Breaking News
Home / اداریہ / ہائے وہ جسکی ہےروزی کا سہارا دریا

ہائے وہ جسکی ہےروزی کا سہارا دریا

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماہی گیری انتہائی جوکھم بھرا ذریعہ معاش ہے۔ جو لوگ اس سے وابستہ ہیں وہ اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کےلئے کسی بھی مشکل کو برداشت کر لیتے ہیں، سرد ہوائیں ، طوفانی بارش،سمندرمیں طغیانی ایسی کوئی بات شاید کبھی ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی۔ حالیہ دنوں میں اپنے یہاں ماہی گیروں سے جڑے کئی مسائل سامنے آئے جس میں بطور خاص ، ایران کے جزیرے میں پچھلے چھ ماہ سےہندوستانی ماہی گیروں کو قید کرنےکا معاملہ ہو یا گزشتہ دنوں سے بھٹکل اور اطراف کے ماہی گیروں کو لے جانے والی بوٹ کے سمندر میں لاپتہ ہونے کا واقعہ ، اور وقفہ وقفہ سے ہونے والے سمندی حادثات میں ماہی گیروں کی ہلاکتیں، افسوس کہ یہ چیزیں اب معمولی سمجھی جانے لگی ہیں ، یہ اور بات کہ حکومتیں ، سماجی ادارے ، سرکاری ایجنسیاں سب ہی ان کے ساتھ ہمدردی دکھاتے ہیں اور اور کچھ کوشش بھی کی جاتی ہے مگر ان کوششوں کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آرہا ہے ، دبئی میں ماہی گیری کرتے ہوئے ہندوستانی ماہی گیر بالخصوص ساحلی کرناٹکا کے مچھیروں کی ایرانی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کو اب شاید چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہو رہا ہے مگر ان کی رہائی کی کوششیں بے سود ہوئی ہیں اوراس دوران ان ماہی گیروں کے گھروں کے معاشی حالات اتنہائی حد تک خراب ہو چکے ہیں، ادھر بیس بائیس دن سے ملپے سے ماہی گیری کے لئے اتری ایک بوٹ اور اس پر کام کر رہے سات ماہی گیروں کے لاپہ ہونے کے واقعہ کے بعد ماہی گیر مسلسل احتجاج کر کے حکومت سے اظہار ناراضی کر رہے ہیں ۔ ملپےسے شروع ہونے والی ریالی میں 25ہزار سے زیادہ مظاہرین کی موجود گی اورنیشنل ہائی وے پر’’راستہ روکو‘‘مظاہرہ ان کے درد و کرب کو سمجھنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی مانگ میں شدت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے، ریاستی وزیر ماہی گیر ان مسائل کو اگر سنجیدگی سے نہیں لیں گے تو یہ ماہی گیروں کے ساتھ ناانصافی ہو گی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن علاقوں کے ماہی گیر ان حالات سے دو چار ہیں ان کے کرب کو سمجھنے اور ان کے اہل خانہ کوتسلی دینے کی بجائے سیاسی نمائندے اپنا سیاسی داؤ کھلینے میں مصروف ہو گئے ہیں ۔ چونکہ ریاست میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی متحدہ سرکار ہے اس لئے بی جے پی کسی بھی واقعہ کی نزاکت کو بالائے طاق رکھ کر سیاست میں دلچسپی لینے لگی ہے ، بی جے پی کے بعض لیڈران نے اسے ریاستی حکومت کی کوتاہی قرار دے کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کی حالانکہ مرکز میں بی جے پی کے برسر اقتدار ہونے کی حیثیت سے ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مرکزی کی بی جے پی حکومت کی طرف سے ان ماہی گیروں کے تحفظ کے اقدامات کرتے ۔چونکہ بیانات دے کرسرخیوں میں رہنا زعفرانی پارٹی لیڈران کی پرانی روش ہے جس پر گفتگو لا حاصل ہے

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے گزر بسر کے لئے محفوظ وسائل ڈھونڈتے ہیں، مگر کچھ ہم جیسے انسان ایسے بھی ہیں جنکا معاش سمندری سفر کی مشکلات سے گھرا ہوا رہتا ہے ۔ وہ لوگ بے شمار مسائل سے جوجھتے ہیں ۔ ان کے معاش کا مکمل دارومدار مشکلات ، خطرات اور وحشت ناک مناظر سے بھرے ہوئے سمندر پر ہے اور اسی سے ان کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے ۔ کہتے ہیں  کہ

ہم تو بھپرے ہوئے طوفاں سے نکل آئے ہیں ۔    ہائے وہ جسکی ہےروزی کا سہارا دریا

ان حالات میں ضروری ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں پیدا شدہ حالات کا جائزہ لے کر جلد سے جلد کوئی قدم اٹھائے تاکہ متاثرین کے گھروالے راحت کی سانس لے سکیں۔ ورنہ اس پیشہ سے وابستہ بہت بڑی آبادی اپنے لئے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرے گی ،جو کہ ملک کے بگڑتے ہوئے اقتصادی حالات کے تناظر میں افسوسناک قدم ہوگا اوراسکے لئے بر سر اقتدار طاقتیں بہر طور ذمہ دار قرار پائیں گی ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/QKlyX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے