Breaking News
Home / اہم ترین / گلبرگہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے بسویشور یونیورسٹی رکھنےکی تجویز ، اقلیتوں میں شدید بے چینی

گلبرگہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے بسویشور یونیورسٹی رکھنےکی تجویز ، اقلیتوں میں شدید بے چینی

گلبرگہ(ہرپل نیوز،ایجنسی)10مئی : گلبرگہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے بسویشور یونیورسٹی رکھنے کی ریاستی حکومت کی تجویز کے خلاف گلبرگہ کے اقلیتوں میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اقلیتی طبقہ یو نیورسٹی کا نام خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ بعض اقلیتی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں پر سیاست نہ کی جائے ، بلکہ موجودہ نام کو ہی برقرار رکھا جائے۔کرناٹک کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسوارج رائے ریڈی نے گلبرگہ یونیورسٹی کا نام بسویشور یونیورسٹی رکھنے کی تجویز پیش کرکے پرانے موضوع کو پھر سے چھیڑ دیا ہے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کی اس تجویز پر گلبرگہ کے اقلیتی طبقہ میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

گلبرگہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے بسویشور یونیورسٹی رکھنےکی تجویز ، اقلیتوں میں شدید بے چینی

اقلیتی لیڈروں کا کہنا ہے کہ گلبرگہ ایک غیر متنازع نام ہےاورحکومت کو اس پرسیاست نہیں کرنی چا ہئے۔ یونیوسٹی کا نام تبدیل کرنے سےغلط پیغام جائے گا۔ نام کی تبدیلی کے خلاف اقلیتی رہنما حکومت کو خبردار بھی کررہے ہیں۔ مقامی لیڈران قمرالاسلام، کھرگے ،شرن پرکاش پاٹل اور سدا رمیا کے خلاف سخت احتجاج کی انتباہ دے رہے ہیں ۔ اقلیتی طبقے کا کہنا ہے کہ مہاتما بسویشور کی شخصیت اور ان کی تعلیمات سے کسی کو انکار نہیں ہے ، لیکن گلبرگہ یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی سے غلط پیغام جائے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ گلبرگہ ایک سیکولر اور غیرمتنازع نام ہے، اس لئے موجودہ نام کو ہی برقرار رکھا جائے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZWRs1

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے