گجرات میں کانگریس کی طرف سے ملی سخت ٹکر کے باوجود بی جے پی نے 182رکنی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرکے مسلسل چھٹی مرتبہ جیت کا ریکارڈ قائم کیا اس نے ہماچل پردیش میں کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرکے اس پہاڑی ریاست میں ایک بار پھر بھگوا پرچم لہرا دیا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں بی جے پی کی جیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ گجرات اور ہماچل پردیش میں بھی جاری رہا۔ ہماچل پردیش میں جیت کے ساتھ بی جے پی کی جھولی میں 14ریاست آگئی ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ریاستوں میں اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت ہے۔

دو دن قبل کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے والے راہل گاندھی کے لئے یہ الیکشن جیت کی خوشی نہیں دے سکے۔ ہماچل پردیش جہاں ان کی پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا وہیں گجرات میں پارٹی کی کارکردگی پچھلے کئی انتخابات کے مقابلے میں اچھی رہی لیکن وہ 22برس سے چلے آرہے بی جے پی کے اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ ہماچل پردیش کی شکست کے بعد اب صرف پرپانچ ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بچی ہے۔ شمالی اور مغربی ہندستان میں صرف پنجاب میں وہ اقتدار میں ہے۔گجرات میں مسلسل چھٹی جیت ملنے کا سہرا مسٹر مودی کے سر جاتا ہے جنہوں نے ریاست میں زبردست تشہیر کی اور مخالفین کے ان دعووں کو دھول چٹا دی کہ نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی سے لوگوں میں زبردست ناراضگی ہے جس کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑے گا۔ مسٹر مودی کی کوششوں سے بی جے پی کو جیت تو حاصل ہوئی ہے لیکن پچھلے اسمبلی انتخابات کے مقابلہ میں اس کی سیٹیں کم ہوئی ہیں ۔ وہ اس مرتبہ 100کا اعداد و شمار نہیں چھو سکی۔بی جے پی نے گجرات میں 182رکنی اسمبلی میں اس نے 99سیٹیں حاصل کی ہیں جبکہ پچھلی بار اسے 115سیٹیں ملی تھیں ۔ پہلے سے بہتر کارکردگی کررہی کانگریس نے بھی 77سیٹیں جیتی ہیں جو پچھلی مرتبہ سے 16سیٹیں زیادہ ہیں۔ کانگریس نے بی جے پی سے کئی سیٹیں چھینی ہیں جبکہ بی جے پی نے بھی کانگریس سے کچھ سیٹیں چھین لی ہیں۔

وزیراعلی وجے روپانی راجکوٹ مغربی سیٹ پر 53ہزار سے زائد ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔ ایک دیگر آزاد امیدوار بھوپندر کھانٹ ہڈف محفوظ سیٹ سے جیتے ہیں۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے ایک اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی نے دوسیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔گزشتہ 22برس سے ریاست میں حکمراں بی جے پی کے امیدوار اور وزیر اور معروف قبائلی لیڈر گنپت وساوا مانگرول محفوظ سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ وہ گزشتہ مرتبہ بھی اس سیٹ پر جیتے تھے۔ نڈیاڈ سیٹ پر بی جے پی کے پنکج دیسائی (پچھلی اسمبلی میں پارٹی کے وہپ) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی۔ بی جے پی کے امیدوار اور وجے روپانی حکومت کے کابینی وزیر بابو کھریا نے پوربند سیٹ پر کانگریس کے امیدوار اور پارٹی کے سابق ریاستی صدر ارجن موڈواڈیا کو 1855ووٹوں سے شکست دیکر اپنی یہ سیٹ برقرار رکھی۔

پچھلی بار جنتادل (یو ) کے واحد رکن اسمبلی رہے اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی کے لیڈر چھوٹو وساوا ایک بار پھر جھگڑیا سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ وزیراعظم کی سابقہ سیٹ منی نگر پر بی جے پی کے سریش پٹیل نے کانگریس کی شویتا برہم بھٹ کو 75199ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ کانگریس کے پریش دھنانی امریلی سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ پاٹیدار اکثریت ٹھکر باپا نگر میں ہاردک پٹیل کے وکیل اور کانگریس کے بابو مانگوکیا ہار گئے ہیں۔ کانگریس نے بی جے پی سے جمال پور کھاڑیا، جوناگڑھ، جنبوسر وغیرہ سیٹیں چھینی ہیں ۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے کاندھل جڈیجہ نے کوتیانا سیٹ برقرار رکھی ہے۔

ہماچل پردیش اسمبلی کی 68سیٹوں میں سے بی جے پی نے 44سیٹیں جیت لی ہیں لیکن اس کے ریاستی صدر ستپال سنگھ ستی الیکشن ہار گئے ہیں اور وزیراعلی کے عہدہ کے امیدوار پریم کمار دھومل بھی سوجان پور سیٹ پرہار گئے ہیں۔ کانگریس نے 21سیٹیں جیتی ہیں جبکہدو سیٹ پر آزاد امیدوار جیتا ہے۔موجودہ وزیراعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر ویربھدر سنگھ اور ان کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ نے جیت حاصل کی ہے۔ سابق وزیراعلی سکھ رام کے بیٹے انل شرما بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مسٹر سکھ رام اور مسٹر شرما حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔

وزیراعلی ویربھدر سنگھ ارکی سے بی جے پی کے رتن پال سنگھ سے 6051ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں۔ مسٹر سنگھ کے معلوم ذرائی آمدنی سے زیادہ ااثاثہ حاصل کرنے کے معاملہ میں مسلسل اپوزیشن کے نشانہ پر تھے۔ ویربھدر حکومت کے پانچ وزرا کو اس الیکشن میں شکست کھانی پڑی ہے جن میں بلہہ سیٹ سے پرکاش چودھری، درنگ سے کول سنگھ، دھرمشالہ سے سدھیر شرما، بھرمور سے ٹھاکر سنگھ بھرموری اور نگروٹا سے جی ایس بالی شامل ہیں۔

:گجرات اور ہماچل پردیش کی عوامی تا ئید ہمیں قبول ، نئی حکومتوں کو نیک خواہشات : راہل گاندھی : کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے گجرات اور ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آج کہاکہ وہاس عوامی تائید کو قبول کرتے ہیں اور دونوں ریاستوں کی نئی حکومتوں کو مبارکباد دیتے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے دونوں ریاستوں کے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے یہ ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہاکہ کانگریس پارٹی عوامی تائید تسلیم کرتی ہے اور دونوں ریاستوں کی نئی حکومتوں کو مبارکباد دیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گجرات اور ہماچل کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے تہہ دل سے انہیں محبت دی ہے۔

مسٹر گاندھی نے پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا وہ ان کے کام پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ لوگوں نے وقارکے ساتھ لڑائی لڑی اور اپنا غصہ ظاہر کیا اس لئے آپ اپنے حریفوں سے الگ ہیں۔ آپ نے سب کو بتادیا کہ کانگریس کی اصل طاقت شرافت اور ہمت ہے۔گجرات میں کانگریس نے مسٹر گاندھی کی قیادت میں پہلے سے بہتر کارکردگی پیش کی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو پچھلے الیکشن کے مقابلہ میں کم سیٹوں پر جیت ملی ہے۔

ترقی کے نام پر ملی جیت ، گجرات میں مسلسل تین دہائیوں کی کامیابی غیر معمولی اور بے مثال : وزیر اعظم مودی

وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کی فتح کو ’غیر معمولی‘ اور بے مثال قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ سال 1989 سے مسلسل 12 انتخابات میں ترقی کے معاملے پر بی جے پی کی جیت ایک تاریخی حقیقت ہے اور گجرات کے عوام نے اس پر مہر لگائی ہے۔ مسٹر مودی نے گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد یہاں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گجرات انتخابات بی جے پی کی تاریخ میں بے مثال ہیں۔ آج کے ماحول میں کوئی حکومت پانچ سال بعد دوبارہ منتخب ہوتی ہے تو اسے بہت بڑا واقعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے اخباروں میں اداریے لکھے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گجرات میں 1989 کے بعد سے بی جے پی نے 12 انتخابات لڑے ہیں۔ سال 1990 کے اتحاد میں بی جے پی نے 90 سیٹوں پر لڑکر 67 سیٹیں حاصل کیں اور وہ اتحادی سرکار میں شامل ہوئی۔ اس کے بعد 1995، 1998، 2002، 2007، 2012 اور اب 2017 میں بی جے پی نے جیت حاصل کی ہے ۔ اس دوران اس نے ہر لوک سبھا انتخابات میں بھی فتح حاصل کی۔

ترقی کے نام پر ملی جیت ، گجرات میں مسلسل تین دہائیوں کی کامیابی غیر معمولی اور بے مثال : وزیر اعظم مودی

انہوں نے کہا کہ لگاتار اتنی فتوحات صرف ترقی کے نام پر ہی حاصل ہوئی ہیں۔ ملک کی تاریخ میں یہ ایک سچائی ہے، جس پر گجرات کے عوام نے مہر لگائی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی یہ جیت ان کے لئے دوہری خوشی کا موقع ہے۔ گجرات کے بی جے پی کارکنوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے ہٹنے کے بعد بھی گجرات کی ترقی میں وہ ہ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گجرات میں انتخاب جیتنے کے لئے طرح طرح کے حملے ہوئے اور پروپیگنڈے کی آندھی چلی۔ کانگریس تو سامنے تھی لیکن اس کے پیچھے بڑی سازشی طاقتیں تھیں۔ ترقی سے کوئی خوش اور کوئی ناراض ہوسکتا ہے، لیکن اس سے چھٹکارا حاصل کریں ، یہ کبھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات ہوتے رہتے ہیں، ہر چناؤ میں رنگ روپ لگتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ملک میں ترقی کے لئے ایک بھوک پیدا ہوئی ہے۔مسٹر مودی نے کہا کہ کسی کو بی جے پی پسند ہو یا نہیں ہو، یا بی جے پی ہار جائے تو مہینے بھر تک جشن منایئے لیکن ملک کو ترقی کی راہ سے بھٹکانے کی حرکت نہ کیجئے۔ ملک ترقی کے معاملے میں تعاون دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی حکومت آئی جو فیصلے لے سکتی ہے جس کی نیت میں کھوٹ نہیں ہے، پالیسیاں صاف ستھری ہیں جو سماجی قیادت میں چلتی ہے۔سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے پر عوام کی مہر لگ گئی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CKwkH

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے